سازش ختم نہیں ہوئی

حامد میر
حامد میر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

عمران خان اس شخص کو تلاش کریں جس نے انہیں گندے پانی کے جوہڑ میں اتر کر نیا پاکستان بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ خان صاحب کو معلوم نہیں تھا کہ اس جوہڑ میں بڑے بڑے مگرمچھوں کا بسیرا ہے۔ وہ 2013ءکے انتخابات میں منظم دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبے کی بالٹی اٹھا کر جوہڑ میں اتر گئے اور بڑی تندہی سے بالٹی کے ذریعہ جوہڑ کا گندا پانی باہر پھینکنے لگے لیکن مگر مچھوں کو خان صاحب کی یہ گستاخی ناگوار گزری۔ وہ خان صاحب پر حملہ آور ہوگئے۔ خان صاحب بچائو کے لئے جوہڑ سے باہر نکلنے لگے تو ایک مگر مچھ نے ان کی ٹانگ اپنے منہ میں دبوچ لی۔ خان صاحب اتنے کمزور نہیں، اگر وہ اپنے مطالبات کی بالٹی گھما کر مگر مچھ کے سر پر رسید کریں تو اپنی ٹانگ کو بچا سکتے ہیں لیکن وہ اس بالٹی کے ساتھ ہی جوہڑ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔

امید ہے کہ وہ باہر نکل آئیں گے اور ہمیں اس شخص کا نام ضرور بتائیں گے جس نے انہیں2014ء میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنے کا مشورہ دیا۔ جب دھرنے کے مقاصد پورے نہ ہوئے تو پھر دھرنے سے نکلنے کے لئے انہیں جوڈیشل کمیشن کے مطالبے میں پھنسا دیا گیا۔ یہ کمیشن صرف انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم کیا جاتا تو عمران خان واقعی سرخرو ہوتے اور پاکستان کو بھی بہت فائدہ ہوتا لیکن بدقسمتی سے عمران خان ایک ایسی منظم دھاندلی کا منصوبہ سامنے لانا چاہتے تھے جس میں مبینہ طور پر مسلم لیگ(ن) نے ریٹرننگ افسران کے ذریعہ عوام کا مینڈیٹ چرایا تھا۔ عمران خان کے مطالبے پر سپریم کورٹ کے تین ججوں پرمشتمل کمیشن قائم ہوگیا۔ کمیشن کی سماعت کے دوران منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت سامنے لایا گیا نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اس منظم دھاندلی کا ماسٹر مائنڈ کون تھا؟

عمران خان کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ ریٹرننگ افسران کی نااہلیوں اور کوتاہیوں کے قصے بیان کرتے رہے۔ ریٹرننگ افسران ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہوتے ہیں جو پریذائڈنگ افسران کے ساتھ مل کر انتخابات کراتے ہیں۔ عمران خان ججوں پر دھاندلی کا الزام لگا کر ججوں سے تحقیقات کرارہے تھے اور منظم دھاندلی کے ماسٹر مائنڈ کا نام بھی نہیں لے رہے تھے۔ آخر کار جوڈیشل کمیشن کا نتیجہ وہی آیا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ جوڈیشل کمیشن کے سامنے2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے ناقابل تردید ثبوت پیش کئے گئے جن کا ذکر کمیشن کی رپورٹ میں موجود ہے۔

رپورٹ کے صفحہ 75 پر ان ثبوتوں کا ذکر ہے جو میں نے کمیشن کے سامنے پیش کئے۔ یہ ثبوت چاروں صوبوں اور فاٹا کے 16حلقوں کے متعلق تھے۔ سپریم کورٹ میں ایک ویڈیو پیش کی گئی جس میں بیلٹ پیپرز پر دھڑا دھڑ ٹھپے لگائے جارہے تھے۔ صفحہ75پر موجود پیرا277میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف دھاندلی کے ثبوت کا ذکر ہے۔ اسی صفحے پر تحریک انصاف کے حق میں کی گئی دھاندلی کا ثبوت بھی موجود ہے لیکن رپورٹ کے آخر میں کمیشن نے اس دھاندلی کو کوتاہی قرار دیا ہے۔ عمران خان نے کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کرلیا ہے لیکن اپنے الزامات پر وہ بدستور قائم ہیں۔

کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے سے کافی دن پہلے اس خاکسار نے عمران خان سے کہا تھا کہ عبدالحفیظ پیرزادہ کمیشن کے سامنے منظم دھاندلی ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن عمران خان نے مجھ سے اتفاق نہیں کیا۔ نجانے کیوں انہیں یقین تھا کہ کمیشن کا فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔ بہرحال عمران خان کا اندازہ غلط نکلا، میری ناقص رائے میں2013ء کے انتخابات مکمل طور پر صاف اور شفاف نہیں تھے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سمیت تمام بڑی جماعتوں نے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر دھاندلی کا شور مچایا۔ دھاندلی کرنے والے چاروں صوبوں میں چار مختلف جماعتوں کی حکومت لانا چاہتے تھے اور مرکز میں ایک کمزور مخلوط حکومت کا خاکہ بھی تیار تھا۔ چاروں صوبوں میں چار مختلف جماعتوں کی حکومت تو آگئی لیکن مرکز میں مخلوط حکومت کا منصوبہ کامیاب نہ ہوا۔ منصوبہ ساز نواز شریف اور عمران خان میں سے کسی کو بھی وزیر اعظم نہیں بنانا چاہتے تھے لیکن ان کی خواہشات کے برعکس نواز شریف وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوگئے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد نواز شریف نے عمران خان سے خود جاکر ملاقات کی اور صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا راستہ روکنے سے بھی گریز کیا لیکن غلط لوگوں کے غلط مشوروں کے باعث عمران خان نے نواز شریف سے محاذ آرائی شروع کردی۔ کچھ غلطیاں مسلم لیگ(ن) سے بھی ہوئیں اور یوں ملک و قوم کے دو سال سیاسی محاذ آرائی کی نذر ہو گئے۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد عمران خان کا بہت مذاق اڑایا جارہا ہے۔ وہ تجزیہ نگار اور ٹی وی اینکر جو ایک سال پہلے روزانہ نواز شریف کو گھر بھیج رہے تھے آج کل عمران خان سے معافی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ میرے قارئین گواہ ہیں کہ میں عمران خان کے لانگ مارچ اور دھرنے کے ناقدین میں شامل تھا لیکن میں آج بھی دھاندلی کے الزام کو درست سمجھتا ہوں۔ دھاندلی سب نے کی اور سب کے ساتھ ہوئی لیکن عمران خان کی غلط حکمت عملی کے باعث دھاندلی کرنے والے پوری طرح بے نقاب نہ ہوسکے۔ مجھے یقین ہے کہ آج نہیں تو کل دھاندلی کے منصوبہ ساز ضرور بے نقاب ہوں گے۔ یہ وہی تھے جنہوں نے عمران خان کو یقین دلایا تھا کہ 14 اگست2014ء کو ان کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے پہلے نواز شریف وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوجائیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کے دھرنے کے پیچھے سازش کا پتہ لگانے کے لئے پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے۔ شہباز شریف بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان کا دھرنا تو اگست2014ء میں شروع ہوا تھا لیکن نواز شریف حکومت کے خلاف سازش اگست 2013ءمیں شروع ہوگئی تھی۔ یکم اگست 2013ءکو میرے کالم کا عنوان تھا…….’’سازش شروع ہوچکی‘‘۔ نواز شریف کا اصل قصور یہ تھا کہ انہوں نے جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف بنایا۔ سازشی عناصر کسی اور کو آرمی چیف بنوانا چاہتے تھے اور شہباز شریف جانتے ہیں کہ سازشی عناصر کس کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے۔

پچھلے دنوں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام نے ذاتی عناد کے باعث منتخب حکومت کے خلاف سازش کی کیونکہ حکومت نے جیو ٹی وی کے خلاف ان کی مرضی کے مطابق کارروائی نہ کی۔ خواجہ صاحب کی یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ جب جنرل ظہیر حاضر سروس تھے تو آپ نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ آپ کے پاس جیو کی غداری کے ثبوت موجود ہیں۔ آپ وہ ثبوت تو سامنے نہ لائے اب جنرل ظہیر کے خلاف ثبوت تو سامنے لے آئیں۔

خواجہ صاحب کو اچھی طرح پتہ ہے کہ اصل بات کیا تھی؟ جیو کا معاملہ تو19 اپریل 2014 کو شروع ہوا جبکہ میں نے نومبر2013ء میں جیو نیوز پر کیپیٹل ٹاک میں بتادیا تھا کہ 2014ء میں ایک لانگ مارچ ہوگا جس میں نواز شریف سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ استعفیٰ دے دیں لیکن اصل مقصد نواز شریف سے استعفیٰ لینا نہیں بلکہ پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے سے بچانا ہوگا۔ فی ا لحال تو یہی نظر آتا ہے کہ یہ منصوبہ کامیاب رہا۔ عمران خان ہار گئے اور پرویز مشرف جیت گئے۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نہ کسی کی کامیابی ہے اور نہ ہی ناکامی۔ سازش ابھی ختم نہیں ہوئی۔ سازشی عناصر آج کل دبئی میں سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ انہیں پکڑ ے جانے اور احتساب کا کوئی خوف نہیں۔ وہ حب الوطنی کے نام پر نواز شریف، آصف زرداری اور اب عمران خان کو بھی سیاست سے آئوٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اس نئی فلم کا ٹریلر بہت چلنے والا ہے۔
---------------
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں