ایرانی فوجی قوت کا خاتمہ
اگرچہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی ایک بڑی جنگ شروع ہوئے ایک ہفتہ ہی گزرا ہے۔ طاقت کے توازن میں ایک بڑے عدم توازن کے پیدا ہوجانے کی وجہ سے ایرانی رجیم کی فوجی قوت میں کمزوری آگئی ہے۔ اپنی انہی جنگی قوت اور صلاحیتوں کو ترک کرنے سے ایران طویل عرصے سے انکار کرتا رہا ہے۔ اب جو نتائج سامنے آرہے ہیں بڑے پیمانے پر انہی کی توقع کی جارہی تھی۔ اس کے باوجود کہ ایران کا لمبا چوڑا پراپیگنڈہ اس کے برعکس جاری رہا۔
اس پس منظر میں ایک تجزیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو جنگ کے ابتدائی نتائج ایرانی خطرے کو روکنے کے حوالے سے کامیابی ملی ہے۔ اگرچہ یہ مکمل فتح نہیں ہے۔ کیونکہ ایرانی رجیم ابھی باقی ہے۔
موجودہ صورتحال کی بنیاد پر یہ کہا جا رہا ہے کہ جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم ضروری ہوگا کہ ایرانی فیصلہ سازی میں انتہائی اور مؤثر کردار رکھنے والی پاسداران انقلاب کور ایسے جزوی سرنڈر کے لیے تیار ہو جائے۔ جس کے نتیجے میں ایرانی نظام بھی قائم رہ سکے۔
البتہ اس وقت ایران میں جو حالات ہیں ان کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایرانی رجیم جنگ کے بعد کے آخری لمحات میں ہوگی۔ حتیٰ کہ اندرونی بد امنی کا مسئلہ درپیش ہو یا بیرونی دباؤ کا چیلنج سامنے ہوا۔ گویا دنیا کو ایک کمزور ہی سہی ایرانی رجیم کے ساتھ رہنا ہوگا۔
یہ اس طرح کا منظر بن سکتا ہے جو کویت پر عراقی حملے کے بعد صفوان خیمے میں شکست کے معاہدے پر اس وقت کی صدام رجیم نے دستخط کیے تھے۔ عراقی شکست کے وقت کویت میں عراق کی فوج بد ترین تباہی سے دوچار ہو چکی تھی۔ اس شکست کو تسلیم کرنے کے بعد صدام رجیم کو شکست خوردگی کے کئی سال تک باقی رہنے کا موقع دیا گیا اور بالآخر 2003 میں صدام رجیم کو مکمل طور پر چلتا کر دیا۔ اب ایران میں بھی یہی اسلوب دہرائے جانے کا امکان ہو سکتا ہے۔
ابتدائی نتیجہ فوج کی کارکردگی سے متعلق جائزوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔ کہ کیا ایران کے وجود اور اس کے ہتھیاروں سےخطے کو جو خطرہ تھا اس کا مؤثر طریقے سے خاتمہ کردیا گیا ہے۔
اس جنگ سے یہ بہت اچھی طرح واضح ہو گیا ہے کہ ایرانی رجیم کے پاس خلیجی علاقے کو تباہ کرنے کے منصوبے بھی موجود ہیں اور صلاحیت بھی۔ اسی رجیم نے اس جنگ کو پورے خطے میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دس سے زائد ملکوں کو اپنے میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ ان مملکتوں میں سعودی عرب بھی شامل ہے اور متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، اومان عراق و اردن بھی شامل ہیں۔
اس نے بہت سے فوجی اہداف کے ساتھ شہری اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان میں ایئر پورٹس اور بندر گاہوں کے علاوہ ہوٹلز اور رہائش گاہیں بھی شامل رہی ہیں۔
ایران نے اپنی فوجی و جنگی صلاحیتوں کو علاقے پر اپنی بالادستی کی غرض سے ہی بہتر بنایا تھا۔ یہ اپنی پڑوسی ریاستوں کی تباہی کی حکمت عملی تھی تاکہ علاقے کی ریاستوں کو ایران کے سامنے ڈھیر کیا جا سکے اور یہ سب مفلوج ہو کر رہ جائیں۔ اس سلسلے میں پڑوسی ریاستوں میں حکومتی تبدیلیوں کے لیے کوششیں کرنا کوئی راز نہیں رہا ہے۔
تاہم سوال ہمیشہ یہ اہم رہا کہ وہ وقت کب آئے گا جب ایک نئی صبح شروع ہوگی اور شاید اس کے بعد ایرانی رجیم جوہری ڈیٹرینس حاصل کرسکے گی۔ جس کے نتیجے میں ایران کو بیرونی فوجی مداخلتوں اور حملوں سے نجات مل جائے گی۔
اس زاویہ نگاہ سے ایرانی ہتھیاروں کی سلطنت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے اس کا خاتمہ ایک بڑی پیش رفت مانی جائے گی۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی اور نمایاں سیاسی پیش رفت ہوگی۔ یہ پیش رفت دور رس اثرات کی حامل ہوگی۔
ایران جو خود کو علاقے میں ایک غالب فوجی قوت کے طور پر دیکھنے کے منصوبے رکھتا ہے۔ اپنے پڑوسی ملکوں کے لیے بڑا خطرہ سمجھا جانے کے باوجود اب تباہی سے دوچار ہے۔
اگلے چند ہفتوں میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران نے پچھلی تین دہائیوں میں جو اسلحی قوت حاصل کرنے کے لیے کامیابیاں حاصل کی تھیں، اسلحہ ساز فیکٹریں لگائی تھیں یا فوجی ادارے قائم کیے تھے اب تباہ ہو جائیں گے۔ محض چند ہفتوں کے دوران۔ اس ایرانی تباہی کے نتیجے میں خطے کو ایران سے درپیش خطروں سے نجات مل سکے گی۔ توقع کی جاتی ہے کہ ایرانی فوجی قوت کی تباہی کے نتیجے میں اگلی ایک دہائی تک خطے کے ملکوں کو تحفظ کا احساس مل سکے گا۔
بالکل صدام کی طرح کویت میں شکست کھانے کے بعد اس کی رجیم عراق میں کافی کمزور ہو گئی تھی۔ تاہم اسے جلد ہی چلتا کرنے کی سبیل پیدا کر لی گئی۔ اب صدام تاریخ کا حصہ ہے۔ یقینا کمزور ہوجانے والی ریاستیں اور حکومتیں بھی از سر نو خود کو تعمیر کرنے کی کوشش تو کرتی ہیں۔ مگر لازم نہیں کہ کامیاب ہو سکیں۔
ایک اور امکان جس پر غور کیا جاتا ہے کہ آیا ایران از خود تبدیل ہو سکتا ہے۔ کیا یہ تبدیلی پالیسیز کی سطح پر ٹرانسفارمین کے نئے دور کا آغاز ہو سکے گا۔ کہ ایران بھی ایک نارمل ریاست کے انداز میں اپنی توجہ تعمیر و ترقی پر اور علاقائی سطح پر تعاون کے فروغ پر کرنا شروع کرے۔
آج ایرانی رجیم اپنی تاریخ کے بدترین سے نبرد آزما ہے اور اپنی بقا کے لیے ہاتھ پیر مار رہی ہے۔
لیکن جو انسانی جانوں اور مصائب سے گزرنے کے اعتبار سے ہمارے خطے کے دیگر ملکوں کے لیے دردناک مرحلہ رہا ہے۔ حتیٰ کہ خود ایرانی عوام کے لیے جنگ سے انتہائی تکالیف پیدا ہوئیں۔ تباہی ہی تباہی ان کے لیے مقدر ٹھہری۔ مگر یہ سب کچھ بالعموم ان کی اپنی رجیم کی وجہ سے ہی ہوا کہ ان کی رجیم علاقے کے لوگوں کی طرح ان کے لیے بھی یہی سامان کرتی رہی۔ لیکن پھر بھی شاید جنگ سے ہونے والا نقصان بالآخر مینج کیا جا سکے۔ البتہ اس تناظر میں ایرانی رجیم کواس کے فوجی شکنجوں سے محروم کردیا ایک بہت بڑی اور تاریخی کامیابی ہوگی۔ یہ پورے خطے کے حق میں بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ خود ایرانی عوام کے حق میں بھی ان کی ملک کے وسائل کو رجیم نے ایک طویل عرصے سے فوجی مقاصد کی نذر ہی کیے رکھا تھا۔
مگر اس دوران جو چیز غیر یقینی بنی ہوئی ہے وہ اس سوال کا جواب ہے کہ تہران میں آگے چل کر کیا ہوگا۔ یہ اس پہلو سے بھی کہ ایران میں مختلف شعبوں کی قیادت کرنے والے جنگ میں مارے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ممکن ہے کہ ایران پر دوستانہ رجیم مسلط کی جاسکے۔ جس کی واشنگٹن امید کیے ہوئے ہے۔ کیونکہ ابھی تک ایران کے اندر سے ایسی کمیونٹی نمودار نہیں ہوئی جو خود کو شاہ ایران کے خاندان کی حکمرانی بحال کرنے لیے اپنی حمایت کے دینے کا کہہ رہی ہو۔ حتیٰ کہ ابھی تک ایران کی فوجی اسٹیبلشمنٹ میں بھی تقسیم کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ ساری فوج ابھی تک نظم و ضبط کی پابند اور رجیم سے جڑی نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود کہ تہران بدترین بحران سے گزر رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی مخالف فورس نہیں ابھری جو ایران کی زخمی رجیم کی متبادل بننے کے لیے سامنے آسکے یا سامنے لائی جاسکے۔ عوامی سطح پر بھی کوئی مقبولیت رکھنے والی تحریک سامنے نہیں آسکی۔ جو فوج میں کسی بغاوت کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بن سکتی۔
بعض لوگ یقین رکھتے ہیں کہ یی محض تھوڑی دیر کی بات ہے جیسے ہی کوئی مقامی فورس ہل جل کرے گی تو فوج کے اندر سے بھی مختلف عناصر مدد کے لیے نکلنے لگیں گے۔ لیکن فوج کے اندر سے کسی بڑی اور بامعنی حمایت کے ملے بغیر کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔
البتہ تاریخ ایک موازنہ ضرور پیش کرتی ہے۔ عراق کی کویت میں شکست کے بعد بھی کوئی بڑی فوجی مہم اور ایک دہائی پر پھیلی گھٹن بھی عراقی رجیم کو ہٹانے کا باعث نہ بن سکی۔ یہ کام بھی امریکی فوج کو ہی بالآخر کرنا پڑا اور تقریبا اڑھائی لاکھ کے قریب امریکی فوج پوری بین الاقوامی حمایت کے ساتھ عراق میں موجود رہ کر صدام کو ہٹانے میں کامیاب ہو گئی۔
لیکن اس طرح کوئی مداخلتی منظر نامہ ایران میں ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
ہو سکتا ہے امریکی فوج خود کو محدود آپشنز کے ساتھ دیکھتی ہو۔ ایک اہم چیلنج یہ ہو سکتا ہے کہ اس صورت حال میں جو بھی اقتدار میں آنے کے لیے سامنے آئے اس سے کیسے نمٹنا ہے۔
امریکہ کو یہ موقع اور سہولت میسر ہے کہ اس کے پاس فوجی طاقت ہے اس لیے اپنی شرائط مسلط کر سکتا ہے۔ یہ ایران میں ابھرنے والے نئے حقائق کا بھی انتخاب کر سکتا ہے۔ جیسا کہ وائٹ ہاؤس پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے کہ وہ مشروط تعاون کرنے کو تیار ہے۔ وائٹ ہاوس اسی ایرانی نظام سے اور رجیم سے ابھر کر آنے والے رہنماؤں کے ساتھ بھی تعاون کر سکتا ہے۔
علاقے میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ایران کی تباہی خطے میں ایک نئے دور کی آغاز بن رہی ہے۔ اس کے مضمرات اگلے کسی کالم میں زیر بحث لائیں گے۔