30 سال بعد مشرق وسطیٰ کیسا نظر آئے گا؟
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ آج نئے دور میں داخل ہونے کے قریب ہے اور یہ بھی کہنا غلط نہیں کہ ایک نیا دور مشرق وسطیٰ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
خطے کی مضبوط اور با اثر طاقتیں اپنی حاصل ہو چکی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جبکہ علاقے میں ابھرنے والی نئی شناختیں مزید آگے بڑھنے اور بلندی کو چھونے کی اہلیت کو آزما رہی ہیں کہ وہ اور کس قدر بلندی پا سکتی ہیں۔
اسی طرح دیگر یہ تصور کیے ہوئے ہیں کہ گزرنے والے لمحے کا مطلب یہی ہے کہ ان کے غلبے کا اب راستہ کھلا ہوا ہے۔ اس تناظر میں اس سوال کا ابھرنا فطری ہے کہ تیس سال بعد کا مشرق وسطیٰ کیسا ہوگا؟
اس سوال کی روح یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں مشرق وسطیٰ کے لیے قابل عمل اور پائیدار لائحہ عمل یا منصوبہ کس کے پاس ہوگا۔ اس منصوبے کے لیے لازم نہیں ہے کہ بلند بانگ باتیں کون کر رہا ہوگا یا دوسروں کے بارے میں کون کیا کیا شرائط گھڑ گھڑ کے لا رہا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اس بڑی تبدیلی کا پیشگی ادراک کون رکھتا ہوگا اور اس کے لیے ہمہ پہلو سنجیدہ تیاری کے ساتھ ایک کارگر منصوبہ کون رکھتا ہوگا۔
کئی سال پہلے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ آنے والے وقتوں میں مشرق وسطیٰ ایک نئے یورپ کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ ان کا یہ تصور اور ویژن کسی جغرافیائی یا تمدنی تبدیلی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ولی عہد کی سوچ کی بنیاد یورپ کی وہ سیاسی اپروچ اور ترقی کا سفر تھا کہ سالہا سال کی طویل جنگیں لڑنے کے بعد یورپ نے ان جنگی قالب اور شناخت کو بدل کر ترقی اور خوشحالی کے قالب اور شناخت میں ڈھل جانے کافیصلہ کیا تھا۔ یہ ایک معاشی استحکام اور علوم و فنون کی ترقی کے زینے کی طرف بڑھنے کی بات تھی۔
نتیجہ یہ ہے کہ یورپ اب ترقی و خوشحالی کی ایک چلتی پھرتی اور زندہ مثال ہے۔ کیونکہ اس نے یہ جان لیا تھا کہ بقا کا کوئی اور راستہ نہیں بلکہ صرف اور صرف ترقی کی راہ ہے۔ ترقی کی راہ عمل صرف ایک مؤثر اشتراک اور پائیدار استحکام کی بدولت ممکن ہو سکتی ہے۔
اس تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یورپ نے ایک مشترکہ منڈی کی سوچ کو آگے بڑھایا اور طویل مدتی امن کی بنیاد رکھی۔ ایک ایسے پائیدار کی بنیاد جو سبھی یورپی ممالک کے مفاد میں تھا۔ یہ دفاع کے لیے تیاریوں کے توازن سے زیادہ معاشی ترقی کی بنت لیے ہوئے تھا۔
یورپ میں اختیار کیے گئے اس سیدھے سادے تصور کی اثر پذیری اور گہرائی کو نتیجہ خیز دیکھنے کے بعد صاف نظر آ سکتا ہے کہ اگلے تیس برسوں میں ہمارا خطہ بھی ترقی و استحکام کے ان زینوں پر ہو سکتا ہے مگر کچھ ممالک اس منظر نامے میں اس جانب سوچنے کے بجائے نئے پیدا ہونے والے امکانات کو اپنے غلبے کی ممکنہ آنکھ سے دیکھنے کے رجحان کے ساتھ ہیں۔ وہ خود کو ایک بڑی طاقت بنا کر خطے کی قیادت کے خواب دیکھنے میں مصروف ہیں۔
لیکن علاقائی سطح پر قائدانہ کردار کا کوئی خلا محض خوابوں اور نعروں کی بنیاد پر ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس کے لوازمات کافی مختلف اور حقیقت پسندانہ رویے کے متقاضی ہوتے ہیں۔ کیونکہ قیادت کا منصب ایک بڑی ذمہ داری بھی لاتا ہے۔ اس لیے اسے ٹھوس ستونوں کے بغیر تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔
قیادت کرنے کے لیے آج ایک طرف معاشی پیداوار کا مضبوط ڈھانچہ درکار ہے تو دوسری جانب مستحکم اداروں کی عملی صورت جو لمبی، گہری اور تجربے کے ساتھ ویژن رکھتے ہوں۔ اس قائدانہ کردار کے لیے اندرونی جواز کے علاوہ علاقائی اور عالمی سطح پر قبولیت اہم ہے۔ ان بنیادی لوازمات کے بغیر قیادت کے خواب ایک بوجھ ہوتے ہیں تعبیر نہیں پا سکتے۔ غلبے کی ان لوازمات کے بغیر خواہش یا کوشش ایک مہنگا جوا بھی بن سکتی ہے۔
زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ان لوازمات کے بغیر ایسی بڑھی ہوئی خواہش دوسروں پر انحصار کو حد سے بڑھا کر ان کا ایجنٹ بننے پر مجبور کردیتی ہے۔ یقینا کسی بڑی طاقت کا 'ایجنٹ' ۔ یہ طاقت علاقائی بھی ہو سکتی ہے اور عالمی بھی۔ اپنی حیثیت کو جلد بازی میں بڑھانے کے لیے اس طاقت کی سیاسی اور فوجی قوت پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے۔ مگر یہ طرز قیادت اپنے اندار احتیاج اور انحصار کی کمزوری لیے ہوتی ہے۔
کیونکہ اس کا پر پرواز اپنا نہیں بلکہ یہ دوسروں کے زور بازو کی محتاج ہوتی ہے۔ اسے دوسروں کی خواہشات کے بھی تابع رہ کر چلنا ہوتا ہے۔ ایسی مستعار کی قیادت اسی وقت آگے بڑھتی ہے جب اصل طاقت آگے بڑھتی ہے اور اس وقت اس کے قدم بھی رک جاتے ہیں جب اصل طاقت کے حساب کتاب میں فرق آنے لگتا ہے۔ فطری بات ہے کہ جس کی طاقت ہوگی حساب کتاب بھی اسی کا 'فالو' کرنا پڑے گا۔ اس ناطے یہ ایک اسیری تو ہوسکتی ہے قیادت ہرگز نہیں۔
اس لیے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ اگلے تیس برسوں کے بعد وہی ریاستیں منظر پر غالب نظر آئیں گی جو اپنے فیصلے خود کریں گی اور اپنی بنیاد پر کریں گی۔ نہ کہ وہ ریاستیں جو دوسروں کی لڑائیوں میں ان کی آلہ کار بن کر چلتی رہیں گی۔
اب ذرا آج کی اسرائیلی ریاست پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ بلا شبہ یہ فوجی اعتبار سے ایک نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بھی یہ ایک طاقت ہے۔ ایجاد و اختراع کی دنیا میں بھی اس کی ایک حیثیت موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے اپنے وجود کے حوالے سے مسائل اور چیلنج درپیش ہیں۔ خصوصاً اپنے سیاسی منصوبوں کے تناظر میں یہ وجودی مسائل سے نبرد آزمائی کے مرحلے میں ہے۔
نیویارک کے تھامس فریڈ مین نیتن یاہو کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے انتباہ کرتے ہیں کہ سیاسی افق پر چھا جانے کی خواہش کے لیے فوجی برتری ایک تذویراتی بوجھ میں بھی بدل سکتی ہے۔
بلاشبہ طاقت تحفظ اور بچاؤ کا باعث بنتی ہے مگر لازم نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر علاقائی سطح پر قبولیت بھی مل سکے۔ نہ ہی یہ جائزیت کے لیے جاری سعی کو کسی نتیجے تک پہنچانے کی ضمانت ہے۔ یہی اصول علاقے کی ان ریاستوں پر منطبق ہوتا ہے جو 'پراکسیز' پر انحصار کر کے اپنے علاقائی اثرات میں اضافہ چاہتی ہیں۔ اس سلسلے میں فوجی ملیشیائیں ان کے لیے اہم مدد گار بنی ہوئی ہیں۔
لیکن یہ اثرات ان ریاستوں کی اندرونی حالت بشمول ترقی، معیشت اور صلاحیت و اہلیت کو تو نہیں بڑھا سکتیں۔ لہذا وقت کے ساتھ ساتھ یہ ساری طاقت ضائع ہو کر رہ جاتی ہے۔
دوسری مملکتیں کسی ملک کی طاقت کا اندازہ اس سے ہرگز نہیں کرتیں کہ ان 'پراکسیز' پر انحصار کرنے والی ریاستوں کی کتنے محاذوں پر لڑائی جیسی کیفیت جاری ہے اور کہاں کہاں انہوں نے فساد کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔ بلکہ انہیں ان کے ہاں روزگار کی فراہمی و امکانات، تعلیمی معیار، عوام کے لیے سہولیات و خدمات کے معیار، عوامی زندگی میں خوشحالی و اطمینان، سلامتی کے حوالے سے اطمینان اور سکھ کے سانس کے تناظر میں پرکھا، جانچا اور تولا جاتا ہے۔
اس تناظر میں تیس سال بعد کے مشرق وسطیٰ کو دیکھنے کی کوشش کی جائے تو اس کے لیے دو امکانات ہی زیادہ توانا دکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ مشرق وسطیٰ بین السرحدات ایک معاشی و تجارتی مرکز ہوگا اور دوسرا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ یہ آنے والے برسوں میں دوسروں کی 'پراکسی جنگوں' کا مرکز بنا رہے۔
پہلے منظر نامے کے لیے امکانات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے لازم ہے کہ دیرینہ اور خطرناکی اختیار لیے ہوئے تنازعات کو جرات مندانہ اپروچ کے ساتھ طے کیا جائے۔ ان میں فلسطین کا تنازعہ اہم تر بھی ہے اور سنگین تر بھی۔
دوسری لازمی حقیقت یہ ہے کہ علاقائی سطح پر سلامتی و اس پر مبنی نظم صرف علاقائی مفادات میں اشتراک کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ اشتراک توانائی، ٹیکنالوجی کی یکساں فراہمی کی اپروچ کی بنیار پر یکساں اصول کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔
دوسرا منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو دیرینہ مسئلوں اور جاری بحرانوں کے سپرد کیے رکھا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ اتحاد ادل بدل ہوتے رہتے ہیں۔ مواقع اگر ابھرتے ہیں تو کھو بھی جاتے ییں اور ہاتھوں سے نہ صرف یہ کہ نکل جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات ان نتائج کے بالکل برعکس حالات پیدا کر جاتے ہیں جن کی توقع کر کے رسک لیے جاتے ہیں۔
آخر میں یہی کہنے کی بات ہے کہ مستقبل محض خوابوں اور تمناؤں پر مہربان نہیں ہوتا۔ جو ریاستیں ایک متوازن او مربوط منصوبہ بناتی ہیں، اپنی سلامتی اور ترقی میں ایک خاص توازن پیدا کرتی بلکہ قائم رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح کے تقاضوں کو سمجھتی ہیں اور اپنے لیے قبولیت کے امکانات کو بچا کے رکھتی ہیں نہ یہ کہ ان امکانات کو تباہ کرتی ہیں۔
وہ آگے بڑھ جاتی ہیں کہ وہ علاقائی سطح سے قبولیت حاصل کرنے کے لیے سند قبولیت کے حصول کی کوشش میں رہتی ہیں بلکہ حاصل کر کے رہتی وہی کامیاب ہوتی ہیں۔ کیونکہ انہیں سمجھ ہوتی ہے کہ علاقائی سطح سے قبولیت حاصل کی جاتی مسلط نہیں کی جاسکتی۔ ایسی ریاستیں ہی تیس سال بعد کے مشرق وسطیٰ کے فیصلے کرنے والی میز پر براجمان نظر آئیں گی۔
جو ریاستیں سمجھتی ہیں کہ دولت، ہنگامہ آرائی اور دوسرے ملکوں میں مداخلت یا ریشہ دوانیوں سے اور 'پراکسیز' کے توسط سے کامیابی مل سکتی۔ وہ درست سمت میں نہیں ہیں۔ ان کی سوچ اور عمل انہیں اگلے تیس سال میں بننے والے مشرق وسطیٰ میں کسی اہم کردار کی طرف نہیں لے جائے گا۔
ان ریاستوں کو جان لینا چاہیے کہ تاریخ ایسی ریاستوں کو قیادت نہیں دیتی۔ قیادت ان کے ہاتھ نہیں آتی جو اس کے لیے تیاری نہیں کرتی ہیں۔ بلاشبہ یہ خطہ ایک تشکیل کے مراحل میں ہے مگر سوال یہ نہیں کہ اس کی قیادت کے خواب کون دیکھتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس قیادت کی اہلیت کون ثابت کرتا ہے اور اس قیادت کے لیے قیمت ادا کرنے کا حوصلہ کس کے پاس ہے۔