سچا سپاہی اور سیاست کا کھلاڑی
دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں مصروف فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت دینا کہاں کی دانش مندی ہے؟ جب سے کراچی میں رینجرز نے لینڈ مافیااور ٹارگٹ کلرز کے ساتھ تعلق کے شبے میں کچھ سرکاری افسران کو گرفتار کیا ہے ایک مخصوص مکتبہ فکر نے اپنے روایتی درباری انداز میں فوج کے سپہ سالار کو قوم کے دکھوں کامداوا کرنے کے لئے بلاوے دینے شروع کردئیے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سیاست میں مداخلت کرنی ہوتی تو ان کے لئے بہترین وقت 2014ء کا موسم برسات تھا جب وزیر اعظم سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر جاتے تھے تو وہاں بھی انہیں’’گو نواز گو‘‘ کا نعرہ سننا پڑتا تھا۔ یقیناً پارلیمنٹ میں موجود ا پوزیشن جماعتیں جمہوریت کی بقاء کے نام پر نواز شریف کے ساتھ کھڑی تھیں لیکن اسلام آباد میں سیاسی حکومت کی اتھارٹی صرف وزیر اعظم ہائوس تک محدود تھی۔
فوج اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی تو اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی لیکن جنرل راحیل شریف نے سیاست میں مداخلت کرنے کی بجائے اپنی توجہ آپریشن ضرب عضب پر مرکوز رکھی۔ 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت، سول سوسائٹی، میڈیا ا ور فوج متحد ہوگئےا ور یہ قومی اتحاد ہی تھا جو دہشت گردوں کے حوصلے پست کرنے کا باعث بنا۔ سانحہ پشاور کے وقت فوج اقتدار پر قابض ہوتی تو دہشت گردوں کے خلاف قومی اتحاد قائم کرنا ممکن نہ ہوتا۔ جنرل پرویز مشرف 1999ء سے 2008ء تک اقتدار پر قابض رہے۔ ان کے دور میں فوجی افسروں اور جوانوں نے وردی پہن کر پبلک مقامات پر جانا بند کردیا تھا کیونکہ مشرف نے فوج کو سیاست میں ملوث کردیا تھا۔ مشرف دور میں جس کسی نے فوج کو سیاست میں ملوث کرنے پر تنقید کی اسے غدار اور ملک دشمن قرار دیا گیا۔ موصوف نے کمال یہ کیا کہ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے پیپلز پارٹی کے ساتھ قومی مفاہمتی آرڈی ننس(این آر او) پر دستخط کئے۔
اس این آر او کے نتیجے میں کراچی کی جیلوں سے ہزاروں جرائم پیشہ افراد کو رہا کیا گیا اور کئی سیاستدانوں پر قائم کرپشن کے مقدمات ختم کردئیے گئے۔ مشرف کے این آر او نے صرف کچھ سیاسی جماعتوں کو نہیں بلکہ فوج کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ این آر او مشرف کے اقتدار کو دوام دینے کی بجائے ان کے زوال کا باعث بن گیا کیونکہ جیسے ہی انہوں نے فوجی وردی اتاری تو کچھ ہی مہینوں میں انہیں صدارت سے استعفیٰ دینا پڑگیا۔ مشرف کی اصل طاقت فوجی وردی تھی لیکن ان کی یہ طاقت ادارے کی کمزوری میں تبدیل ہوگئی اور اسی لئے ادارے نے اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھنا مناسب سمجھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سیاست میں مداخلت سے پرہیز کی پالیسی اور دہشت گردوں کے خلاف قربانیوں نے فوج کی ساکھ کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کوئی مانے یا نہ مانے لیکن جنرل پرویز مشرف اپنے اقتدار کے نوسال میں فوج کو وہ عزت و احترام نہ دلواسکے جو جنرل راحیل شریف نے پچھلے ایک سال میں دلوایا ہے۔ باخبر لوگ جانتے ہیں کہ 2014ء میں مشرف کی باقیات نے فوج کو سیاست میں دوبارہ ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن جنرل راحیل شریف کی پہلی ترجیح آپریشن ضرب عضب رہا۔ سیاست میں مداخلت سے پرہیز کی پالیسی کے باعث جنرل راحیل شریف پر نا صرف وزیراعظم نواز شریف بلکہ اپوز یشن جماعتوں نے بھی اعتماد کرنا شروع کردیا اور اسی اعتماد کے باعث ان اپوزیشن جماعتوں نے آئین میں ترمیم کے ذریعہ فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی۔ ملک کی اہم وکلا تنظیموں نے فوجی عدالتوں کو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دیا اور اب فوجی عدالتوں کے خلاف آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ مجھے سپریم کورٹ کے فل بینچ کی طرف سے ان درخواستوں پر کئی سماعتیں سننے کا موقع ملا ہے۔ میری عاجزانہ رائے میں فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے کر پارلیمنٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا لیکن پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں نے آنکھیں بند کرکے فوجی عدالتوں کی حمایت صرف اس لئے کی کہ ان کے سامنے جنرل پرویز مشرف نہیں بلکہ جنرل راحیل شریف کھڑا تھا۔
مشرف کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے والوں نے جنرل راحیل شریف پر محض اس لئے اعتماد کیا کہ انہوں نے فوج کو سیاست سے دور رکھا۔ سب جانتے ہیں کہ کچھ دن پہلے آصف زرداری کی ایک دھواں دھار تقریر کی وجہ کراچی میں رینجرز کے چھاپے تھے لیکن انہیں اپنی اس تقریر پر پیپلز پارٹی کے اندر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور شیری رحمان نے وضاحت کی کہ پیپلز پارٹی کا ہدف پرویز مشرف تھے، ان کی پارٹی جنرل راحیل شریف کا احترام کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس معذرت خواہانہ رویے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ملک کی کسی بڑی جماعت نے آصف زرداری کے بیان کی تائید نہ کی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو جماعتیں’’گو مشرف گو‘‘ کے نعرے لگا کر مشرف کو اقتدار سے نکال سکتی ہیں وہ جنرل راحیل شریف پر تنقید سے کیوں گریزاں تھیں؟ وجہ صاف ظاہر ہے، ماضی میں فوجی ڈکٹیٹروں سے لڑنے والے سیاستدان جنرل راحیل شریف سے خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس احترام کی وجہ صرف یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف نے فوج کو سیاست سے دور رکھا اور آپریشن ضرب عضب کے ذریعے پاکستانیوں کے دلوں میں فوج کے لئے عزت پیدا کی۔ جنرل راحیل شریف کے احترام کی اصل وجہ آپریشن ضرب عضب ہے۔ کراچی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر چھاپے کی کسی اہم سیاسی جماعت نے حمایت نہیں کی لیکن افسوس کہ اس چھاپے کے بعد سے کچھ ریٹائرڈ جرنیل اور چند ناکام سیاستدان فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت دے رہے ہیں۔
فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت دینے والے قوم کے دکھوں کا نہیں بلکہ اپنے ذاتی دکھوں کا مداوا چاہتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو آرمی چیف نہ بن سکنے کا دکھ ہے تو کسی کو سیاست و صحافت میں ناکامیوں کا دکھ ہے۔ فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت دینے والے کچھ ٹی وی اینکر وہ ہیں جو سیاستدان بننے کے لئے ٹی وی پر آئے تھے، نہ سیاستدان بن سکے نہ ٹی وی اینکر رہے۔ آرمی چیف کی خوشامد کرنے والے کچھ کالم نگار ایسے ہیں جن کا اصل پیشہ صحافت نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ انہوں نے کالم نگاری کے ذریعے اپنے گلے میں’’برائے فروخت‘‘ کا بورڈ لٹکا رکھا ہے۔ شاید انہیں کوئی سیاستدان یا کوئی پراپرٹی ڈیلر خرید لے تاکہ انہیں اپنے ناقدین کے خلاف ’’کرائے کے سپاہی‘‘ کے طور پر استعمال کرسکے لیکن یہ ’’برائے فروخت‘‘ اہل فکر و دانش قوم کے کسی سچے سپاہی کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ سچا سپاہی وہی ہے جو اس وقت جاگ رہا ہوتا ہے جب قوم سورہی ہوتی ہے۔ سچا سپاہی اپنی بندوق اپنی قوم پر نہیں ملک کے دشمنوں پر تانتا ہے۔ سچا سپاہی آئین و قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتا ہے۔ سچا سپاہی آئین کو توڑتا نہیں بلکہ آئین کا تحفظ کرتا ہے۔ سچے سپاہی سے اس کی قوم ڈرتی نہیں بلکہ اس سے پیار کرتی ہے۔ اس کا احترام کرتی ہے۔ سچا سپاہی خوشامدی اور ابن ا لوقت لوگوں کے بہکاوے میں آکر سیاست کا کھلاڑی نہیں بنتا بلکہ صرف سپاہی رہتا ہے۔ جنرل راحیل شریف ایک سچے سپاہی ہیں۔ وہ جنرل پرویز مشرف کی طرح سیاست کے کھلاڑی بن کر فوج کی ساکھ کو دائو پر لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘