ریاض : خواب دیکھنے والوں کا گھر

میرا مطر
میرا مطر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

یکم مئی 2024 ، جب میرا طیارہ ریاض ائیر پورٹ اترا۔ یہ وہ شہر ہے جس کے بارے میں میں اپنے عزیز و اقارب سے سن کر بڑی ہوئی۔ کئی دہائیوں پہلے، میرے بعض رشتہ دار بہتر مستقبل کے ارادے لیے جنگ زدہ لبنان چھوڑ کر سعودی عرب کے دارالحکومت میں آ بسے تھے۔

آج، میں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، اپنے خوابوں کا تعاقب کرتے کرتے دنیا کی اعلیٰ منزلوں میں سے ایک پر آن پہنچی ہوں۔

نو مئی 2024۔ یہ جمعرات ہے اور اختتام ہفتہ کا آغاز۔ اس شام میں عالمی معیار کے ایک ریستوراں میں تھی جس کی بنیاد لندن رکھی گئی تھی۔ بین الاقوامی موسیقی کی دھنوں نے مجھے چونکایا۔ یہاں ڈی جے ایک عورت تھی! گویا تبدیلی ایک حقیقت ہے۔

میری 50 سالہ سعودی ساتھی کی آنکھیں فخر سے چمک اٹھیں۔ "میں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور برطانیہ میں کام کیا ہے، لیکن یہاں اس تبدیلی کو دیکھنا کچھ الگ ہی ہے... میری خواہش ہے کہ مجھے یہ دیکھنے کے لیے مزید سال ملیں کہ ہم کہاں تک جائیں گے،" اس نے مجھ سے کہا۔

اگلے دن جمعہ تھا جو یہاں چھٹی کا دن ہوتا ہے۔ میں ڈپلومیٹک کوارٹر میں تھی۔ صبح 6 بجے، میں اپنے جوتوں کے تسمے باندھ کر ان نئی سڑکوں پہ اپنے بیروت کے معمول کے مطابق جاگنگ پر جانے کے لیے تیار تھی۔ غالبا میری ہچکچاہٹ میرے چہرے پر عیاں ہو گی، جبھی ایک سکیورٹی گارڈ قریب آیا اور ایک پُرسکون مسکراہٹ کے ساتھ"حیاکی [خوش آمدید] کہا۔

بس زمین پر واک وے کے نشانات پر عمل کریں، اور پریشان نہ ہوں، ہم آپ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہاں موجود ہیں۔" اس نے ہدایت کی۔

میرے آبائی ملک لبنان کے برعکس، جہاں تحفظ کا احساس مفقود رہتا ہے، یہاں ہردم محفوظ محسوس کرنا ایک نعمت ہے۔ مقامی لوگوں کی سخاوت اور مہربانی بھی قابل ستائش ہے۔ ایک شام، میں کچھ دوستوں کے ساتھ شاہ عبداللہ واک وے پر ٹہل رہی تھی جب مجھے مختلف سائز کے ڈبے سڑک کے کنارے رکھے نظر آئے۔ متجسس ہوکر میں نے پوچھا، "یہ کیا ہیں؟" میری دوست نے کہا "اوہ، ان میں پانی کی بوتلیں ہوتی ہیں۔ لوگ انہیں یہاں کسی ایسے شخص کے لیے چھوڑ دیتے ہیں جو پیاسا ہو۔ یہ صدقہ جاریہ ہے۔‘‘

میرے پاس الفاظ نہیں تھے اور میرا دل احساس سے بھر گیا۔

میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں بیروت چھوڑوں گی۔ میں نے یونیورسٹی کے دوران مختصر مدت کے تبادلے کے پروگراموں میں حصہ لیا، یوکرین میں اپنے بھائی سے ملاقات کی، بین الاقوامی کانفرنسوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کی، اور بطور سیاح سفر کیا۔ 2020 میں، میں نے جرمنی میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ کی پیش کش ٹھکرا دی۔ 2022 میں، میں نے ایک خلیجی ملک میں ملازمت کی پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ جب تک کہ مجھے ریاض جانے کی پیش کش موصول نہیں ہوئی مجھے لگتا تھا کہ میری جڑیں بیروت میں ہیں۔

مگر اب میرا یہ اندر کا احساس درست ثابت ہوا۔ ایکسپیٹ انسائیڈر کا تازہ ترین سروے سعودی عرب کو غیر ملکیوں کے لیے دوسرے بہترین ملک کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ ریاض میں چار ماہ گزارنے کے بعد، میں اعتماد سے کہہ سکتی ہوں کہ "مجھے لگتا ہے کہ میں گھر سے دور ایک اور گھر میں ہوں!"

آپ کو یاد ہو گا کہ 2021 میں، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قومی ٹیلی ویژن پر واضح کہا تھا کہ "مجھے یقین ہے کہ 'خوف' کی اصطلاح کسی بھی سعودی لغت میں موجود نہیں ہے کیونکہ سعودیوں کو کوئی خوف نہیں ہے۔"

اس سرزمین پر ایک 27 سالہ نووارد کے طور پر، میں کامیابی کے بے پناہ مواقع پر حیرت زدہ ہوں جو یہ ہر کسی کو پیش کرتی ہے، چاہے وہ کہیں سے بھی ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب میں ڈرنے کی واحد چیز "بڑے خواب نہ دیکھنا" ہے۔

میرے ساتھی، ایک آسٹریلوی ریڈیو میزبان جو حال ہی میں ریاض منتقل ہوئے ہیں، عالمی سطح پر اس سرزمین کے اثرات دیکھتے ہوئے اسے "مواقع سے ابلتی ہوئی" کہتے ہیں۔

یہ جوائے ایوارڈز 2024 میں امریکی اداکار مارٹن لارنس کے بیان سے مختلف نہیں ہے: "اگر آپ خواب دیکھنے والے ہیں تو سعودی عرب آئیں اور خواب دیکھیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اس کام کو انجام دیا جائے۔"

ایک اعلیٰ ترین مراکشی شو رنر، جو اب میرے ساتھی ہیں، نے ریاض میں اپنا پہلا سال مکمل کر لیا ہے۔ آنے والے سال کے لیے اپنے نئے پروجیکٹس کے ساتھ، وہ اپنی ترجیحی زبان، فرانسیسی میں مجھ سے کہتے ہیں "ہم وہیں ہیں جہاں ہمیں ہونے کی ضرورت ہے۔"۔

میں جان بوجھ کر مسکرا کر اور سر ہلاتے ہوئے جواب دیتی ہوں، "درحقیقت، ہم وہیں ہیں جہاں ہمیں ہونا چاہیے… ابشر!"
----------
میرا مطر ایک لبنانی صحافی ہیں جو ریاض میں مقیم اور کام کر رہی ہیں۔ یہ سعودی عرب میں زندگی کے بارے میں ان کا ذاتی مشاہدہ ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size