.

صرف الطاف حسین کیوں؟…

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ جنوری1999ء کی بات ہے۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے چند صحافیوں کو آفیسرز میس راولپنڈی میں افطار پر مدعو کیا۔ افطار سے قبل گفتگو کا آغاز بڑے خوشگوار ماحول میں ہوا۔ مشرف ہمیں نواز شریف حکومت کی طرف سے بنائی گئی فوجی عدالتوں کے فوائد گنوا رہے تھے۔ وہ زیادہ تر ضیاء الدین صاحب اور مجھے مخاطب کررہے تھے اور کہہ رہے کہ اگر فوجی عدالتوں کو کام نہ کرنے دیا گیا تو پھر پاکستان کو دشمنوں سے پاک کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ افطار کے بعد ہم ڈنر ٹیبل پر بیٹھے تو ضیاء الدین صاحب نے کہا کہ تاثر یہ ہے کہ فوجی عدالتوں کو کچھ سیاسی جماعتوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا اور ایسی صورت میں فوج متنازع بن سکتی ہے۔

صدر مشرف نے جھٹ سے کہا کہ فوج کسی سیاسی جماعت کو ٹارگٹ نہیں کرے گی لیکن چند ملک دشمن افراد کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا کہ یہ ملک دشمن افراد کون ہیں تو موصوف نے کہا کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ الطاف حسین کو اپنے ہاتھ سے گولی ماردیں کیونکہ الطاف حسین بھارتی ایجنٹ ہے۔ ڈنر ٹیبل پر موجود جنرل عزیز خان نے ان کی تائید میں سرہلایا تو صدر مشرف نے مزید فرمایا کہ انہیں کوئی شک نہیں کہ الطاف حسین اور عاصمہ جہانگیر پاکستان کے دشمن ہیں۔اس موقع پر صدر مشرف اور ضیاء الدین صاحب کے درمیان کچھ تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور پھر گفتگو کا رخ مسئلہ کشمیر کی طرف مڑ گیا۔ صدر مشرف نے سینے پر ہاتھ مار کر کہا کہ وہ صرف تین دن میں کشمیر آزاد کراسکتے ہیں۔ ضیاء الدین صاحب نے مسکرا کر کہا کہ آپ کشمیر کو فتح نہیں کرسکتے آپ صرف اور صرف ہمیں فتح کرسکتے ہیں اور اس کے بعد صدر مشرف نے تفصیل کے ساتھ ہمیں وہ سب کچھ بتایا جو کچھ دنوں کے بعد انہوں نے کارگل میں کیا۔

ضیاء الدین صاحب کشمیر کی فتح کے اس منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیتے رہے لیکن میں صدر مشرف کی باتوں میں آچکا تھا اور مجھے ان کے منصوبے میں کشمیر کی آزادی ممکن دکھائی دی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ چند ہفتوں بعد کارگل کی جنگ شروع ہوئی اور عالمی میڈیا میں پاکستانی فوج پر تنقید شروع ہوئی تو میں فوج کے دفاع میں پیش پیش تھا کیونکہ مجھے کشمیر کی آزادی بہت قریب دکھائی دے رہی تھی لیکن میں غلطی پر تھا۔ جنوری 1999ء کے افطار ڈنر پر صدر پرویز مشرف کے ساتھ فوجی عدالتوں پر اختلاف اور کارگل آپریشن پر اتفاق کا قصہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ آج دوبارہ اس قصے کو بیان کرنے کی وجہ صرف یہ عرض کرنا ہے کہ 1999ء کے رمضان المبارک میں صدر پرویز مشرف اپنے ہاتھ سے الطاف حسین کو گولی مارنا چاہتے تھے کیونکہ وہ الطاف حسین کو بھارتی ایجنٹ سمجھتے تھے۔

اکتوبر 1999ء میں صدر مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا اور کچھ ہی عرصے میں الطاف حسین صاحب کی متحدہ قومی موومنٹ صدر پرویز مشرف کی اتحادی بن گئی۔ مجھے یاد ہے کہ 2004ء میں اس خاکسار نے ایوان صدر میں صدر مشرف کو الطاف حسین کے متعلق ان کے پرانے الفاظ یاد دلائے تو انہوں نے کہا کہ اوئے یار! پچھلی باتیں چھوڑو، ایم کیو ایم ایک سیاسی حقیقت ہے اور ہم اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے۔ میں نے کہا آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ا یک سیاسی حقیقت ہے تو پھر آپ نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ کو بھی ایک سیاسی حقیقت تسلیم کرلیں لیکن جنرل صاحب کو میری گستاخی ناگوار گزری اور انہوں نے نواز شریف کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن قرار دے ڈالا۔ مجھے یہ پرانے قصے اس لئے یاد آرہے ہیں کہ آج کل میڈیا پر بی بی سی کی ایک رپورٹ کا بڑا چرچا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کو بھارتی حکومت سے مالی امداد ملتی رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایم کیو ایم کے ایک رہنما سید طارق میر کی طرف سے برطانوی حکام کو دئیے گئے ایک بیان کے کچھ حصے بھی جاری کئے گئے ہیں۔ اس بیان کے مطابق ایم کیو ایم 1994ء سے بھارتی حکومت کے رابطے میں ہے۔ برطانوی حکومت نے ابھی تک اس بیان کی تصدیق نہیں کی اگر یہ بیان درست ہے تو 1999ء میں صدر مشرف نے ہمیں جو کچھ بتایا وہ بھی درست تھا۔

آج بہت سی سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کررہی ہیں لیکن یہ بھول رہی ہیں کہ یہ ایم کیو ایم 2002ء سے 2008ء تک صدر مشرف کی اتحادی تھی اور آج بھی صدر مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں ان کا دفاع کرنے والے دو اہم وکیل بیرسٹر فروغ نسیم اور بیرسٹر محمد علی سیف ایم کیو ایم کے سینیٹر ہیں، اگر ایم کیو ایم غدار ہے تو صدر پرویز مشرف کیا ہیں؟ کیا صدر پرویز مشرف ایم کیو ایم کے وکلاء کی خدمات واپس کرنے کا اعلان کریں گے؟

کچھ عرصہ پہلے تک میڈیا میں ایم کیو ایم پر تنقید کرنا بہت مشکل تھا۔ 2006ء میں الطاف حسین نے دہلی میں ایک تقریر کرتے ہوئے متحدہ ہندوستان کی تقسیم کو ایک بہت بڑی غلطی قرار دیا تھا۔ ان کی اس تقریر پر میں نے’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں ایک سے زائد مرتبہ گفتگو کی تو الطاف حسین صاحب نے مجھ سے شکوہ کیا تھا۔ ان کا شکوہ اپنی جگہ لیکن اگر صدر مشرف چاہتے تو اس تقریر کی بنیاد پر الطاف حسین کے خلاف قانونی کارروائی ضرور کرسکتے تھے۔ کم از کم الطاف حسین کو ایم کیو ایم سے علیحدہ ضرور کرسکتے تھے لیکن وہ خاموش رہے۔ آج بی بی سی کی ایک رپورٹ اور سید طارق میر کے ایک بیان کی بنیاد پر ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ میں نے پچھلے تین دن میں پاکستان اور برطانیہ کے کئی قانونی ماہرین سے پوچھا ہے کہ بی بی سی کی رپورٹ اور سید طارق میر کے بیان کی بنیاد پر حکومت پاکستان کیا کارروائی کر سکتی ہے؟

قانونی ماہرین کی اکثریت کے خیال میں الطاف حسین کے لئے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس ایک بڑا خطرہ ضرور ہے لیکن بھارت کے ساتھ ان کے روابط ثابت کرنا ایک مشکل کام ہے اور اگر یہ مشکل کام ہو بھی گیا تو پھر معاملہ ایم کیو ایم تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ماضی میں بوقت ضرورت ایم کیو ایم کا سیاسی استعمال کرنے والوں کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھیں گے۔ ایم کیو ایم کا سب سے زیادہ سیاسی استعمال صدر مشرف نے کیا۔ ابھی تک ایم کیو ایم کے دو سینیٹر صدر مشرف کاقانونی دفاع کررہے ہیں۔ بیر سٹر محمد علی سیف برطانیہ میں الطاف حسین اور پاکستان میں صدر مشرف کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ2007ء میں مشرف کی نگران کابینہ کے وزیر بھی تھے۔ بیر سٹر سیف کو یقین ہے کہ نہ تو الطاف حسین پر بھارت کے ساتھ روابط کا الزام ثابت ہوگا نہ صدر مشرف پر غداری کا الزام ثابت ہوگا۔ ہماری تاریخ میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جن پر ملک دشمنی کے الزامات ثابت ہوگئے انہیں بھی سیاست سے نکالا نہ جاسکا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا گیا اور کہا گیاکہ نیپ نے لندن پلان کے ذریعہ پاکستان توڑنے کی سازش تیار کی۔ سپریم کورٹ میں ولی خان کی تقاریر کاریکارڈ پیش کیا گیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر پاکستان کی سلامتی کے خلاف باتیں کیں۔ سپریم کورٹ نے نیپ پر پابندی عائد کردی لیکن جب جنرل ضیاء الحق اقتدار میں آئے تو انہوں نے حیدر آباد جیل میں نیپ کے گرفتار لیڈروں سے ملاقات کی اور بھٹو دشمنی میں سب کو رہا کردیا۔ یہ نیپ آج کل اے این پی، نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل اور کچھ دیگر پارٹیوں کی صورت میں موجود ہے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں بھارتی ایجنٹ قرار دے کر کسی کو سیاست سے نہیں نکالا جاسکتا ،الطاف حسین اور بھارتی حکومت کے روابط کی تحقیقات ضرور کی جائیں لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ الطاف حسین اور صدر مشرف کے روابط کی بھی تحقیقات کریں۔ کیا الطاف حسین کو صدر مشرف کے قانونی و سیاسی دفاع کا حکم بھی کسی غیر ملکی طاقت نے دیا تھا؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.