ٹرمپ کی سوچ کا نیا ورژن کیسا رہے گا؟

ممدوح المہينی
ممدوح المہينی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

ہم ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں چند دن گذرنے پر ہی ایک ہمہ گیر مغلوبیت کا شکار ہو رہے ہیں۔ پہلے ایک ڈرامائی تقریب حلف وفاداری ہوئی۔ ساتھ ہی درجنوں کی تعداد میں ' ایگزیکٹو آرڈرز ' جاری ہو گئے۔ جس طرح صدر ٹرمپ نے مسیحی پادری کی طرف سے تارکین وطن اور خواجہ سراؤں کے لیے رحم کی درخواست پر منہ چڑایا ہے۔ یہ بجائے خود ایک غیر معمولی چیز تھا ، لیکن اس پر ایلون مسک کے ہاتھوں کے اشارے تو انتہائی متنازعہ حرکت رہے۔ خبروں کے بہاؤ کے ساتھ رہنے کی ہماری کوشش نے اب جیسے ہمیں دم بخود سا کر دیا ہے۔

اس دم بخود ہونے کی وجہ صاف ظاہر ہے یہی تھی کہ ہم پہلے ہی گھنٹے میں اس سرعت کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ اس لیے اب سب سے اہم سوال یہ بن گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا نیا ورژن کس طرح سوچتا ہے؟ اس نئے ٹرمپ کی اپنے پچھلے دور صدارت کے ساتھ کیا مماثلتیں ہیں اور کس قدر فرق ہے؟ اس سلسلے میں ان پانچ نکات کی روشنی میں نئے ٹرمپ کے پچھلے دور سے فرق اور نئی سوچ کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

تقرریاں

ٹرمپ نے اپنے سابقہ ٹیم ارکان کو تقریباً مکمل طور پر ہی ان تقرریوں کے عمل سے خارج کر دیا ہے۔ ان کے پہلے دور صدارت کے دوران جنرل میٹس تھے، پومپیو تھے، مک ماسٹر اور جان کیلی تھے۔ اب یہ سارے ہی گیم سے باہر کر دیے گئے ہیں۔ اس امر کی پروا کیے بغیر کہ ان کا فوجی یا سفارتی شعبے کا تجربہ کس قدر زیادہ اور گہرا تھا۔ ٹرمپ نے انہیں ساتھ رکھنا پسند نہیں کیا ہے۔ ٹرمپ نے اس بار تجربے اور مہارت کے بجائے ذاتی وفاداری کو ترجیح دینا ان تقرریوں کے لیے زیادہ اہم سمجھا ہے۔

انہیں اس امر نے بھی تلخ بنا دیا تھا کہ ان کی ماضی کی ٹیم کے کئی لوگ ان کی صدارتی مدت کے بعد ان کے ساتھ وفاداری کا تعلق چھوڑ گئے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے ارد گرد فرمانبردار قسم کے 'نورتنوں' کا ایک گروپ جوڑ لیا ہے۔ جو کبھی کبھی 'شاہ سے بھی شاہ کے زیادہ وفادار' نظر آتے ہیں۔ ان میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ ہیں، قومی سلامتی کے لیے مشیر مایکل والٹز ہیں، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے طور پر تلسی گیبارڈ ہیں۔ اسی طرح فرمانبرداروں کی ایک لمبی فہرست ہے جن سے ٹرمپ بغاوت تو درکنار کبھی اختلاف رائے کرنے کی توقع نہیں کرتے ہیں۔ اب ٹرمپ کی انتظامیہ میں جان بولٹن جیسی کوئی شخصیت نہیں ہوگی۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پہلے دور صدارت سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہ جان لیا ہے کہ مجھے اپنا راستہ کیسے بنانا ہے۔ انتظامیہ پر اپنی مضبوط گرفت کس طرح رکھنی ہے۔ جبکہ یہ ابھی بہت قبل از وقت والی بات ہو گی کہ ابھی سے ٹرمپ انتظامیہ کی کارکردگی کو جانچنا شروع کر دیا جائے۔ تجربے سے یہ سمجھ آئی ہے کہ وفاداری ترجیح اول ہے۔ اس لیے کسی ایسے شخص کی طرف سے صدر کو نفی میں جواب دینا بہت بڑی غلطی ہو سکتی ہے۔ پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس دوڑ کے بعد ایک وقفے کی ضرورت ہوگی یا کم از کم بریک پر پاؤں رکھنے کی ضرورت ہوگی ، خصوصاً پھسلن والی جگہ سے بچ کر چلنا ہوگا۔

مذاکرات

جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ کا دوسرا دور پچھلے دور سے مختلف ہو گا۔ مگر یہ بھی صاف لگتا ہے مذاکرات اور بات چیت کا انداز زیادہ مختلف ہو سکے گا۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں باور کرایا تھا کہ وہ ڈیل بنانے والا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اسی طرح کے رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ کینیڈا اور میکسیکو جیسے قریبی اتحادیوں کو بھی اس کے سخت، غیر روایتی ابتدائی حملوں سے نہیں بچایا گیا۔

میکسیکو تو رہا ایک طرف خود امریکی اتحادی کینیڈا کو بھی اس سختی اور تلخی سے بچایا نہیں جا سکا ہے۔ ٹرمپ غیرروایتی انداز کے ساتھ حملہ آور ہیں۔ وہ پرانی ٹیپ چلا رہے ہیں۔ اگرچہ ہم یہ فلم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ اس فلم کے سخت لہجے کے مکالمے ٹرمپ کے دو فائدے کریں گے۔

ایک یہ کہ ٹرمپ کو میڈیا میں موجود رکھیں گے اور دوسرا یہ کہ اس سے ان کا ووٹ بنک مضبوط رہے کہ یہ اپنے ووٹروں کو زیادہ جوڑے رکھے گا۔ جیسا کہ انہوں نے ایک کمزور جو بائیڈن کے خلاف ایک مضبوط امیدوار کے طور پر اپنی انتخابی جیت ممکن بنا لی ہے۔ وہ اسی طرح خود کو امریکہ کو مضبوط بنانے کا تاثر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے ووٹرز کو یہ بتا رہے ہیں کہ وہ امریکیوں کو ان کے روزگار کے مواقع چوری کر لے جانے والوں سے بچا رہے ہیں۔ اس طرح ہی ان کے ووٹر انہیں ایک سکہ بند قومی لیڈر کے طور پر دیکھتے اور سمجھنے پر مائل رہتے ہیں۔ ایسا قومی لیڈر جو قومی دھارا بد ل دے گا۔ لیکن جو چاہتے ہیں کہ ٹرمپ اپنی عادات میں کچھ تبدیلی لائیں انہیں جاننا چاہیے کہ اس عمر میں یہ ممکن نہیں رہتا کہ ایک بوڑھے فرد کو نئی عادتیں اپنانا آسان نہیں ہوتا ہے۔

سیاسی ڈاکٹرائن

ٹرمپ اپنا مذاکراتی انداز تبدیل نہیں کریں گے۔ وہ گفتگو کے انداز کو تبدیل نہیں کریں گے اور نہ ہی تھیٹرکس کے لیے اپنے رجحان کو تبدیل کریں گے۔ اس بات کا بھی کوئی امکان نہیں ہے کہ وہ اپنے سیاسی نظریے کو تبدیل کریں گے۔ ٹرمپ اپنے صدر امریکہ ہونے پر فخر کرتے ہیں۔انہیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ ان کے زیر قیادت کوئی جنگ نہیں لڑی گئی، یوں انہوں نے امریکی فوجیوں کا خون دنیا کے دور دراز علاقوں میں بہنے سے بچایا ہے۔

امکان یہ لگ رہا ہے کہ وہ اپنے جنگیں شروع نہ کرنے کے اس سلسلے کو اسی طرح جاری رکھیں گے۔ کیونکہ جنگیں شروع کرنے اور جگہ جگہ امریکی مداخلتوں کا مطلب زیادہ اخراجات کرنا بھی ہو گا۔ جس کی وہ کم از کم خواہش نہیں رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ روس اور یوکرین جنگ جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کو مشرق وسطیٰ میں مداخلت کی بھی کوئی بھوک نہیں ہے۔ اسی لیے انہوں نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر زور دیا ہے۔

ٹرمپ یہ امید رکھتے ہیں کہ انہیں امن پسند آدمی کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور امن کا نوبل انعام ان کے نام ہو گا۔

اس پس منظر میں ٹرمپ اپنے بنیادی ایجنڈے کو پورا کرتے ہوئے معیشت پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ آج کے امریکہ کی ٹرمپ نے معیشت کے اعتبار سے ایک بھیانک تصویر پیش کی ہے۔ امریکہ میں سول انفراسٹرکچر کی تصویر کشی کی ہے۔ خدمات کے شعبے میں برے حالات کی نشاندہی کی ہے۔ امریکہ میں بے گھروں سے بھری سڑکیں ہیں جبکہ ٹھگ دکانیں جلا رہے ہیں اور راہگیروں کو لوٹ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں اندرونی حالات کی بہتری آتی نہیں دیکھتے ۔

بیرون ملک جنگوں کا پھیلنا ان وعدوں کو پورا کرنے اور معیشت کو بہتر کرنے میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ وبائی مرض کے حملے نے ان کی صلاحیت کار کو کمزور کر کے دکھا دیا تھا۔ اب وہ ایک کامیاب صدر کے طور پر خود کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ اور ٹرمپ

توقع کی تھی کہ صدر ٹرمپ اس بار میڈیا کے ساتھ جنگ بندی اور صلح کے ماحول میں آگے آئیں گے۔ کہ اس میڈیا نے پوری شدت اور شعلہ فشانی کے ساتھ ٹرمپ کی مخالفت کی ہے۔ تاکہ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں آنے سے روک سکے۔ ان کے پہلے دور صدارت کے دوران میڈیا ان سے ناراض رہا تھا۔ ٹرمپ کا ' امیج ' بگاڑنے اور انہیں دوبارہ صدر بننے سے روکنے میں میڈیا لگا رہا۔ تاہم اب کی بار ٹرمپ کی جیت کے بعد توقع تھی کہ ٹرمپ کے میڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہو گی۔ لیکن اپنے نئے ورژن کے پہلے دن سے ہی صدر ٹرمپ کہ وہ ابلاغی جنات کو سبق سکھائیں گے۔

پہلے ہی دن سے ہم نے دیکھا کہ ٹرمپ تنازعات کو ہوا دینے اور اپنے حامیوں کو خوش کرنے کے ماحول میں پروان چڑھے ہیں۔ وہ آج بھی اسی انداز کے ساتھ ہیں۔ وہ میڈیا کو وہی کچھ دیتے رہیں گے جس سے وہ اپنے ناظرین کو بڑھا سکتے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size