.

حزب اللہ کی اسرائیل کے ساتھ نفسیاتی جنگ

یوسی میکل برگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لگ بھگ دس سال قبل اسرائیل اور لبنان کی عسکریت پسند شیعہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان براہ راست جنگ ہوئی تھی۔ اس وقت سے ان دونوں نے ایک دوسرے کے حملوں کے سد باب کے لئے ایک قابل اعتبار مگر مشکل انتظام کر رکھا ہے۔ اس کے تحت دونوں فریقین اپنی دشمنی کو کھلم کھلا جنگ کی حد سے کچھ پیچھے رکھے ہوئے ہیں، جس میں وہ زبانی حملوں اور ہدفی فوجی کارروائیوں تک ہی محدود رہتے ہیں تاکہ کوئی فریق محاذ آرائی کو کھلی جنگ تک نہ لے جائے۔

دو ہزار چھے کی چونتیس روزہ جنگ کے بعد بہت کچھ بدل چکا ہے۔ خواہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اسے تسلیم کریں یا نہیں مگر آج ان کی اولین ترجیح شام کی خانہ جنگی میں بشار الاسد حکومت کا تحفظ ہی ہے۔ یہی نہیں، لبنان کے اندر سے بھی ان پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے کہ وہ سیاسی نظام کو کمزور کر رہے ہیں اور لبنان کے بجائے ایران کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

اسرائیل نے اس جنگ میں اگرچہ بیروت میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی مگر اس کی ناکام جنگی حکمت عملی کی قلعی کھل گئی تھی اور شہری آبادی پر حملوں کی وجہ سے عالمی تنقید اور اخلاقی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دونوں فریقین کئی سالوں تک اپنے زخم چاٹتے رہے۔ نصر اللہ اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر کئی سالوں تک روپوش رہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرٹ کی ساکھ شدید متاثر ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیلی فیصلہ ساز "ایٹمی ایران" کے بعد حزب اللہ کو اپنے لئے دوسرا بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ دس سال قبل شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹوں کی بارش تھی۔ اسرائیلی خوف کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ حزب اللہ نے جنگ کے بعد سے اپنی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ کر لیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس کے پاس ایک لاکھ میزائل اور راکٹ ہیں جن کا بڑا حصہ ایران، شام اور بقیہ روس نے فراہم کیا ہے۔

یہ میزائل اسرائیل کے تمام بڑے شہروں تک مار کرنے کے قابل سمجھے جاتے ہیں۔ حال ہی میں نصر اللہ نے اسرائیل کے شمالی شہر حیفا میں امونیا گیس ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس دھمکی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسرائیل کو اشتعال دلانے، اس کے حملوں کے سدباب کی کوشش، اسرائیل کے پیشگی حملوں کے خطرہ سے بچاؤ اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے ذریعے ملک اور خطے میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششوں کا مجموعہ ہے۔ اسرائیل کو نصراللہ کی دھمکیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ پھر بھی، اسرائیل کے وسط میں واقع امونیا گیس ٹینکس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دینا جس سے ایٹمی حملے جیسے تباہی اور ہزاروں اموات کا اندیشہ ہو، خواہ محض زبانی ہی سہی، ایک واضح اشتعال انگیزی اور جنگی شدت انگیزی سمجھی جائے گی۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے حساس اہداف اور کمزوریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔

ایک دہائی قبل حزب اللہ کی راکٹ باری کے باعث اسرائیل کے شمالی علاقوں کو شہری آبادی سے تقریباً خالی کرا لیا گیا تھا۔ نصر اللہ اس کی یاد دلا کر اسرائیل کو نئے حملوں سے باز رکھنا چاہتے ہیں۔ آخری جنگ میں لبنان پر اسرائیلی حملوں سے حزب اللہ کو کافی نقصان پہنچا تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی بھی ہوئی تھی۔

ممکنہ جنگ

فریقین کے درمیان آیندہ جنگ بھی اسی طرز کی ہی ہو گی، تاہم اس میں دونوں جانب زیادہ جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ اگرچہ حزب اللہ نے شام کی جنگ کے تجربات سے اسلحہ اور تربیت میں اپنی صلاحیتوں میں کافی اضافہ کر لیا ہے مگر کافی جانی نقصان بھی اٹھایا ہے۔ اس کے تقریباً پندرہ سو جنگجو مارے جا چکے ہیں اور کئ زخمی ہیں۔ نصر اللہ کی سخت زبان کے باوجود اس امر پر شک کیا جاتا ہے کہ ان کی تنظیم موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ ایک اور خونریز جنگ پر تیار اور اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔

اسرائیل بھی کسی نئی جنگ میں حزب اللہ سے زیادہ سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کوئی بڑا ہدف حاصل نہیں کر سکتا۔ تاہم وہ مستقبل میں ایک زیادہ طاقتور حزب اللہ کا میدان جنگ میں سامنا کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے اسرائیل تین مختلف میزائل شکن اور راکٹ شکن سسٹمز کی تیاری میں مصروف ہے۔

اسرائیل نے آئرن ڈوم راکٹ شکن نظام کا عملی تجربہ حماس کے خلاٖف غزہ پر 2014 کے حملے کے دوران کیا تھا، جبکہ ’ایرو‘ اور ’ڈیوڈ سلنگ‘ نامی دو نئے میزائیل شکن سسٹمز کے کامیاب تجربات بھی کئے جا چکے ہیں۔ اس وقت اسرائیلی فیصلہ ساز جنگی استعداد میں اضافے اور شام میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف نیم خفیہ جنگ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے جس میں شام سے حزب اللہ کو ہتھیار فراہم کرنے والے ہرکاروں اور قافلوں کی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں کئی اہم حزب اللہ کمانڈر ہلاک ہو چکے ہیں جن میں جہاد مغنیہ اور سمیر قنطار جیسے سرکردہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں حال ہی میں ہیلی کاپٹر حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

نصر اللہ نے چند روز قبل شہدا کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صرف اسرائیل کو ہی ہدف تنقید نہیں بنایا بلکہ سعودی عرب اور ترکی سمیت کئی سنّی ریاستوں پر بھی الزام لگایا گیا تھا کہ وہ شام کی جنگ میں اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ اس تقریر کے ذریعے نصراللہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ اسرائیل کا مقابلہ اور فلسطینیوں کی مدد تمام سنّی ریاستوں کے بجائے صرف شیعہ مسلمان ہی کر رہے ہیں جن کی قیادت حزب اللہ اور ایران کرتے ہیں۔

اس تقریر سے انہوں نے اسرائیل مخالف عوامی جذبات کو ابھار کر رائے عامہ کی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کی کیونکہ حزب اللہ کے لبنان اور شام کی کردار پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے جس میں اس کی اپنے ملک سے وفاداری اور وابستگی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ فریقین کا جذباتی اور ہیجانی تقاریر کے ذریعے ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا بظاہر بے ضرر لگتا ہے مگر جب دونوں جانب برابری کی جنگی صلاحیتیں بھی ہوں تو نتیجہ ایک اور بغیر سوچی سمجھی جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ یہ جنگ کوئی ایک فریق یا دونوں اس لئے شروع کر سکتے ہیں کہ وہ سمجھیں کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ دونوں فریقین کو اس خطرے کا بڑی احتیاط سے جائزہ لینا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے منتفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.