محبت کھونے کا نہیں بونے کا وقت ہے

نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جب اس دنیا میں آنکھ کھولی ایوبی مارشل لا تھا۔ مگر سچی بات ہے ابھی ایوب خان کے خلاف ان کے گھر کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے کا موقع نہیں آیا تھا۔ بلکہ فوج کے حوالے سے بڑی رومان پروری کا ماحول تھا۔ 1965 کی جنگ نے سونے پر سہاگہ کر دیا۔

میجر عزیز بھٹی کی مردانہ وار لڑتے ہوئے شہادت اور انہیں ملنے والے نشان حیدر نے انس ومحبت کے تعلق کو پختہ تر کر دیا۔ فوج سے تعارف کا بنیادی حوالہ چونکہ میجر عزیز بھٹی شہید کا جرات و بہادری کے ساتھ بھارت کے خلاف لڑنا بنا، اس لیے دل و دماغ میں فوج کے ساتھ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے محبت میں اضافہ ہوا اور اگر کبھی بازار محبت میں مندی کا رجحان دیکھا تو یہی معیار بنا۔ 1956 کے دستور کی جگہ ایوب خان کا نیا دستور مجریہ 1962، مادر ملت فاطمہ جناح کے ساتھ سلوک، پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس، سیاسی جاعتوں پر پابندیاں، قد آور سیاسی قائدین کو جیلوں میں ڈالنے اور اپنی مرضی کے سیاستدانوں کی کاشت و پرداخت کی سمجھ آنے کا دور ابھی بہت دور تھا ۔ اس لیے ہر طرف ہرا نظر آتا تھا۔ 1965 کی جنگ نے مزید ہرا ہرا پینٹ کر دیا۔

1971 کی جنگ کا دور آیا تو والد مرحوم کو بطور ہیڈ ماسٹر اپنے سکول میں فوجی بھائیوں کے لیے دفاعی فنڈ طرز کی سرگرمی میں مصروف دیکھا۔ خاکسار بھی اسی سکول کا طالب علم تھا۔ اس لیے محاذ جنگ پر لڑنے والے فوجی بھائیوں کے لیے صابن کی ٹکیاں، سگریٹ، کھانے پینے کی اشیاء جن میں غالباً بسکٹ اور بھنے چنے وغیرہ ہوتے تھے۔ ڈبوں میں پیک کرنے کے عمل کا حصہ رہا کہ یہ فوجی بھائیوں کو بھجوائے جانے والے ننھے تحفے تھے مگر ان کے پیچھے بے پایاں محبت تھی۔

1971 کی اس جنگ کا خاتمہ اچھا نہ ہوا۔ مشرقی پاکستان ہم سے بہت دور چلا گیا۔ بچپنے میں سقوط مشرقی پاکستان کا ادراک گہرا نہ تھا لیکن بعد ازاں سمجھ آئی تو ایک مستقل روگ سا پال لیا۔ البدر اور الشمس کے کرداروں سے محبت ہوگئی، حتیٰ کہ حالیہ برسوں میں البدر اور الشمس کے قائدین کو حسینہ واجد حکومت نے پھانسیوں پر چڑھایا تو البدر اور الشمس کے لوگ ایک بار پھر خود سے زیادہ محب وطن پاکستانی نظر آئے۔ مگر افسوس ان کے لیے کسی کو روتے دیکھا نہ کسی کو کلمہ خیر کہتے سنا۔ جیسے دیدوں کا پانی مر چکا ہو اور زبانی گنگ ہوگئی ہوں۔

1971 کی جنگ کے بعد جنگی قیدیوں سے ہمدردی اور سقوط مشرقی پاکستان کے کرداروں سے دوری اور نفرت کا بتدریج فطری سامان ہوتا چلا گیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کا گھاؤ کتنا گہرا اور واقعہ کس قدر المناک تھا کہ کوئی 20 ، 25 برس پہلے کی بات ہے، کراچی میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیل کا ایک میچ ہوا۔ غالباً یہی فٹ بال تھا۔ اتفاق سے پاکستان نے میچ جیت لیا۔ مگر میں اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھ کر رات دیر تک روتا رہا کہ یہ بھی کوئی جیت ہے۔ اپنے بھائیوں سے جیت، اپنے جگر کے ٹکڑے سے جیت، اپنے جسم کے حصے سے جیت۔ یہ جیت تو ہماری ایک بڑی ہار کا پتہ دیتی ہے۔ اس لیے دیر تک روتا رہا۔

2012 میں اللہ نے حج کی سعادت بخشی۔ اللہ میرے اس حج کا ذریعہ بننے والے اور میرے لیے یکایک حج پر جانے کے ناممکن کام کو ممکن بنا دینے والے سبھی کرداروں کو دنیا و آخرت کی نعمتوں سے مالا مال کر دے۔ جدہ میں سعودی حکومت نے ہمارے جیسے خاکساروں کے لیے جدہ کے میریٹ میں ٹھہرنے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ہوٹل میں ناشتہ کرتے ہوئے ایک عثمان نامی بنگالی نوجوان سے تعارف ہوا۔ وہاں وہ ایک 'ویٹر' تھا۔ جونہی معلوم ہوا کہ پچھلے کئی دنوں سے ناشتہ کرانے کی ذمہ داری پر مامور یہ نوجوان بنگالی ہے تو بس پھر اس روز ناشتہ کی میز پر اس نوجوان کے سامنے ہی آنسوؤں کی ایسی جھڑی لگی اور ایسی ہچکی بندھی کہ ناشتہ نہ کر سکا۔ بنگالی نوجوان عثمان پوچھتا رہا، سر کیا ہوا؟ مگر میں اسے بتا نہ سکا کہ 'بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں' بس اتنا کہا تم ہمارے بھائی ہو، مشرقی پاکستان والے بھائی۔ یہ کہہ کر ناشتہ کیے بغیر کمرے میں واپس آگیا اور دیر تک مشرقی پاکستان کے سقوط پر سوچتا رہا۔

بڑے بھائی جان مرحوم رفیق غوری رہ رہ کر یاد آئے۔ جنہیں حج پر ساتھ چلنے کی دعوت دی تو انہوں نے صاف کہہ دیا پہلے ڈھاکہ جاؤں گا پھر حج کروں گا۔ میں نے کہا ڈھاکہ کے لیے حج پر دعائیں بھی تو کی جا سکتی ہیں مگر وہ نہ مانے، ان کا جواب محض ان کے آنسو تھے اور ڈھاکہ کی آرزو کرتے کرتے اگست 2016 میں عازم آخرت ہو گئے۔ اللہ ان کے لیے جنت آسان فرمائے۔

بات فوج سے رومان پروری سے شروع ہوئی تھی مگر 1984 کا ذکر رہ گیا۔ جب سٹوڈنٹس یونینز اور تنظیموں پر جنرل ضیاء الحق کے دور میں پابندی لگا دی گئی۔ جیل کی ہوا کھانا پڑی اور مارشل لاء کورٹ نمبر 37 لاہور میں پیشی ہونے لگی۔ سچی بات یہ ہے کہ جنرل ضیاء کے ریفرنڈم اور سٹوڈنٹس یونین پر پابندی دونوں واقعات نے بدمزہ کیا تھا۔ یہ اقدامات ان کی شخصیت، دعوؤں اور وعدوں سے میل نہ کھاتے تھے۔

انہی سٹوڈنٹس یونینز پر پابندی کے اگلے سال میں شہید بریگیڈیئر صدیق سالک پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں لیکچر دینے کے لیے تشریف لائے تو خاکسار نے ابلاغیات کے پہلے سال کے طالب علم کے طور پر ان سے پوچھنے کی جسارت کی کہ سالک صاحب! آپ جس ادارے کے ترجمان اور ڈی جی تعلقات عامہ ہیں۔ اس کے اپنی ہی قوم کو بار بار فتح کرنے کے جواب میں عوامی محبت پر کیا مثبت یا منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ بطور ڈی جی آئی ایس پی آر ان سے بہتر اس سوال کا جواب کون دے سکتا تھا کہ ایک جہاندیدہ فوجی افسر سے بھی بڑھ کر جہاندیدہ اور زیرک شخصیت تھے۔ وہ تو اداروں کے عروج و زوال سے بڑھ کر ملکوں کی شکست و ریخت کے بھی عینی شاہد تھے۔

بریگیڈیئر صدیق سالک شہید نے یہ سوال سن کر پہلے کہا 'کمرے (کلاس روم) کا دروازہ بند کر دیجیے۔' دروازہ بند کر دیا گیا۔ انھوں نے پھر پوچھا 'یہاں کوئی ورکنگ جرنلسٹ تو موجود نہیں ہے؟' انہیں بتایا گیا موجود ہیں۔ اس پر پھر وہ گویا ہوئے 'میں جو بات کہنے لگا ہوں یہ 'آف دی ریکارڈ ہے اور ٹوٹل آف دی ریکارڈ ہے' پھر کہنے لگے 'عوام کی طرف سے جو محبت ہمیں 1965 کے دنوں میں منوں اور ٹنوں کے حساب سے ملتی تھی اب اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملتا۔'

یاد رہے یہ 1985 کے اواخر کی بات ہے۔ اس وقت 1965 کو گزرے ہوئے صرف 20 سال ہوئے تھے۔ آج 57 سال ہو چکے ہیں۔ تقریباً تین گنا عرصہ۔ جبکہ اس دوران جنرل پرویز مشرف اور جنرل قمر باجوہ کے دو طویل تر متنازعہ ادوار بھی گزر چکے ہیں۔ بہت ساری ان کہی باتیں کہی جانے لگی ہیں۔ زمانہ اپنے سینے کے راز کھول کھول کر سامنے لا رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ نواز لیگی حکومت کے اہم لوگوں نے 2013 کے بعد پہلے دو تین برسوں میں ہی اس امر پر نجی گفتگوؤں میں اظہارِ مسرت شروع کر دیا تھا کہ اس وقت ملک کی پرائم ایجنسی آئی ایس آئی نہیں آئی بی ہے اور امریکہ باقی صوبوں کے بعد پنجاب میں بھی فوج کے بارے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو غور سے دیکھ رہا ہے۔ یہ اور اس نوعیت کی 'خوشی' کی ایسی کئی باتیں 2017 سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھیں۔ اب کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

16 دسمبر پھر آ گیا ہے۔ جنرل قمر باجوہ جاتے جاتے خود سے توجہ ہٹانے کے لیے سقوط مشرقی پاکستان میں کس کا کتنا حصہ تھا کی بحث شروع کر کے بہت سی توپوں کا رخ فوج کی طرف کرنے کی شعوری یا لاشعوری کوشش کر گئے ہیں۔ یہ قطعاً بہتر نہیں ہو سکتا کہ ایک منتشر الخیال سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے اس طرح کی بحثوں کو پھر سے شروع کیا جائے یا ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

تاریخ سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے پوری قوم کو، ہر ادارے کو، ہر ذمہ دار کو اور پوری ریاست کو سیکھنا ہے۔ آئین اور قانون سے ماورا فیصلے، اقدامات، ہوس اور خواہشات کسی کے لیے کتنا بھی آسانی سے ممکن ہوجائیں ایک محدود وقت کے لیے ہوتا ہے۔ پھر اس کے لیے بہر حال جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ اس لیے بے سمت چلنے سے پہلے ہر کسی کو سو بار سوچنا ہوگا۔

کرنے کے چند کام لازمی ہیں۔ خود کو اللہ اور قوم کے سامنے بھی اور ضمیر اور والدین کی تربیت کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس ہر وقت سامنے رکھا جائے اور اس کی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کا کام کیا جائے۔ خود کو کبھی بھی آئین اور قوم سے برتر اور اہم تر تصور نہ کیا جائے۔ یہ حد سے بڑی ہوئی 'خود قدری' کے دن بعد ازاں سخت ناقدری کی طویل راہ بن کر آجاتے ہیں۔

یہ زلزلے، سیلاب اور برف ہٹانے یا سڑک بنانے کے کام انہیں کے حوالے رہنے دیے جائیں جنہیں کرنے ہیں۔ تاکہ انہیں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہو، تجربہ ہو اور سب سے اہم یہ کہ عوام کے سامنے شرمندہ و ذلیل ہونے کا خوف پیدا ہو اور اللہ کے سامنے بھی جوابدہی کا۔ بجائے اس کے کہ یہ سیاسی عناصر اپنی نالائقی اور عدم کارکردگی کا سارا بوجھ ملکی دفاع کے اوپر ڈالنے کا جواز پاتے رہیں۔ سیاستدانوں اور حکومت میں بار بار آنے کے تجربے کے حوالے سے یہ کام ثابت ہوگیا ہے کہ یہ کام فوج کا نہیں ہے۔ اس سے فوج کی عزت اور وقار کو ہمیشہ دھچکا لگا ہے۔

اس دوران سیاست و معیشت کے مرمت و بحالی کے کاموں سے بھی خود کو دور رکھا جائے کہ یہ کوئلوں کے کاروبار سے کم نہیں رہ گئے۔ بس اپنی شناخت قوم کے بازوئے شمشیر زن کے طور پر کرائی جائے۔ جو شہ رگ کو بچانے کے لیے بدرجہ اولیٰ ذمہ دار اور قوم کے سامنے جوابدہ ہے۔

کسی 'آپریشن رد ذاتی مفاد' کے لیے اپنے طور پر یا ملکی عدالتوں اور پارلیمان کی مدد سے تیاری کی جائے۔ تاکہ پچھلے برسوں میں فوجی قیادت رکھنے والی یا اٹھائی جانے والی انگلیوں کو بار بار ایسے مواقع نہ ملیں۔ بلاشبہ قیادت سیاسی ہو یا عسکری، یہ بہت بڑا اعزاز ہو سکتی ہے۔ صرف اس صورت میں کہ اس کے تقاضے پورے ہوں، جان لڑادی جائے نہ کہ اس موقع کو غنیمت اور ملکی اختیار و وسائل کو مال غنیمت مان لیا جائے۔

پاکستان اول و آخر ایک زرعی ملک ہے۔ اس کے لیے شہ رگ یعنی کشمیر کے دریاؤں کا پانی اہم ہے۔ زراعت بہتر ہوگی تو معیشت خود ہی بہتر ہونے لگے گی۔ مگر کشمیر کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں، یہ ہماری کشمیری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتوں کے تحفظ کا بھی معاملہ ہے۔ یہ پاکستان کی تکمیل کے ایجنڈے کا تقاضا ہے۔ یہ فوج کی بہادری کا مسلسل جاری رہنے والا امتحان ہے۔ اسے پنڈی کے گلی محلوں میں پرورش پانے والوں سے کون بہتر سمجھ سکتا ہے۔

اسی پر توجہ ہونی چاہیے۔ اس سے ملک کے طاقتور ترین ادارے کی عزت کو ہمالہ سے اونچا کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ کام پچھلے عرصے سے نہیں کیا گیا بلکہ گنگا الٹی بہتی رہی۔ عزت اس کی نہیں ہوتی جسے دوسرے ممالک اور ان کے سفیر حضرات اہمیت دیں۔ عزت اس کی ہو سکتی ہے جسے پاکستان کے بائیس کروڑ عوام اپنا ہیرو مان لیں۔ کشمیر میں زن، زر اور زمین کے تینوں جواز موجود ہیں۔ اسی میں قوم کے سپوتوں کو اپنی شناخت اور اپنی عزت تلاش کرنی چاہیے۔ اسی کے نتیجے میں 1965 والی محبت منوں اور ٹنوں کے حساب سے ملنا شروع ہو جائے گی۔ وگرنہ ملک کے ایوانوں سے تعلیم گاہوں تک قوم پرستی کا زہر بڑھتا جا رہا ہے۔ اس زہر کو مشرقی پاکستان میں پوری قوم اور فوج اچھی طرح بھگت چکی ہے۔

چمنستان ادب کے قدیمی باغبان ولی دکنی کا نئے رتوں میں کھلنے والے پھولوں کے بارے میں ہمیشہ زندہ رہنے والا پیغام

اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن

جب چشم کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں