ایرانی وزیر خارجہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کےلیے کل اتوار کو اسلام آباد پہنچیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت ایک اعلیٰ سطحی وفد کل اتوار کو پاکستان پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ ایرانی وفد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے متعلق فنی مذاکرات کی نگرانی کرے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی اس ٹویٹ کو دوبارہ شیئر کیا ہے جس میں 24 گھنٹوں کے اندر معاہدے پر دستخط کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جو سنہ 2025ء کے 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ اور ایران مشرق وسطیٰ میں مہینوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں اور معاہدے کا حتمی متن تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ہم امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں اور توقع ہے کہ یہ معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان اب معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے لیے تیار ہے جس کی توقع آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہے اور اس کے بعد ہفتے کے دوران فنی سطح پر بات چیت ہو گی۔

پاکستانی وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ امریکہ اور تہران کے درمیان یہ تاریخی معاہدہ پائیدار امن کی بنیاد رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے دوران مسلسل عزم کے لیے امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور خطے میں اپنے بھائیوں کی حمایت پر ان کے گہرے مشکور ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ دیرپا امن کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔

تاہم ایران نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حتمی خاتمے کے لیے 24 گھنٹوں کے اندر امریکہ کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ہمیں دستخط کی صحیح تاریخ جاننے کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔ یہ اتوار کو نہیں ہوگا اور امکان ہے کہ یہ آنے والے دنوں میں طے پائے۔

یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس نے مشرق وسطیٰ میں تباہ کن بحران کو جنم دیا اور اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد، خاص طور پر ایران اور لبنان میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، نیز عالمی معیشت کی بنیادیں بھی ہل گئیں۔

آٹھ اپریل سنہ 2025ء کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں کچھ عرصے کے لیے کشیدگی میں کمی آئی تھی تاہم ایران پر امریکی بمباری اور خلیجی عرب ممالک میں ایرانی حملوں سمیت وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی، جبکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی میزائل حملوں اور فضائی بمباری کے ساتھ علیحدہ کشیدگی جاری رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں