.

ایک نیا سیاسی طوفان؟

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جو قومیں اپنے مذہبی تہواروں کو مذاق بنادیں وہ خود ایک مذاق بن جایا کرتی ہیں۔ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی گراں فروش اور ذخیرہ اندوز دونوں ہاتھوں سے اس قوم کو لوٹنا شروع کرتے ہیں اور جب رمضان ختم ہوتا ہے تو بچا کھچا مال یہ قوم خود ہی لٹانا شروع کردیتی ہے اور کئی دن تک لٹاتی رہتی ہے۔ عید گزر چکی لیکن عید کی چھٹیاں ابھی تک ختم نہیں ہوئیں اور ان خود ساختہ چھٹیوں میں لوٹنے اور لٹانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔عیدالفطر تین دن کی ہوتی ہے لیکن ہمارے اکثر اہل وطن عید سے دو دن قبل چھٹیاں شروع کردیتے ہیں اور عید کے بعد چھ سات دن تک مزید چھٹیاں کرنے کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ وہ عید جو پچھلے پیر کو ختم ہوچکی وہ اگلے پیر کو بمشکل ختم ہوگی۔

ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی عید کی چھٹیوں میں حکمرانوں کو خوب کوسا گیا۔ ان چھٹیوں میں سب سے زیادہ بحث اس سوال پر ہوئی کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنی عید پاکستان سے باہر کیوں منائی۔ اس سوال کے دو جواب سامنے آئے۔ ایک عید ملن میں کچھ وزراء سے بار بار یہی سوال پوچھا جارہا تھا تو ایک وفاقی وزیر نے اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کرکے بڑی متانت سے کہا کہ رمضان کے آخری دنوں میں عمرہ کرنا اور عید سعودی عرب میں منانا ایک سعادت ہے جو صرف نصیبوں والوں کو ملتی ہے۔ اس سعادت کو متنازع نہ بنایا جائے تو بہتر ہے۔

یہ سن کر بہت سے شرکائے محفل کو اپنا ایمان خطرے میں محسوس ہوا اور وہ خاموش ہوگئے لیکن ایک گستاخ نوجوان نے کہا کہ چلو مان لیا وزیراعظم صاحب بڑے نیک ہیں اس لئے انہوں نے عید سعودی عرب میں گزاری لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب تو انہی کے بھائی ہیں وہ اپنی عید لندن میں کیوں گزارتے ہیں؟ یہ سوال سن کر وفاقی وزیر نے امداد طلب نظروں سے ایک صوبائی وزیر کی طرف دیکھا۔ صوبائی وزیر نے اپنا سر کھجایا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے میڈیکل چیک اپ کے لئے لندن گئے ہیں لیکن ویڈیو لنک پر مسلسل ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں۔ گستاخ نوجوان نے مسکرا کر کہا کہ کوئی اللہ سے قریب ہونے کے لئے سعودی عرب چلا جاتا ہے، کوئی زندگی سے قریب ہونے کے لئے لندن چلا جاتا ہے ہم نے تو کتابوں میں یہ پڑھا ہے کہ اللہ کے قریب وہی ہوتا ہے جو اللہ کی مخلوق کے قریب رہتا ہے اور اللہ کی مخلوق صرف سعودی عرب میں نہیں پاکستان میں بھی رہتی ہے۔

حکمرانوں کی طرف سے عید بیرون ملک منائے جانے کے سوال پر ایک دوسرا نقطہ نظر بھی سننے کو ملا۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ انہوں نے آصف علی زرداری کو عیدالفطر پاکستان میں منانےکا مشورہ دیا۔ زرداری صاحب نے عید سے ایک دن قبل کراچی آنے کی حامی بھی بھرلی لیکن پھر سیکورٹی اداروں نے عید الفطر پر کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے خطرات کے بارے میں تحریری وارننگ جاری کردی۔ ایک تحریری مراسلے میں کہا گیا کہ سب سے زیادہ خطرہ بلاول بھٹو زرداری کو ہے لہٰذا بلاول اور ان کے والد نے عید دبئی میں منانے کا فیصلہ کیا۔ یہ سن کر میں نے پوچھا کہ چلیں مان لیا آصف علی زرداری اور بلاول کی جان کو خطرہ تھا اس لئے وہ دبئی چلے گئے لیکن قائم علی شاہ کہاں تھے؟

پیپلز پارٹی کے رہنما نے بڑے فخریہ انداز میں کہا کہ ہمارے شاہ صاحب بھی عمرہ ادا کرنے گئے تھے۔ عید کے تیسرے دن محترم عطاء الحق قاسمی صاحب نے لاہور میں ادیبوں، شاعروں اور کالم نگاروں کو ایک ظہرانے پر مدعوکیا۔ اس ظہرانے میں شہر کے چیدہ چیدہ باخبر صحافیوں کا تڑکا بھی موجود تھا۔ اس ظہرانے میں مجیب الرحمان شامی صاحب سے لے کر سہیل وڑائچ صاحب تک اور وجاہت مسعود ، یاسر پیرزادہ، رئوف طاہر، پرویز بشیر اور سلمان غنی سے لے کر بیدار بخت بٹ تک اکثر شرکاء ایک دوسرے سے یہ پوچھ رہے تھے کہ سیلاب اور بارشوں کے موسم میں حکمرانوں کی ملک میں غیر موجودگی کا فائدہ کسے اور نقصان کسے ہوگا؟ ایک شاعر نے دھیرے سے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ….’’جیسے عوام ویسے حکمران‘‘۔ موصوف نے کہا کہ نواز شریف، آصف زرداری اور عمران خان کی جماعتیں صرف نام کی حکمران ہیں۔اصل حکمران کوئی اور ہیں اور انہوں نے عید پاکستان میں منائی لیکن یہ بات نہ آپ کہہ سکتے ہیں نہ میں کہہ سکتا ہوں اس لئے بہتر یہی ہے کہ علامتی انداز میں گفتگو کی جائے۔

عطاء الحق قاسمی صاحب کے ظہرانے کی محفل میں کچھ شرکاء کا انداز علامتی اور کچھ کا ملامتی بھی تھا۔ 29 رمضان المبارک کو سحری کے وقت کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے سے لے کر بلوچستان کے حالات پر زوردار بحث ہوئی۔ اکثر شرکاء کا خیال تھا کہ الطاف حسین کے احتساب کے لئے برطانیہ میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ کافی تھا۔ اس مقدمے کے نتائج کا انتظار کیا جاتا تو بہتر تھا لیکن الطاف حسین پر سوسے زیادہ بغاوت کے نئے مقدمے درج کرکے اور 29 رمضان المبارک کو نائن زیرو پر چھاپہ مار کر ایم کیو ایم کو مظلوم بنایا جارہا ہے۔ الطاف حسین کے خلاف الزامات اور مقدمات اپنی جگہ لیکن ان کی طرف سے بھوک ہڑتال کا اعلان حکومت کے لئے کئی سیاسی مشکلات پیدا کرسکتا ہے اور ان سیاسی مشکلات کا کوئی سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ عید کی ان چھٹیوں میں کئی دوست احباب یہ بھی پوچھتے رہے کہ تحریک انصاف کے مطالبے پر 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم ہونے والے جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ کب سامنے آئے گی؟

منظم دھاندلی کا الزام ثابت ہوگا یا نہیں؟ کچھ نکتہ دانوں کا خیال ہے کہ عمران خان کی طرف سے 35 پنکچروں کے الزام کو سیاسی بیان قرار دئیے جانے کے بعد ان کے موقف میں کوئی وزن نہیں رہا۔ مجھے اس رائے سے اتفاق نہیں، عمران خان نے مجھے انٹرویو دیتے ہوئے 35 پنکچروں کے الزام کو سیاسی بیان قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ اعتراف میرے سوالات کے جواب میں کیا اور فتح کے شادیانے کسی اور نے بجا دئیے۔ سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل انکوائری کمیشن کے سامنے بھی 35 پنکچروں کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن یہ فیصلہ عبدالحفیظ پیرزادہ کا تھا۔ پیرزادہ صاحب نے اپنا مقدمہ خالصتاً قانونی انداز میں پیش کیا۔ انکوائری کمیشن کے سامنے مجھے بطور گواہ پیش کیا گیا اور چار مختلف وکلاء نے مجھ پر جرح بھی کی۔

میں نے ایک دفعہ نہیںکئی مرتبہ انکوائری کمیشن کی سماعت سنی۔ کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے سے قبل کوئی حتمی رائے دینا مناسب نہیں لیکن جو میں نے دیکھا اور سنا وہ 35 پنکچروں سے بہت آگے کی بات ہے۔ عمران خان 2013ء کے انتخابات میں منظم دھاندلی کے ماسٹر مائنڈ کو تو سامنے نہیں لا سکے لیکن ان کی وجہ سے انتخابات میں دھاندلی کے لاتعداد ثبوت ضرور سامنے آئے۔ زیادہ تر ثبوت تحریک انصاف نہیں بلکہ پیپلز پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی طرف سے سامنے لائے گئے۔ ایسے ثبوت بھی سامنے آئے جن سے پتہ چلا کہ بلوچستان کے کچھ حلقوں میں سرے سے الیکشن نہیں ہوا لیکن یہاں کچھ امیدواروں کی کامیابی کا اعلان کردیا گیا۔ جوڈیشل کمیشن ان ثبوتوں کو کیسے نظر انداز کرے گا؟ کم از کم ایک صوبے میں ننگی دھاندلی ضرور ثابت ہوگئی جسے عمران خان اپنی کامیابی قرار دیتے نظر آئیں گے۔ عید کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ ایک نئے سیاسی طوفان کو جنم دے سکتی ہے اور کئی سیاسی رہنما اس طوفان میں ایک دوسرے کو بچانے کے بجائے ایک دوسرے کو غرق کرنے کی کوشش کریں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.