تاکہ مواقع پھر ضائع نہ ہو سکیں
اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان 1948 میں کیا گیا ہے۔ یہ تکلیف دہ سوال خطے کی تاریخ میں شامل آ رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قائم کرنے کا موقع ضائع کیوں ہو گیا۔
اس سلسلے کا آغاز اقوام متحدہ کی 1947 کی اس قرار داد کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ جس میں فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ان دو ریاستوں میں ایک عرب ریاست اور دوسری یہودی ریاست بنانے کا کہا گیا تھا۔ شاید وہ ایک سنجیدہ موقع تھا کہ فلسطینیوں کے لیے کم سے کم حقوق ہی سہی کچھ حاصل ہو جاتا۔
اگرچہ اسی وقت ایک یہ چیز بھی سامنے آ گئی کہ فلسطینی سرزمین کو تقسیم کرنے کے علاوہ ایک ڈنڈی ماری گئی تھی۔ جن کی تعداد کل آبادی کا 30 فیصد بنتی تھی اور اقوام متحدہ کی طرف سے پیش کردہ تقسیم کے منصوبے میں فلسطینی اس طرح بھی نوازے جا رہے تھے کہ ان 30 فیصد کو 56 فیصد زمین دی جا رہی تھی اور فلسطینی جن کی تعداد یہودیوں سے کہیں زیادہ تھی انہیں ان کی اپنی زمین سے بھی کم ٹکڑا دیا جا رہا تھا۔ تاہم کچھ لوگوں کی رائے میں یہ موقع ایک ناجائز فیصلے کے باوجود ایسا تھا جس سے فلسطینیوں کو کچھ حقوق مل جانے کا بہر حال موقع تھا۔ اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے تھا۔
اس سوچ کے پیچھے استدلال یہ رہا کہ اس موقع کو ضائع اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ اس راستے سے فلسطینی ریاست کو ایک یہودی ریاست کے ساتھ ہی ساتھ بین الاقوامی سطح پر تسلیم بھی کیا جانا تھا۔
لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ فلسطینی قیادت متحد نہ تھی۔ نیز بعض عرب ملکوں میں بھی غیر منصفانہ بنیادوں پر کیا جانے والے دو ریاستی حل کی قبولیت کا داعیہ موجود نہ تھا۔ مطلب عرب دنیا میں بھی اس مشترکہ سوچ کا ابھی فقدان تھا جو بھی مل جائے اسے قبول کرنا ہی بہتر ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ایک تاریخی موقع ہاتھ سے نکل گیا۔
دوسری جانب اقوام عالم یا اقوام متحدہ بھی ٹھنڈی ہو کر بیٹھ گئیں۔ جبکہ اسرائیل کو اس دوران خوب کھل کھیلنے کا موقع ملا رہا اور اسرائیلی ریاست اپنے پاؤں پھیلانے اور جمانے دونوں کے لیے ہر ممکنہ اقدام کرتی رہی۔ کہ اسے ایک ایسا خلا ملا رہا جو اس کے لیے مفید ہو سکتا تھا۔
ایک زمانے میں فلسطینی اور عرب بین الاقوامی طاقتوں کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ جس چیز کو نا انصافی سمجھ رہے تھے وقت گذرنے کے ساتھ ایک دور کا خوب بن کر رہ گیا۔
پھر پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہتا رہا۔ اسی ماحول میں ایک بڑا واقعہ 1948 میں یوم نکبہ کی صورت میں پیش آیا۔ جب لاکھوں فلسطینیوں کو جبری طور پر ان کے گھروں اور سرزمین سے نکال دیا گیا۔ گویا یہ فلسطینی ریاست جیسی تیسی مل رہی تھی اسے نہ ماننے کے بعد اگلی پہلی واردات فلسطینیوں کے ساتھ ہو گئی۔ یہ زخم آج بھی فلسطینیوں کے سینوں میں ہرا ہے۔ ہر سال حق واپسی کی مہم اسی سلسلے میں ہوتی ہے۔
کئی برس گذرنے کے بعد جمال عبدالناصر کے زمانے میں 1979میں مصر کی طرف سے ایک کوشش کی گئی۔ مختلف فلسطینی دھڑوں کو تنظیم آزادی فلسطین 'پی ایل او' کی چھتری کے تلے اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاکہ فلسطینیوں کی ایک متحدہ نمائندگی کا وجود ممکن ہو سکے۔ لیکن یہ کوشش زیادہ دیر نتائج نہ دے سکے اور جلد ہی فلسطینیوں کی تقسیم دیکھنے میں آنے لگی۔
'پی ایل او' سے اتنے دھڑے وجود میں آگئے کہ ان کی تعداد ڈیڑھ درجن تک پہنچ گئی۔ یہ سب گروہ اپنی اپنی دانست میں بہترین قومی کاز کے لیے ابھر رہے تھے۔ مگر ان کی وجہ سے قوم تقسیم ہو رہی تھی۔ حتیٰ کہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے جو یکجہتی کی سطح تھی وہ جنگ میں شکست کے بعد اور نیچے چلی گئی۔ یوں اسرائیلی ریاست کے لیے اپنے بناؤ اور پھیلاؤ کے امکانات اور بڑھ گئے۔ بلکہ ایک سنہری موقع مل گیا۔
اس کے باوجود اسرائیل کی طرف سے ایک پیش کش بھی سامنے آئی کہ وہ امن کے بدلے میں مقبوضہ علاقوں سے دستبرداری کو تیار ہو سکتا ہے۔
اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد مصر کے صدر انور السادات امید کی کھڑکی کھلنے کے منتظر رہے۔ گویا انہوں نے اپنی بقا اور استحکام کو اسی راستے میں دیکھ لیا تھا۔ اسی سمت میں بڑی پیش رفت کی اور 1977 میں یروشلم کے تاریخی دورے پر گئے۔ امریکہ کو بھی لگا کہ اب مصر کو کیمپ ڈیوڈ معاہدے تک لایا جا سکتا ہے۔ اس میں غزہ اور مغربی کنارے کی خودمختاری کا ذکر شامل رکھا گیا۔
اسی پس منظر میں امریکہ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوا۔ اس معاہدے میں مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کی خودمختاری کو تسلیم کیا گیا۔ مگر اس مرحلے کی ایک خرابی یہ رہی کہ فلسطینی جو خود اس تنازعے کے بنیادی فریق تھے۔ انہیں اس معاملے میں براہ راست فریق نہیں بنایا گیا اور ان سے ماورا تنازعے کو طے کرنے کی کوشش کی گئی۔
بعض عرب ملکوں کی طرف سے بھی ان پر دباؤ رہا کہ وہ اس سلسلے کا حصہ بننے سے دور رہیں۔ یوں فلسطینی ریاست کی طرف ممکنہ پیش رفت کا ایک موقع ضائع ہو گیا۔ یہاں تک کہ 1981 میں شاہ فہد بن عبدالعزیز نے ایک انیشی ایٹیو لیا۔ اس انیشی ایٹیو کے تحت تنازعے کو ایک جامع ویژن کے تحت طے کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس میں بھی فلسطینیوں کی کافی شراکت ممکن نہ ہو سکی۔
نوے کی دہائی کے شروع میں میڈریڈ میں فلسطین کے مستقبل کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں اوسلو معاہدہ ممکن ہو گیا۔ یہ فلسطین کی تاریخ میں ایک اور اہم موڑ تھا۔
یاسر عرفات کی قیادت میں 'پی ایل او' نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کر لیا اور بدلے میں اسرائیلی ریاست نے 'پی ایل او' کو فلسطینیوں کا نمائندہ مان لیا۔ گویا اسرائیل نے صرف انہی فلسطینیوں کو تسلیم کیا جو اس کی ریاست کو تسلیم کرنے والے بن گئے لیکن بدلے میں اسرائیل نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بجائے اس معاملے کو مؤخر رکھا ہوا ہے۔ تاہم اس معاہدے میں بھی اسرائیل کے بتدریج انخلاء اور فلسطینیوں کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ لیکن یہ معاملہ بھی بدقسمتی کا شکار ہو گیا کہ فلسطینی باہم تقسیم شدہ تھے۔ حماس اور بعض دیگر گروپوں نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم اضحاک رابن کو اسرائیلیوں نے ہی قتل کر دیا۔ یہ ساری صورتحال سنہ 2000 میں دوسرے انتفاضہ کا مؤجب بن گئی۔
کیمپ ڈیوڈ کانفرنس جس میں بل کلنٹن نے ایک بار پھر اس معاملے کو طے کرنے کی کوشش کی ناکام ہو گئی۔
بعدازاں 2001 میں ایک اور انیشی ایٹیو سامنے آیا۔ یہ انیشی ایٹیو سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ظرف سے سامنے آیا جسے 'عرب پیس انیشی ایٹیو 2002' کا نام دیا گیا اور ایک نیا روڈ میپ دیا گیا تاکہ 2003 کو امن کی طرف پیش قدمی کا سال بنایا جائے۔ یہ کوشش اناپولس کانفرنس 2007 پر منتج ہوئی۔ لیکن اسرائیل کی طرف سے فلسطینی زمین کی تقسیم اور محاصرے کی کوششوں نے اس سب کچھ کو ضائع کر دیا۔یہاں تک کہ 2008 میں ایہود اولمرٹ نے اسرائیل کا ایک ایسا نقشہ پیش کر دیا جس میں مغربی کنارے کا 94 فیصد حصہ اسرائیل میں شامل دکھایا گیا۔ تاہم اولمرٹ کی کمزور سیاسی پوزیشن کی وجہ سے یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔
غزہ میں اسرائیل کی حالیہ جنگ کے دو برسوں کے دوران اور طوفان الاقصیٰ کے بعد جب غزہ پوری طرح تباہ ہو چکا ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ منصوبہ دو برسوں تک جاری رہنے والی اس جنگ کو فوری بند کرنے اور اسرائیلی قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے بتایا گیا ہے۔ البتہ اسرائیلی فوج کا انخلاء اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی بتدریج ممکن بنائی جائے گی۔ اسی طرح غزہ کی تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی سطح پر فنڈز کی فراہمی، غزہ کے لیے عبوری انتظامیہ جس کی بین الاقوامی برادری نگرانی کرے گی غزہ میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی تیاری اور اس امر کی کوششیں کہ دوبارہ سے غزہ میں بندوق بردار تشدد کا راستہ نہ اختیار کر سکیں۔ یہ ٹرمپ منصوبہ ان سارے نکات کا احاطہ کرتا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کی تمام خواہشات کو پورا کرنے والا نہ ہو۔ لیکن یہ فلسطینی ریاست، استحکام اور تعمیر نو کی طرف پہلا قدم ضرور ہو سکتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر وہ موقع جسے ضائع کر دیا جائے وہ ایک بڑے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ جیسا کہ ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں دکھائی گئی ہچکچاہٹ سے فلسطینیوں کا خون بہا ہے اور ان کی زمین پر قبضہ ہوا ہے۔ اب آج ایک حقیقی موقع ہے کہ یہودی آبادکاروں اور اسرائیلی دباؤ کے باوجود فلسطینیوں کی ریاست کے چیپٹر کو مستقل بند کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ اگر فلسطینیوں نے اسرائیل کی اس کوشش کو دانشمندی سے ناکام بنایا تو اس کے بدلے میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ غزہ جس نے اب تک کی جنگ میں بہت بھاری قیمت ادا کی ہے مستقبل کی طرف ایک اہم پیش رفت کا ذریعہ بن جائے۔ لیکن اگر اس موقع کو ضائع کر دیا گیا تو یہ ایک اور بڑا نقصان ہوگا جو ماضی کی ناکامیوں کی طرح ایک بڑی ناکامی بن جائے گا۔