سیلاب سب کچھ بہالےگیا،متاثرین کی کھلے آسمان تلے سردیاں!

ملک رمضان اسراء
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان میں 2022 کے موسم برسات میں سیلاب نے شدید نقصان پہنچایاتھا اوراس کے مابعد نقصان دہ اثرات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔اس میں لوگوں کا ناصرف بے پایاں مالی نقصان ہوا،ہزاروں مویشی سیلابی ریلوں میں بَہ گئے اورسیکڑوں قیمتی انسانی جانیں بھی اس سیلاب کی نذرہوگئیں۔جن کے پیارے لقمہ اجل بنے ان کا دکھ تو وہی جانیں لیکن جو سیلاب متاثرین بچ گئے،ان میں بہت سے اب زندہ لاشیں بن چکے ہیں۔سیلاب انھیں جو دکھ، درد اوراذیتیں دے گیا،وہ انھیں فراموش کرنے کو تیار نہیں۔کوئی عام انسان ان کے دکھ درد کو ان ایسامحسوس نہیں کرسکتا ہے کیونکہ مرنے والا تب تک تڑپتا ہے جب تک اس کے جسم سے روح نہیں نکل جاتی مگرزندہ بچ جانے والے یہ غریب متاثرین اب کھلے آسمان تلے پہلے گرمی اور اب سردیوں کی راتیں بسر کرنے پرمجبور ہیں۔وہ ہرآن اورہرسانس کے ساتھ تڑپتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے اپنی بے بسی پررونے اور حکمرانوں کی نااہلی کو کوسنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

ان بے بس متاثرین میں ایک وزیراحمد اور اس کی بیوی وزیرو بی بی ہیں۔ان کا تعلق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ کے ایک پسماندہ گاؤں چڑا پولاد سے ہے جس رات ان کی بستی میں اچانک سیلاب آیا، اس وقت گیارہ بج رہے تھے کہ اچانک انھیں دھماکے دار آواز سنائی دی جس کے بعد وزیرو بی بی کمرے سے باہر نکلی توانھیں گھر کے صحن کے اندر پانی ہی پانی دکھائی دیا جبکہ چاردیواری مکمل طور پر گر چکی تھی۔اس دوران میں انھوں نے اپنی آنکھوں سے اس مٹی سے بنے برآمدے کو بھی گرتے دیکھا جو ان کے اس کمرے کی دیوار کے ساتھ بنا ہوا تھا جس میں وہ رہ رہے تھے۔وزیرو بی بی نے بھاگ کر اپنے خاوند کو آواز دی کہ جلدی سے باہر نکلو کیونکہ کمرے کے ساتھ والا برآمدہ گر رہا ہے اورکمراگرنے کا بھی خطرہ ہے۔

وزیروبی بی بتاتی ہیں کہ ’’وہ منظراس قدربھیانک تھا کہ اب بھی رات کو سوتے وقت جب وہ لمحہ یاد آتا ہے تو خوف کے مارے جسم کانپ اٹھتا ہے کیونکہ وہ وقت میری زندگی کاایسا دل خراش لمحہ تھا کہ ہر طرف سے دیواریں اورمکانات گرنے کی آوازیں آرہی تھی اور اوپر سے بارش بھی ہورہی تھی۔لہٰذا ہم میاں بیوی نے آوازبلند کی کہ اللہ کے نام پر ہماری مدد کی جائے۔کچھ دیر کے بعد دوسرے محلے کے کچھ لوگ آئے۔انھوں نے بہ مشکل کمرے میں سے ہمارا ضروری سامان نکالنے میں مدد کی کیونکہ ہمارے آس پاس تو سب لوگ اپنے اپنے سامان کو بچا رہے تھے۔ وزیراحمد کے معاشی حالات پہلے ہی کمزور تھے اور محنت مزدوری پر گزارہ تھا اوران کی استطاعت اتنی بھی نہ تھی ،وہ اپنے مکان کی چھت کی ٹوٹی کڑی ہی کو تبدیل کرواسکتے لیکن سیلاب نے اب تو بالکل بے بس کردیا ہے۔وہ اپنی بیوی کے ساتھ اس دسمبر کی میں بھی کھلے آسمان تلے یخ بستہ سردیوں کی راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔انھوں نے حاکم وقت سے سوال کیا کہ سیلاب ہمارا سب کچھ بہا کر لے گیا لیکن اب ہم سردیوں کی راتیں کھلے آسمان تلے کیسے گزاریں؟

ایک سوال کے جواب میں وزیر احمد نے بتایا سیلاب کے بعد کچھ دن ہم رشتہ داروں کے ہاں مقیم رہے تھے لیکن گاؤں میں اکثر لوگوں کے پاس ایک کمراہوتا ہے اورآٹھ،آٹھ دس دس بچے ہوتے ہیں تو ہم نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب سردیوں میں انھیں کوئی تکلیف دیں۔ وزیرو بی بی کے مطابق شروع میں ہمارے ساتھ کچھ راشن پانی کی امداد ہوئی لیکن دوبارہ کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔گاؤں میں جولوگ کسی وڈیرے یا کونسلر وغیرہ کے قریبی ہیں،بھلے ان کا نقصان ہوا یا نہیں وہ تو اب تک راشن بھی لے رہے جبکہ انھیں ٹینٹ وغیرہ بھی ملے ہیں لیکن ہمیں کسی نے آکر نہیں کہا کہ آپ کا سب سے زیادہ نقصان ہوا چلو یہ ٹینٹ ہی لے لو۔

وزیر احمد کے مطابق راشن بانٹنے یا امدادی سامان دینے والی تنظیمیں براہ راست گاؤں نہیں آتی تھیں یا شاید کچی سڑک کے سبب ٹرک بڑی شاہراہ پرہی رک جاتے تھے،وہ گاؤں سے آٹھ دس کلومیٹر دور ہے۔اس کے باوجوداکثر لوگ امدادی سامان لینے جاتے تھے چاہے وہ متاثر نہ بھی تھے۔ لیکن چونکہ ہمارا پورا مکان گرا ہوا تھا تو میں تو اس میں سے اپنا سامان نکالنے میں مصروف تھا اور دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اس صدمے کے بعد میری بیوی ذہنی طور پر بیمار رہتی ہے۔اس رات کے صدمے کے بعد میری بیوی وہ لمحات بھول نہیں پا رہی۔اب اس کا علاج بھی چل رہا ہے مگرپھر بھی یہ کبھی بالکل پاگلوں ایسی حرکتیں کرنے لگ جاتی ہے۔لہٰذا میں اس کواس حالت میں اکیلے چھوڑ کر امداد لینے کیسے جاسکتا تھا۔

سیلاب سے متاثرہ ایک اورشخص ملک کالو نے بتایا کہ ایک دن میں امدادی سامان لینے گیا لیکن وہاں جاکر میں فوراَ لوٹ آیا کیونکہ وہ راشن وغیرہ تو دے رہے تھے لیکن ساتھ میں تصاویر بھی لے رہے تھے جسے وہ شاید فیس بک پرڈالتے ہوں لہٰذا میرے ضمیر نے یہ گوارا نہ کیا کہ میں مجبوری کے وقت کسی کے سامنے ہاتھ پھلائے کھڑا ہوں اور انٹرنیٹ پر مجھے لوگ دیکھیں۔

ان کا سیلاب زدگان کے نقصان کے ازالے کے لیے حکومت کے سروے کے بارے میں کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد ہمارے علاقہ میں بھی سروے کے لیے لوگ آئے تھے۔مگرپھرہمیں بتایا گیا کہ وہ درست نہیں تھا۔ بعدازاں دوبارہ سروے کیا گیا،اس میں اضافہ یہ ہوا کہ پہلے سروےمیں فہرستیں مرتب کی گئی تھیں اور دوسرے سروے میں متاثرہ مکانات کی تصاویر بھی لی گئیں ۔ ملک کالو کے مطابق سیلاب کے باعث ناصرف ان کا مکان متاثر ہوا بلکہ روزی روٹی کا واحد ذریعہ پنکچر کی دکان بھی بالکل منہدم ہوگئی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے ایسے لوگوں کو حکومت کی طرف سے امدادی رقم بانٹ دی گئی جن کاذرّہ برابر بھی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن مجھ سمیت متعدد سیلاب متاثرین،جن کا حقیقی معنوں میں نقصان ہوا ہے،انھیں مکانات کا سروے ہونے کے باوجود تاحال وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے اعلان کردہ پیکج کے مطابق کوئی امداد نہیں دی گئی ہے۔

پاکستان کے معروف صحافی اورجیو نیوز پر پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میرنے پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب کو کافی قریب سے دیکھا ہے اورمیڈیاکی دوسری شخصیات کے برعکس متاثرہ علاقوں میں خود جاکر کئی پروگرام کیے تھے۔ان کے بہ قول ‏سیلاب سے پاکستان کا صوبہ سندھ باقی صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ پھر سندھ میں بھی ضلع دادو بہت زیادہ متاثرہوا ہے لیکن صوبہ سندھ کی حکومت اور وفاقی حکومت ابھی تک متاثرین کی مناسب مدد نہیں کر سکی ہے۔راقم الحروف کے ایک سوال کے جواب میں حامد میر کا کہنا تھا کہ سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ بدانتظامی اور کرپشن کا نتیجہ ہے کیونکہ اگر آپ اپنے جنگل نہیں بچائیں گے اور گلیشئیر کا تحفظ یقینی نہیں بنائیں گے یا ان کا خیال نہیں رکھیں تو سیلاب بار بار آئیں گے اور تب تک آتے رہیں گے جب تک آپ انھیں اپنی بدانتظامی یا بدعنوانی کی وجہ سے دعوت دیتے رہیں گے۔ جب حامد میر سے سوال کیا گیا کہ اتنے تباہ کن سیلاب کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے رہ نماؤں کو کچھ وقت کےلیے اپنی سیاست کوترک کرکے سیلاب متاثرین کی مدد کو فوری طور پر نہیں پہنچنا چاہیے تھا؟اس پر انھوں نے جواب دیا کہ’’پاکستان کے سیاست دانوں کو سیلاب کی نہیں بلکہ صرف اقتدار کی فکر ہے کیونکہ جب سیلاب آیا اس وقت سیاست دانوں کو چاہیے تھا کہ آپس کے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر فوراً سیلاب متاثرین کی مدد کو پہنچتے لیکن افسوس کہ انھوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو نظر انداز کرکے اپنی سیاسی رسا کشی جاری رکھی۔"

2022 کے سیلاب میں بہت ساری غیر سرکاری تنظیموں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ان میں الخدمت فاؤنڈیشن اور اخوت سمیت متعدد ایسی تنظیمیں ہیں جن سے جتنا ممکن ہوسکا،وہ سیلاب متاثرین تک پہنچیں اور انھیں اس خدمت خلق پر میڈیا کوریج کے ساتھ پذیرائی بھی ملی لیکن ایک غیر سرکاری تنظیم بیت السلام ٹرسٹ کوقومی میڈیا میں اس طرح کی کوریج نہیں ملی جس قدرانھوں نے امدادی کام کیا ہے۔اس ٹرسٹ نے ناصرف اس وقت سیلاب متاثرین کی مدد کی بلکہ تاحال اس کے کارکنان متاثرین کی بحالی میں جتے ہوئے ہیں۔ بیت السلام ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر موجود اعدادوشمار کے مطابق انھوں نے ابھی تک سیلاب سے متاثرہ کل 47 اضلاع کی 121 تحصیلوں میں 121,2141,803 متاثرین ومستحقین تک مدد بہم پہنچائی ہے۔ان میں 44298 متاثرین کو رہائش فراہم کی گئی ،61644 ضروری اشیاء کی تقسیم کی گئیں۔ علاوہ ازیں 125934 کو علاج معالجہ کی سہولت مہیا کی گئی۔اس کے ساتھ 1642178 لوگوں میں غذائی اجناس بانٹیں گئی جبکہ 38413 میں موسم کی مناسبت سے لباس تقسیم کیےگئے۔ اس کے علاوہ 224230 متاثرین میں مچھر سے حفاظت کے لیے مچھردانیاں تقسیم کی گئی اور 6106 میں موسم سرما کی اشیاء مہیا کی گئی ہیں۔امدادی سامان کی تقسیم کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے جس میں سردی سے بچاؤ کے لیے متاثرین کو گرم بستر اور کمبل مہیا کیے جارہے ہیں۔

نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈی نیشن سنٹر کے اعداد وشمار کے مطابق سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 1739 ہے،12867 لوگ زخمی ہوئے ہیں جبکہ 1164270 مال مویشی اس سیلاب کی نذرہوگئے۔ علاوہ ازیں کل 2288481مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔اس مرکز کادعویٰ ہے کہ اب تک وفاقی حکومت نے 66 اشاریہ 94 ارب روپے کی رقم سیلاب سے متاثرہ 2,677,772مستحقین میں تقسیم کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لکھاری 2013 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔وہ پاکستان کے مختلف میڈیا اداروں میں بہ طورخبرنگار اورمدیرکام کرچکے ہیں۔پیشۂ صحافت کے سبب ان پر دو بارقاتلانہ حملہ بھی ہوچکے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں