متصادم نظاموں کی دنیا اور خلیج کے ہاتھوں میں استحکام کا سب سے بڑا ہتھیار!

ممدوح المہينی
ممدوح المہينی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

دنیا میں لڑائیاں اور جنگیں صرف ملکوں کے درمیان نہیں لڑی جاتیں۔ بلکہ تصادم اور ٹکراؤ کا ایک اہم میدان دنیا میں جاری نظاموں کے درمیان بھی ہمہ وقت کسی نہ کسی صورت موجود رہتا ہے۔ اس ٹکراؤ میں کبھی شدت آ جاتی ہے تو کبھی یہ ٹکراؤ سرد جنگ کی شکل اختیار کیے ہوئے ایک دوسرے کو ٹارگٹ کرتے رہتے ہیں۔

روس اور یوکرین کے درمیان اب تیسرے سال کے قریب پہنچنے والی جنگ بھی درحقیقت دو ریاستوں سے زیادہ دو نظاموں کے درمیان ہی لڑی جا رہی جنگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے اس جنگ کو اپنی جنگ کے انداز میں لیا۔ یوں یہ جنگ یوکرین آج بھی لڑ رہا ہے۔ اگر معاملہ صرف دو ریاستوں روس اور یوکرین کے درمیان کا ہوتا تو شاید جنگی منظر اور پیش منظر اور ہوتا۔

ایک جانب امریکہ اور یورپی ممالک یوکرین کی پشت پر کھڑے ہیں اور دوسری جانب چین اور شمالی کوریا کے لوگ ماسکو کی حمایت میں موجود ہیں۔ تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو امریکہ نے نازی جرمنی کے خلاف یورپ کا ساتھ بھی اسی بنیاد پر دیا تھا۔ امریکہ کے اس ساتھ کے بدولت نازی جرمنی اور محوری طاقتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وجہ صاف تھی کہ ہٹلر اگر یورپی ملکوں کے خلاف جیت جاتا تو اس کا محض یہ مطلب نہ تھا کہ نازی جرمنی نے یورپ کے بعض ملکوں کو شکست دے دی۔ بلکہ اس کا یہ بھی مطلب ہوتا کہ امریکہ کے مفادات بھی زد میں آ جاتے اور جرمنی کے ہاتھوں یورپی شکست محض چند ملکوں کی شکست نہ ہوتی بلکہ اس نظام اور معیشت کی تباہی و شکست ہوتی جس کی بنیاد پر یورپ اپنی خوشحالی و استحکام کے خواب دیکھ رہا تھا۔

یوں شکست صرف جنگ کے میدان میں نہ ہوتی بلکہ معیشت کا میدان بھی ہاتھ سے نکل جاتا۔ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ نے بغیر کسی بڑی قیمت کے ادا کیے برطانیہ کے قائم کردہ آزاد تجارتی نظام سے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ اگر جنگ عظیم میں ہٹلر کو فتح ہو جاتی تو اس کا مطلب واضح تھا کہ مغربی دنیا کا لبرل آرڈر خاک میں مل جاتا اور نہ صرف یورپ تجارتی اعتبار سے اپنے بنائے ہوئے مضبوط نظام سے محروم ہو جاتا بلکہ امریکہ بھی بحری تجارتی راستوں سے محروم ہو جاتا اور اس کی ترقی و استحکام کا سبب بننے والی تجارت بہت پہلے ہی سمندر برد ہو چکی ہوتی۔ کیونکہ ہٹلر کی جیت کے بعد تجارتی راستوں اور تجارتی جہازوں پر ہٹلر اور اس کے جرمنی کی بالا دستی ہوتی۔ لیکن امریکہ اور یورپ ہٹلر کی شکست سے گویا اپنے آپ کو بچا لے گئے۔ وہ دن اور آج کا دن ہے کہ امریکہ نے یورپ سے اپنی قربت میں کمی نہیں آنے دی ہے۔

ایک مارشل پلان کے تحت تجارتی و اقتصادی رشتوں کو امریکہ نے مضبوط تر کیا۔ نیز نیٹو کے توسط سے آئندہ کے عسکری خطروں کا راستہ روکا بلکہ یوں کہیے کہ یورپ کو جنگ سے پاک علاقہ بنانے کی بنیاد رکھ دی۔ نیٹو کی تشکیل سے یورپ جنگ کے بعد پھر سے عسکری قوت کو بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے مقابلے میں فاشسٹ جرمنی کے دوبارہ کبھی اٹھنے کا موقع نہ رہا۔ امریکہ اور یورپ کے ملکوں نے مل کر جرمنی کے وحشیانہ ناخنوں والے پنجے کاٹ دیے اور پھر اسے بھی سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کی بوتل میں بند کر دیا۔ آج جرمنی یورپ و امریکہ کے نظام کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔

امریکہ اور یورپ کی چین سے پریشانی کیوں؟

اس کی ایک اہم بڑی وجہ معاشی مسابقت ہے۔ لیکن امریکہ اور یورپ کو جو اصل فکر دامن گیر ہے وہ چین کی وہ اہلیت ہے جو ایک نئے بین الاقوامی نظام کی تشکیل کا باعث بن سکتی ہے۔ چین کا یہ امکانی تشکیل دیا جانے والا نظام بلاشبہ امریکہ و یورپ کے موجودہ نظام سے ٹکراؤ پر مبنی ہوگا۔ یہ بھی خطرہ ہو سکتا ہے کہ نیا نظام پرانے چلے آ رہے نظام کی جگہ لینے کی کوشش کرے۔

یہ بات امریکہ و یورپ کے لیے کیونکر قابل قبول ہو سکتی ہے۔ کہ ان کا جنگ عظیم دوم کے بعد سے تشکیل کردہ نظام ہی ان کی خوشحالی، ترقی اور بالا دستی کا ضامن چلا آ رہا ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد اس نظام کو یورپ سے ایشیا تک پھیلا دیا گیا اور جاپان اس کا ایک اہم مرکز رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ ریاستوں کی مسابقت اور تصادم کی وجہ ان کے درمیان پائی جانے والی نفرت نہیں ہوتی۔ بلکہ اصل وجہ ان کا سیاسی اور معاشی نظام ہوتا ہے۔ ہر کوئی اپنے سیاسی و معاشی نظام کا دوسرے پر تسلط چاہتا ہے۔ تاکہ اپنے نظام کو بالا دست بنا کر اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بناتا رہے۔

ہمارے اپنے اس خطے میں بھی ایک ایسی ہی کوشش صدام حسین نے کویت پر حملہ کر کے کی تھی۔ تاکہ وہ اس علاقے میں اپنے نئے آرڈر کو مسلط کرنے کی طرف پیش رفت کر سکے۔ صدام کو ان ملکوں کی حمایت حاصل تھی جو اس کے ساتھ نظریات و مفادات کا اشتراک رکھتے تھے۔

صدام امید کر رہا تھا کہ دنیا اس کی تخلیق کردہ حقیقت کو ہی درست مان لے گی اور پھر اس کے مطابق اس کے ساتھ چل پڑے گی۔ لیکن شاہ فہد کے تاریخ ساز اور جرات مندانہ فیصلے نے صدام کا راستہ روک دیا۔ شاہ فہد کے اس فیصلے کے نتیجے میں خلیج کا استحکام اور ہم آہنگی پوری طرح قائم دائم رہا بلکہ اس کو مستقبل کے حوالے سے بھی ایک راہ عمل مل گئی۔ خلیج کا یہ اتحاد و استحکام ایک بڑے ہتھیار کی صورت صدام کے ویژن اور اہداف سے ٹکرا گیا۔

ایران نے بھی اپنے انقلاب کو پورے خطے میں برآمد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس مقصد کے لیے عسکری ملیشیائیں تشکیل دیں۔ تاکہ اپنی ان پراکسیز کے ذریعے ایسا نظام قائم کر سکے جو اس کے مفادات کا محافظ ہو۔ جو ایران کو خطے میں غلبہ دے اور اس کے اثر رسوخ کو وسعت دینے کا موجب بنتا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ حسن نصراللہ، جنرل قاسم سلیمانی اور علی طباطبائی اسی ایرانی منصوبے کے جانثار سپاہی تھے۔

ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے بھی اپنے اقتدار کے پہلے دور میں اپنا نظام مسلط کرنے کے ایسے ہی خواب دیکھے تھے۔ تاکہ اخوان کے سیاسی اسلام کے نظریے اور دور عثمانیہ کی تجدید کے امتزاج سے اپنے اہداف حاصل کر سکے۔

لیکن ان سب یلغاروں کے مقابل خلیجی ریاستوں نے بھی اپنا علاقائی نظام مستحکم بنیادوں پر تشکیل دیا۔ خلیجی ممالک کا یہ نظام انتہا پسندانہ قوم پرستی اور مذہبیت پر مبنی نظریات سے پاک رکھا گیا ہے۔ اس کے برعکس اس کی بنیاد استحکام معیشت، عوامی خوشحالی اور مذہبی و ثقافتی رواداری کے نکات پر ہے۔ خلیجی ملکوں نے ایک کھلے پن پر مبنی نظام کو اپنا ہتھیار بنایا ہے۔ اسی کی بنیاد پر خلیجی نظام بے پناہ دولت پیدا کرنے کا سبب بھی بنا ہے۔ سرمایہ کار، کامیابی حاصل کرنے والے اور ہر قومیت کے پر جوش لوگ اب خلیجی دنیا کو اپنا مرکز بنانا پسند کرتے ہیں۔ خلیج سب کا گھر بن چکا ہے۔

خلیجی ممالک کے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ تذویراتی نوعیت کے تعلقات ہیں۔ یہ تعلقات معاشی و اقتصادی مفادات کے محافظ ہیں۔ ان خلیجی ملکوں نے اس کامیابی کے لیے آزمائشوں اور امتحانات کا بھی سامنا کیا ہے اور پورے تدبر سے سب کا مقابلہ کیا ہے۔ ہر طرح کے بحرانوں کا بھی نہ صرف مقابلہ کیا ہے بلکہ ان بحرانوں پر قابو بھی پا لیا ہے۔

لیکن خیال رہے یہ سب محض اتفاق نہیں ہے۔ بلکہ طویل مدتی حکمت عملی، مشترکہ مفادات کے گہرے شعور، مشترکہ اقدار کے لیے گہری کمٹمنٹ اور مشترکہ دشمنوں کے بھرپور ادراک کی بدولت ممکن ہوا۔

خلیج کے دشمن اس خلیجی نظام کو توڑنا چاہتے ہیں، اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ بلکہ زیادہ بہتر الفاظ جن کا میں نے اپنے پچھلے کالم میں سہارا لیا تھا کہ دشمن سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ اس کی جگہ ایسا نظام دیں جو ان کے مفادات کے لیے ہو۔ ان کی ضروریات کے لیے اہم ہو۔ یہی ان کی فتح ہو سکتی ہے۔

ان خلیج دشمنوں کا مقصد خلیجی نظام کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اس کے تعلقات کو سبوتاژ کرنے کا ہے۔ یہ دشمن خلیجی اتحاد کو ختم دیکھنے کے لیے اور اس کے مفادات کو زک پہنچانا چاہتے ہیں۔

اب بحرین میں خلیج سربراہ کانفرنس اسی امر کی یاددہانی کے لیے سامنے آئی ہے کہ خلیجی ممالک کا یہ علاقائی نظام غیر مستحکم دنیا اور ٹوٹ پھوٹ کے شکار خطے میں مضبوط اور ہم آہنگ ہے۔ خلیج کا استحکام ایک سیاسی و تذویراتی ضرورت ہے جو اس کے اتحاد میں مضمر ہے۔ اس لیے یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ ہماری کمزوری یا شکست و ریخت بدنیتی رکھنے والے اداکاروں کا حوصلہ بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔ جبکہ ہماری قوت، اتحاد اور استحکام ان بدنیتوں کے لیے حوصلہ شکن ثابت ہو گی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size