سعودی عرب کا دنیا میں نرم قیادت کے طور پر ابھرنا
اکیسویں صدی میں دنیا میں طاقت اور قوت کے تصور میں ایک ڈرامائی ارتقا وقوع پذیر ہوا ہے۔ اس نئے ڈرامائی مرحلے پر جہاں فوجی و معاشی طاقت کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے وہیں طاقت کی نئی شکل بھی یکساں طور پر سامنے آ رہی ہے اور یہ طاقت بین الاقوامی تشکیل میں ایک نرم طاقت کے طور پر ہے۔
نرم طاقت کو اس طرح دیکھا جا سکتا ہے کہ کسی ریاست کی علاقائی و عالمی ایشوز کو اس طرح دیکھنا اور لے کر چلنا کہ اپنے سفارتکاری تعلقات کے ذریعے اثر انداز ہوا جائے نہ کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کی جائے۔ جیسا کہ فوجی طاقت کے طور پر کیا جاتا ہے یا کیا جاتا رہا ہے۔
اس طرح کی کوششوں کا تکمیلی مرحلہ یعنی یہ کوششیں اپنے اطلاق تک ایک انتباہ اور دھمکی کی شکل میں بھی ہوتی رہی ہیں اور معاشی طریقہ کار یا طرز استحصال کو بھی بروئے کار لایا جاتا رہا ہے۔ یہ معاشی حربے کسی ملک یا ملکوں کے لیے ترغیبات کی شکل میں بھی سامنے آتے رہے ہیں اور بصورت دیگر بھی۔ اس کے نتیجے میں ملکوں کے درمیان رضاکارانہ ارتباط بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
نیز یہ کوششیں ثقافتی قربت اور اثر کے باعث بھی آگے بڑھائی جاتی ہیں۔ اقدار کا اشتراک بھی ذریعہ بنتا ہے۔ تعلیم اور سفارتکاری، ذرائع ابلاغ اور مختلف دائروں میں کام کرنے والے ادارے بھی اس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور بڑی اقوام اور طاقتور ملک دوسری حکومتوں اور ملکوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مواصلات کے ممکن اور مؤثر ہو جانے کے اس جدید ماحول میں سوشل میڈیا کے ذرائع سے اور سرحدوں کے راستے تبادلے کے نتیجے میں قوموں کا تشخص اور شناخت و شہرت سب پر بہت غیر معمولی اثرات آ رہے ہیں۔
اس صورتحال نے ملکوں کے لیے ایک نیا امکان بھی پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی نرم طاقتوں کے مؤثر استعمال کے ذریعے عالمی سطح پر بیانیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اپنے بیانیے ہی کی بنیاد پر دنیا بھر سے باصلاحیت افراد اور سرمایہ کاری کو اپنے ہاں لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور اپنے اسی بیانیے کی طاقت کی بنیاد پر نئے اتحادوں کی تشکیل کو ممکن بناتے ہیں۔ جس کے واضح طور پر اثرات کا حجم دیکھنے میں ابھی مشکلات ہو سکتی ہیں۔
مثال کے طور پر ایک ملک کی فنون لطیفہ کی اگر پذیرائی ہوتی ہے، اس کے ہاں ہونے والی جدت و ایجاد کو سراہا جاتا ہے اور اس کی سفارتکاری بین الاقوامی سطح پر موجود اقدار پر اثر انداز ہوتی ہیں، وہ اپنے ملک میں سیاحوں اور سرمایہ کاروں کو لانے میں کامیاب ہوتا ہے اور مختلف سطحوں پر علاقے میں یا عالمی سطح پر موجود جھگڑوں اور لڑائیوں کو صلح کی طرف لے جانے کی صلاحیت کا اظہار کرتا ہے تو یہ اس کی اثر پذیری کے مظاہر ہیں۔
ان مختلف تناظرات میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نرم طاقتی یا نرم قوت ہونے کی شناخت جو کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے وہ نتائج فوجی اقدامات سے بھی حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ یوں تزویراتی میدان میں ان امور میں کسی ریاست کی ہنر مندی اور مہارت اسے مرکزی سطح پر لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
سعودی عرب کا عالمی منظرنامے پر نرم طاقتی قائد کے طور پر ابھرنا
سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں غیر معمولی طور پر ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو تزویراتی میدان میں اسے ایک نرم طاقت کا درجہ دینے کا اظہار کرتی ہیں۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر قیادت مملکت سعودی عرب 'ٹرانسفارمیشن' کے ایک جامع پروگرام اور بلند عزائم اور اہداف کے ساتھ ابھری ہے۔ یہ عزائم اور اہداف مملکت کے اندرون کے لیے بھی ہیں اور بین الاقوامی برادری کے درمیان بھی۔
اس کامیابی کو ولی عہد کے ویژن 2030 کا مرکزی نقطہ اور حاصل بھی کہا جا سکتا ہے۔ جو ایک معاشی تنوع کے روڈ میپ کی شکل میں بڑے جامع انداز میں سامنے آیا ہے۔
ویژن 2030 کے تحت سعودی معاشرے کی جدید کاری، عالمی سطح پر سعودی عرب کی موجودگی کو بڑھانا، معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے قابل بھروسہ انیشی ایٹیوز کو ویژن کا حصہ بنانا کلیدی نکات کے طور پر ویژن 2030 میں موجود ہے۔
ولی عہد نے واضح طور پر کلچر، انٹرٹینمنٹ اور ٹورازم کو اہم 'ہتھیاروں' کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جو سعودی عرب کے قومی اثر و رسوخ کے بڑھانے کا مؤجب بنے ہیں۔
ان 'انیشی ایٹیوز' کے ذریعے سعودی عرب نے عالمی سطح پر اپنے تشخص کو تیزی کے ساتھ ایک متحرک ثقافتی شناخت کے طور پر ابھارا ہے۔ جہاں تفریح و آسائش، تعیش اور کھیلوں کے سارے سامان دستیاب ہیں۔ ان سارے پہلوؤں نے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ ان متوجہ ہونے والوں میں عالمی سطح کے سرمایہ کار بھی شامل ہیں اور دنیا بھر سے آنے والے سیاح بھی۔
سعودی عرب میں ثقافتی ترقی کو معاشی اصلاحات کے ساتھ جوڑتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر سفارتی اثر پذیری کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے اور سعودی عرب مکمل طور پر ایک 'سافٹ پاور' کے طور پر اپنا تعارف کرانے میں کامیاب رہا ہے۔ جو کہ اس کی قومی تزویراتی سوچ کا حصہ ہے۔
میلے و تفریحی تقریبات: سعودی عرب 'سافٹ پاور' ہونے کے تاج میں سجے اہم نگینے
سعودی عرب کے اس 'سافٹ پاور' یا نرم طاقت ہونے کے اظہار میں ان میلوں، ٹھیلوں، موسمی تہواروں اور تفریحی تقریبات کو انتہائی نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں 'ریاض سیزن' دارالحکومت کے بڑے میلوں میں سے سب سے بڑا میلہ ہے۔ حتیٰ کہ دنیا میں بھی اس میلے کی وسعت و کشش کو محسوس کیا جاتا ہے۔ یہ کئی مہینوں پر محیط ہوتا ہے اور کئی قسم کی سرگرمیاں پیش کرتا ہے۔ اس میں موسیقی، رقص و سرور سے لے کر مختلف طرز کی نمائشیں، فوڈ مارکیٹس، تفریحی سرگرمیاں، تہواروں کی شادمانی کا ماحول، ملکی و بین الاقوامی سطح سے توجہ حاصل کرنے کا بڑا اہم ذریعہ ہیں۔ جو چیز اس 'ریاض سیزن' کو دوسرے ملکوں کے لوگوں کے لیے بھی ٹھہرنے کے اشتراک کے رشتے میں جوڑ دیتی ہے وہ اس 'ریاض سیزن' کے تخلیق کاروں کی صلاحیت ہے کہ وہ اسے اس طرح تخلیق کرتے اور ترتیب دیتے ہیں۔
سعودی عرب کی ان تقریبات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خوب شیئر کیا جاتا ہے۔ یوں یہ تقریبات شادمانیوں کے گہرے تاثر کے ساتھ عرصے تک موجود رہتی ہیں۔
ان میلوں، ٹھیلوں کے اثرات دنیا میں تزویراتی اثرات کی پیدا گری میں بھی کردار ادا کرتے ہیں اور اندرونی طور پر لوگوں کو باہم جڑے رہنے اور قریب کرنے میں بھی جدت کاری کے آلے کی صورت موجود ہیں۔
یہ شہریوں کو ثقافتی تجربات سے گزارتے ہیں جو ماضی میں سعودی عرب میں کم ہی دیکھنے میں آتے تھے۔ یوں یہ تہوار، میلے، تقریبات دنیا بھر میں سعودی عرب کی ایک نئی شناخت اور تشخص کا باعث بن رہے ہیں کہ سعودی عرب ایک ایسی قوم کا نمائندہ ہے جو تخلیقی و ثقافتی حوالوں سے دنیا بھر کے لیے ایکسچینج پروگراموں کا مرکز ہے۔ اس کے ہاں معاصر تفریحی سرگرمیاں بھی ہیں، 'ریاض سیزن' جیسے میلے بھی ہیں، 'جدہ سیزن' جیسی خوش رنگیاں بھی اور ' درعیہ سیزن' کی سرگرمیاں بھی۔ یہ ساری چیزیں سیاحوں کو اپنی جانب مائل کرتی ہیں۔ بین الاقوامی فنکاروں کو سعودی عرب لانے کا باعث بنتی ہیں۔ عالمی سطح کی نمایاں، معروف اور نامور شخصیات سعودی عرب کی طرف کھچی چلی آتی ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا سعودی عرب کو اپنی توجہات میں مرکزی جگہ دینے پر مجبور ہوتا ہے۔ یوں یہ ثقافتی سفارتکاری کی ایک علامت کے طور پر ایک منظم شکل میں سامنے ہوتے ہیں۔
موسیقی کے میلے سعودی ویژن کے طرز فکر کو اور زیادہ نمایاں کرتے ہیں۔ انہیں میں انتہائی اونچے پروفائل کی MDLBEAST اور Soundstorm جیسی تقریبات نے بین الاقوامی سطح کے ہپ ہاپ اور پاپ فنکاروں کو بھی سعودی عرب کی راہ دکھائی ہے اور سعودی عوام کو ان سے قریب کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں سعودی مملکت نے اپنے نئے ویژن کے مطابق مملکت کی نوجوان نسل کے لیے ایسا وائرل ہونے والا مواد بھی تیار کیا ہے جو مملکت کی اس نئی شناخت اور رجحان کو تقویت دینے کا باعث ہے۔ ان واقعات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ثقافتی طرز کے تماشے جب تزویراتی ضرورتوں کے طور پر عمل میں لائے جاتے ہیں تو تجربات کا اشتراک مملکت کو ایک نئی نرم طاقت بنا کر ایسے پہیوں کا کام کرتا ہے جو آسانی سے سعودی مملکت کی سرحدوں سے باہر تک رسائی پاتے ہیں۔
ثقافتی ڈھانچے کے ذریعے طویل مدتی اثرات کی تشکیل
سعودی عرب میں ثقافتی انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری سعودی عرب کو ایک نئی 'سافٹ پاور' کے طور پر متعارف کرانے میں ایک اہم ستون کے طور پر کردار ادا کرتی ہے۔ قدیہ نیوم شہر اور شاہ عبدالعزیز مرکز برائے عالمی ثقافت جیسے تفریحی منصوبے فنون اور تخلیقات کے اظہار کی مستقل جگہیں بن گئے ہیں۔
عارضی تہواروں کے مقابلے میں یہ طویل مدتی منصوبے سعودی عرب میں ثقافتی تبدیلیوں اور تعلیم و سیاحت کے لیے پورا سال مواقع فراہم کرنے کے ذریعے ہیں اور سعودی عرب کی ثقافتی ترقی کے لیے ایک طویل مدتی کمٹمنٹ کی علامت ہے۔ یہ تیاریاں اور اقدامات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب میں نرم طاقت کے طور پر ابھرنے کی خواہش محض کسی وقتی مارکیٹنگ کے جذبے کی عکاس نہیں ہے۔ بلکہ ایک مستقل، دائمی قومی حکمت عملی کی بنیاد ہیں۔
اس لیے یہ بنیادی ثقافتی ڈھانچے بین الاقوامی سطح پر تعاون کے لیے پلیٹ فارمز کے طور پر بھی بروئے کار ہیں۔ ان میں عجائب گھر ہیں، تصاویر کی گیلریاں ہیں، ثقافتی مرکز ہیں، غیر ملکی ثقافتی اداروں کے ساتھ شراکت و قربت ہے جو ان شہروں اور پائیدار حکمت عملی کے مظہر مراکز کی شناخت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ یہ جگہیں سعودی عرب کے فنکاروں اور بین الاقوامی سطح کی شہرت رکھنے والے دنیا بھر کے فنکاروں کے آپس کے رابطوں، اشتراک اور تعاون کا ذریعہ ہیں۔
سعودی عرب کی بادشاہت ان تمام ثقافتی اشتراک کے نیٹ ورکس کو تقویت دے رہی ہے تاکہ لوگوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دیا جائے اور ثقافتی اہمیت کو پائیداری میسر آئے۔
تفریح طبع سے ماورا ثقافت و سفارتکاری
سعودی عرب کے بین الاقوامی سطح پر ایک نرم طاقت کے طور پر ابھرنے کی حکمت عملی مذکورہ بالا تہواروں اور ثقافتی انفراسٹرکچر سے بھی آگے کی منزلوں کی طرف گامزن ہے۔ مملکت نے بین الاقوامی سطح پر عجائب گھروں کے ساتھ روابط، فلمی و میلوں کے انعقاد اور تعلیمی اداروں کی سطح پر اشتراک کار کو ثقافتی سفارتکاری کے مؤثر ہنر کے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں ثقافتی شراکتیں، تبادلے، فنکاروں کی سطح پر تعاون اور تعلیم و تربیت کے شعبے میں نئی نسل کے لیے ان امکانات کا فروغ سعودی عرب کو ایک مختلف اور نرم اثر انگیزی کے ساتھ دنیا میں پیش کرنے کا ذریعہ بنا ہے۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ مملکت سعودی عرب ایک انتہائی ذمہ دار اور پرکشش عالمی اداکار کے طور پر اپنی ساکھ میں اضافہ کر کے مشترکہ انسانی کوششوں میں شریک ہو چکی ہے۔
سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ اور نشریاتی شعبے کے اقدامات بھی ویژن 2030 کے محور میں بننے والی حکمت عملی کے فروغ کے لیے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ سعودی ذرائع ابلاغ اس ثقافتی ورثے اور معاشرے کی جدت کاری کو اجاگر کرتے ہوئے سعودی معاشرے کے ان پہلوؤں کو نمایاں کرنے کے لیے مواد فراہم کر رہے ہیں جو سعودی جدت پسندی کا تاثر پیدا کرنے والے ہیں۔ یوں مملکت اپنی سرحدوں سے بہت دور تک اپنے لیے سامعین کا اہتمام کرنے میں کامیاب ہے۔ فلم، ٹی وی اور سٹریمنگ سے متعلق منصوبے اسی بیانیے کو پیش کرنے کے لیے بروئے کار ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ سارے شعبے پرانے اور بوسیدہ ہوچکے قدیمی نظریات و تصورات کو چیلنج بھی کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں عالمی برادری کے سامنے سعودی عرب اپنے ایک نرم اور نفیس تعارف کو پیش کرنے میں کامیاب ہے۔
کھیلوں کے ذریعے سفارتکاری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی اور جہت ہے۔ سعودی عرب بین الاقوامی کھیلوں کی میزبانی کرنے کے لیے پیش پیش ہے۔ یہ کھیلیں فٹبال کے ٹورنامنٹس کی شکل میں ہوتی ہیں، باکسنگ کے میچوں کی شکل میں یا مارشل آرٹس کے مقابلوں کی صورت میں۔ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ بہر طور عالمی ثقافتی تجربات کا حصہ بنے۔ کھیل، زبان اور سیاست کے امتیاز کے فرق سے بھی بالا تر چیز ہے۔ اس لیے یہ مشترکہ طور پر جوش و خروش کے وہ مواقع فراہم کرتے ہیں جو مملکت کے کھلے پن کی سمت میں ایک متحرک معاشرے کی صورت گری کرتے ہیں۔
سفارتکاری و ثالثی
عملی طور پر دیکھا جائے تو سعودی عرب کا ایک نرم طاقت کے طور پر ابھرنے کا یہ کردار اور تشخص محض ثقافتی تحرک تک محدود نہیں رہا ہے۔ اس عرصے میں سعودی عرب کے سفارتی اثر و رسوخ کو بھی ایک نئی شکل ملی ہے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے علاقے کی سطح پر تنازعات اور بین الاقوامی سطح پر پائے جانے والے جھگڑوں میں ایک ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس تناظر میں سعودی عرب کو خلیجی ممالک کے درمیان مفاہمانہ بات چیت کی میزبانی سے لے کر یمن اور اس کے علاوہ بھی ملکوں کو بات چیت کے لیے سہولت دینے میں سعودی عرب کا کردار سعودی عرب کی ثقافتی کشادگی اور غیر جانبدار اجتماعی قوت کی صورت میں اس لیے بروئے کار ہے کہ سعودی عرب اپنی ساکھ کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب مذاکرات اور بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ریاض اپنی ثقافتی خیر سگالی کو بھی ایک سفارتی سرمایے کی شکل میں ڈھال رہا ہے۔
یوں اس کے ثقافتی اور سفارتی رنگوں کا امتزاج عالمی سطح پر اس کے وزن کو نہ صرف بڑھاتا ہے بلکہ قبولیت اور پذیرائی کا بھی باعث بن رہا ہے۔
مملکت کے اثرات کا اندازہ
جس انداز سے سعودی عرب ایک 'سافٹ پاور' کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی اس نرم طاقت کے اثرات مختلف پہلوؤں سے نظر آرہے ہیں۔ اس کا ایک حوالہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی صورت میں موجود ہے کہ دنیا بھر کے لوگ سعودی عرب کی اس نئی شناخت اور کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔
سعودی عرب اپنے ہاں منعقد کیے جانے والے میلوں، تہواروں اور تقریبات میں لاکھوں لوگوں کو کھینچ رہا ہے اور عالمی سطح پر ہونے والی ان تقریبات کی کوریج سعودی عرب کی فنون و موسیقی، تفریح کی پھیلتی ہوئی کہانیوں کو جگہ دے رہی ہیں۔ اسی دوران سعودی عرب نے نئی معیشت کی تخلیق کاری کے لیے سرمایہ کاروں کے لیے مواقع فراہم کیے ہیں اور نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔
سعودی عرب کاروبار اور تجارت کی ایک حوصلہ افزائی کرنے والے ملک کے طور پر سامنے ہے۔ جس میں مقامی ٹیلنٹ بھی پروان چڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی سعودی ثقافتی و سفارتی اقدامات کو ایک قابل اعتبار شراکت دار کے تعارف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تعاون و تجارت کے علاوہ مذاکرات اور بات چیت کے دروازے کھولتا ہے۔
یہ ایک ایسے ملک میں غیر معمولی بات ہے جو قدامت پسند معاشرتی اصولوں اور نظریات سے جڑا ہوا تھا۔ مگر اب یہ جدید ثقافتی رجحانات اور بین الاقوامی پذیرائی کے ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آرہا ہے۔
حقیقتاً یہ صورتحال سعودی مملکت کی ایک نئی 'سافٹ پاور' کے طور پر ابھرنے کی نشاندہی ہے۔ جس کی مثال سعودی عرب زبردست طریقے سے پیش کرتا ہے کہ ایک مملکت بھرپور حکمت عملی کے ساتھ اپنی اس نرم طاقتی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کس طرح قومی اہداف حاصل کر سکتی ہے۔
ویژن 2030 کے تحت سعودی عرب میں تہواروں سے متعلق تقریبات کا انعقاد ثقافتی شغل اور سرگرمیاں بین الاقوامی سطح سے لوگوں کی شرکت، کھیلوں کے ذریعے سفارتکاری سعودی عرب کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے مختلف ذرائع ہیں۔
یہ ذرائع ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب کو ایک نرم طاقت کے طور پر مقام ملنا کوئی حادثاتی واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک شعوری تیاری، حکمت عملی اور نقشہ کاری موجود ہے۔ جو مستقبل میں زیادہ پائیداری پا سکتی ہے۔
سعودی عرب کا یہ تجربہ بلاشبہ اس کے اثر و رسوخ کے پائیدار ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کو سعودی عرب میں سماجی و ادارہ جاتی ترقی و تحفظ سے جوڑ دیا گیا ہے۔ جبکہ تخلیقی آوازیں سعودی عرب میں بااختیار بنائی جا رہی ہیں۔
تہوار، تعلیم، فن اور تخلیقی سفر کے ساتھ صنعتوں کی تشکیل اور حکمرانی کا اسلوب بڑے سرمایے کی صورت میں مؤثر ہے اور سعودی عرب کا شاہی نظام یہ مثال بن رہا ہے کہ آج کی دنیا میں قومیں کس طرح اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتی ہیں اور ثقافتی و سفارتکاری کو کس طرح اپنی نرم طاقت کے طور پر روئے کار لا سکتی ہیں۔