.

افغانستان اورہم؟

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار علی خان کا بھی جواب نہیں ،ترنگ میں ہوں تو ایسے شاہکار جملے کہہ جاتے ہیں کہ میڈیا کئی ہفتے جگالی کرتا رہے ۔ مثال کے طور پر جب تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھ رہی تھی تو موصوف نے طالبان کو دوستانہ کرکٹ میچ کھیلنے کی دعوت دے ڈالی ۔ایک موقع پر فرمایا ،طالبان ملک دشمن نہیں حکومت دشمن ہیں۔ اچانک انہیں یہ الہام ہوا کہ اسلام آباد کی سیکورٹی فول پروف ہے ،دہشت گردوں نے اگلے ہی دن اسلام آباد کچہری میں خود کش دھماکہ کر کے ان کی یہ غلط فہمی دور کر دی۔ سب کا خیال تھا کہ وزیر داخلہ ہونے کے ناتے وہ اپنے زیر انتظام کام کر نے والے تحقیقاتی اداروں کو اس معاملے کی جانچ پڑتال کا کہیں گے مگر انہوںنے ملزموں کا سراغ لگانے کیلئے طالبان سے مدد مانگ لی۔

ابھی قوم اس ادھیڑ بن میں تھی کہ انہوں نے یہ انکشاف کر ڈالا کہ سیشن جج کی موت خود کش حملے میں نہیں ہوئی بلکہ وہ اپنے محافظ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔یوں تو گزشتہ 27ماہ کے دوران انہوں نے بیسیوں ایسے بیانات جاری کئے ہیں جنہیں سنہری حروف سے لکھا جانا چاہئے مگرحال ہی میں دیئے گئے ان کے ایک فکر انگیز بیان کو کسی نے درخور اعتنا ء نہیں گردانا تو میں نے سوچا قارئین کی توجہ اس جانب مبذول کروا کر دعوت فکر و عمل دوں ۔ فرماتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کا چوکیدار نہیں ۔یوں تو ان کا فرمایا ہوا ہمیشہ سے مستند ہی ہوا کرتا ہے مگر اس قولِ ’’نثار‘‘ پر تو وارفتگی کا یہ عالم ہے کہ دل چاہتا ہے نثار ہی ہو جائوں ۔ اسی نشست میں انہوں نے یہ گوہر افشانی بھی کی کہ پاکستان میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اس لئے یہاں حکومت کرنا مشکل ترین کام ہے ۔جو انہوں نے فرمایا ،وہ پوری قوم کا سرمایہ مگر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ خدا جانے حکومت کرنے کے اس مشکل ترین کام کیلئے سب مارے مارے کیوں پھرتے ہیں ۔

اگر واقعی یہ جان جوکھوں کا کام ہے تو لوگ کونسلر اور یونین کونسل کے چیئرمین کا عہدہ پانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور کیوں لگا رہے ہیں ؟مگر اس دوسرے جملے میں الجھنے کے بجائے آج ان کے پہلے جملے پر ہی توجہ مرکوز رکھی جائے تو بہتر ہو گا کہ پاکستان افغانستان کا چوکیدار نہیں ۔ بدقسمتی سے پاک افغان تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے ۔30ستمبر 1947ء کو رکنیت کے حصول کیلئے پاکستان کی درخواست اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش ہوئی تو افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ قیام پاکستان کے وقت افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ سے لیکر چند برس پہلے تک حکومت کرنیوالے حامد کرزئی تک کوئی ایک حکمراں بھی ایسا نہیں آیا جسے پاکستان نواز کہا جا سکے ۔روس کی افغانستان پر فوج کشی سے بھی کہیں پہلے سرحد پار سے دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے تھے ،کبھی پاکستان افغانستان کو مورد الزام ٹھہراتا تو کبھی افغانستان چارج شیٹ پیش کرتا۔

8 فروی 1975ء کو آفتاب احمد شیر پائو کے والد وزیر اعلیٰ حیات محمد خان شیر پائو ایک بم دھماکے میں مارے گئے تو پاکستان نے کہا کہ اس واقعہ میں افغانستان کا ہاتھ ہے۔وزیر داخلہ خان عبد القیوم خان نے دھمکی دی کہ اگر پاکستان کو مجبور کیا گیا تو وہ جوابی اقدامات کرے گا۔پاکستان نے اپنے ہمسایہ ملک کو سبق سکھانے کیلئے دو افغان باغی رہنمائوں گلبدین حکمت یار اور پروفیسر برہان الدین ربانی کو پاکستان میں پناہ دی اور گوریلا کارروائیوں کیلئے استعمال کیا جس کے جواب میں افغان حکومت نے پاکستان سے ناراض عبدالغفار خان اور اجمل خٹک کی مہمان نوازی کی۔اس دوران 26دسمبر 1979 ء کو روس نے اپنی فوجیں کابل ایئر پورٹ پر اتار دیں ،حفیظ اللہ امین کو صدارتی محل میں گولیوں سے بھون ڈالا اور اپنے منظور نظر ببرک کارمل کو افغانستان کا اقتدار سونپ دیا گیا جو اس سے پہلے مشرقی یورپ کے ایک ملک میں سفارتکاری کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔جنرل کے ایم عارف اپنی خود نوشت Working with ziaمیں لکھتے ہیں کہ 28دسمبر 1979ء کو اسلام آباد میں روسی سفیر مسٹر عظیموف نے جنرل ضیاء سے ملاقات کی ۔

انہوں نے جنرل ضیاء کو بتایا کہ ان کے ملک نے افغان حکومت کی درخواست پر محدود فوجی دستہ وہاں بھیجا ہے تاکہ ’’بیرونی مداخلت ‘‘سے نمٹا جا سکے ۔ان سے جب پوچھا گیا کہ روسی ا فواج کو بھجوانے کی درخواست کس نے کی تھی ،تو ان کا فوری جواب تھا ’’مسٹر ببرک کارمل نے‘‘لیکن جب اگلا سوال پوچھا گیا تو سفیر موصوف کھسیانے ہو کر رہ گئے ۔سوال یہ تھا کہ مسٹر ببرک کارمل یہ درخواست کیسے اور کس حیثیت میں کر سکتے تھے جبکہ وہ اس وقت کابل میں تھے ہی نہیں ؟انہوںنے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا اور پھر بولے مجھے تمام حقائق کا علم نہیں ۔

سوال یہ ہے کہ جب ہم نے افغان جنگ میں کودنے کا فیصلہ کیا تو ہمیں کس کے ذریعے بلاوا بھیجا گیا تھا ؟کیا افغان حکومت کی طرف سے کسی قسم کی مدد مانگی گئی تھی کہ ہمارے ملک کو غیر ملکی جارحیت کا سامنا ہے ،آپ آئیں اور ہماری مدد کریں ؟سچ یاد آیا ہمیں افغان عوام کی جانب سے دہائی دی گئی تھی کہ ہمیں روس کے غاصبانہ قبضے سے نجات دلائو۔مگر صاحب ! ہم نجات دہندہ تھےاور اگر ہم افغان عوام کے محسن ہیں ،ان کی خاطر ہم ایک پرائی جنگ میں کود پڑے تو وہ ہمارے ممنون و مشکور ہونے کے بجائے پاکستان سے نفرت کیوں کرتے ہیں ؟انہوں نے ہمارے ساتھ دشمنی کی ،ہر موقع پر ہماری مخالفت کی ،ان کی زبانیں ہمارے خلاف زہر اگلتی تھیں ،ان کی دوستیاں ان ممالک سے تھیں جو ہمارے دشمن تھے تو پھر ہم مان نہ مان میں تیرا مہمان کے مصداق ان کے چوکیدار کیوں بنے ؟

اگر ہم افغانستان کے چوکیدار نہیں تو برسہا برس امریکہ کی سربراہی میں افغان جہاد کا بیڑا کیوں اٹھائے رکھا ؟ا گر ہم افغانستان کے چوکیدار نہیں ہیں تو روسی افواج کے انخلاء کے بعد ہمیں یہ فکر کیوں لاحق تھی کہ کابل کے صدارتی محل میں کون تخت نشین ہوتا ہے ۔ہم اپنے من چاہے وار لارڈز کو برسر اقتدار لانے کی کوشش کیوں کرتے رہے؟ اگر ہم افغانستان کے چوکیدار نہیں تو پھر تذویراتی گہرائی کے عنوان سے پالیسیاں کیوں بنتی رہیں ؟اگر ہم واقعی افغانستان کے چوکیدار نہیں تو پھر طالبان کو آغوش مادر کی طرح ناز و نعم سے پالتے کیوں رہے؟ اگر ہم واقعی افغانستان کے چوکیدار نہیں تو جلال آباد کو اپنے اثاثوں کے ذریعے فتح کرنے کی ناکام کوشش کیوں کی گئی ؟ہوسکتا ہے آج قندوز پر طالبان کی مہم جوئی میں ہمارا کوئی ہاتھ نہ ہو مگر ٹریک ریکارڈ کی بنیاد پر انگلیاں تو اٹھیں گی ۔سچ تو یہ ہے کہ ہم افغانستان سے عراق اور کشمیر سے فلسطین تک سب کے چوکیدار ہیں اس لئے خود اپنے ملک کی چوکیداری ٹھیک طرح سے نہیں کر پاتے ۔

--------------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.