کشیدگی بڑھانے اور بلیک میل کرنے کی ایرانی حکمت عملی

زید بن کمی
زید بن کمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

جب روح اللہ خمینی 1979 میں برسر اقتدار آئے، تب سے لے کر مسلسل علاقے نے ایران کے لیے اپنی ان کوششوں کے دروازے کھول رکھے ہیں کہ ایران ایک نارمل ریاست کی طرح اپنا رویہ سامنے لائے۔ مگر خطے کے ملکوں کی یہ کوشش بے نتیجہ ثابت ہوئی ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ تمام تر کوششوں سے متضاد نتائج نکلے ہیں۔ یوں 1979 سے لے کر آج تک منفی پیش رفت، واقعات اور اقدامات کا سلسلہ ہے کہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پورے علاقے میں ان منفی پش رفت کا ایک کے بعد ایک نیا پرت کھلتا چلا جاتا ہے۔

تہران نے نہ صرف اس دوران خطے میں اپنے وضع کردہ سیاسی نظام ولایت فقیہ کی دوسرے ملکوں میں منتقلی اور پھیلاؤ کی کوششیں کی ہیں کہ اس کے گرد و پیش بھی مولویت اور مذہبیت کے رجحانات غالب آ جائیں بلکہ اس نے اپنے اڑوس پڑوس کے لیے مسلح 'پراکسیز' بھی تیار کر کے ان کے لیے خطرات کو جنم دیا ہے۔ ایرانی 'پراکسیز' کا یہ سلسلہ پورے خطے کے لیے ایک توسیعی منصوبے کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ گویا ایک 'گریٹر ایران' پائپ لائن میں ہے۔

ان ایرانی 'پراکسیز' کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ ان کا نام لکھنا شروع کر دیا تو کالم بہت طولانی ہو جائے گا۔ صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ یہ 'پراکسیز' پورے علاقے میں استحکام کا خاتمہ کر کے پڑوسی ملکوں میں عدم استحکام لانے کے لیے سرگرم رہی ہیں۔ بد امنی کو ہوا دینا، حکومت کے خلاف عوام کو ابھارنا کہ انہیں بدل دو، انہیں الٹ دو پلٹ دو وغیرہ وغیرہ۔ اس ایرانی طرز عمل نے ایران کے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو آتشیں کیے رکھا ہے۔

دوسری جانب ایران خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے آج بھی کوشاں ہے۔ جو لگ بھگ پانچ دہائیوں کے گزر جانے کے باوجود بھی اس کے رویے کے تبدیل نہ ہو سکنے کا اظہار ہے۔ اگرچہ روح اللہ کے بعد علی خامنہ ای آ گئے اور مجتبیٰ خامنہ ای کی باری آ گئی ہے۔ لیکن ہر ایک سوچ اور طریقہ وہی رہا ہے اور وہی ہے۔ کہ آس پاس کے ملکوں میں بحران برآمد کرتے رہو اور رنگ برنگے طریقوں سے طاقت کا استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہو۔ یہ منظم اور مربوط طریقہ ہے جو تسلسل کے ساتھ چلانے کی روش جاری ہے۔ خارجہ پالیسی کو ایک اشتعال انگیز ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا ہے۔ تاکہ مسلسل ہوتے رہنے والے نقصانات کا ازالہ ہو سکے۔ دباؤ اور دھونس کے حربے بھی اس خارجہ پالیسی کا لوازمہ ہیں، کہ دباؤ ڈالنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ اس کے ساتھ مولویت اور مذہبیت والے ایرانی نظام کو برآمد کرنے کی کوششوں میں بھی کمی نہیں ہوئی ہے۔

یہ وجوہات ہیں کہ ایران جب بھی زمین پر خود کو ناکامی اور نقصان میں دیکھتا ہے تو بڑے بڑے خطرات مول لینا قبول کرتا ہے۔ شاید اس طرح توازن کو اپنے حق میں کر سکے۔ آج کے ایران کے رویے کو اسی تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد تہران کی طرف سے کیے گئے اقدامات سیاسی ارتباط اور کے لیے نظر نہیں آتے بلکہ یہ محض اپنے تذویراتی حوالے سے ہو چکے نقصان کے ازالے کی ایک کوشش نظر آتے ہیں۔ شام میں ہونے والا نقصان، حزب اللہ کے لبنان میں کمزور پڑ جانے سے ہونے والا نقصان نے تو ایران کو مجبور کر دیا کہ وہ ملیشیاؤں کو مدد دینے والے ہر حربے کا استعمال کرے۔ کروز میزائل کی لانچنگ اور جوہری پروگرام کو تیز کرنے کی حکمت عملی اسی سبب سامنے لائی گئی۔ یہ سارے اقدامات ایران کے اندرونی یا پالیسی کی کامیابی و استحکام کے مظہر نہیں تھے۔ بلکہ اپنی کمزوریوں کو بھانپتے ہوئے دباؤ بڑھانے کی اپنی سی ایک کوشش تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے مذکورہ اقدامات اس کے لیے خطرناک ثابت ہوئے۔ ایرانی رجیم اس قاعدے کے تحت کام کرتی ہے کہ 'جس قدر یہ اندازہ واضح ہوتا جائے کہ آپ شکست کھا رہے ہیں تو اسی قدر خطرے کی سطح کو بڑھا دیں۔'

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جاری جنگ نے بھی ایران کی حکمت عملی کے اس طریقے کو واضح کر دیا ہے۔ کہ جنگ میں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں اور دوسری جانب ایران ہے، مگر ایران نے خلیجی ریاستوں کو بھی جنگی لپیٹ میں لینے کی کوشش کر ڈالی ہے۔ اب تک ان خلیجی ریاستوں کو ایران چھ سو سے زائد میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اس صورت حال میں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ 'اپنے خلاف جنگ میں بلا جواز خلیجی ملکوں کو گھسیٹنے کے لیے اگر ایران اس حد تک جا سکتا ہے تو اس کے پاس جوہری ہتھیار ہوئے تو اس کا رویہ کیا ہو گا؟ موجودہ ایرانی رویہ اعتدال ظاہر نہیں کرتا بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ ایرانی ذہنیت سے جڑا ہوا ہے۔

ایک ریاست جو اپنے پڑوسیوں کے خلاف میزائل اور ڈرونز استعمال کرنے میں اس قدر دیدہ دلیری سے کام لیتی ہے اور علاقے کے وسیع تر حصے تک مار کرتی ہے۔ دنیا کے اہم تجارتی آبی راستے کو بند کر کے دنیا کے لیے خطرات پیدا کرتی ہے۔ پھر مطالبہ کرتی ہے کہ اس آبی راستے سے گزرنے والے جہاز اسے فیس ادا کریں۔ گویا آبی گزرگاہ پر مکمل غلبے سے کم پر راضی نہیں ہوتی تو اس کے پاس جوہری ہتھیاروں کے ہونے کا مطلب کیا ہو گا؟ اگر جوہری ہتھیار ہاتھ آنے کے بعد یہ ریاست انہیں بھی دوسروں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دے، اپنی جوہری صلاحیت کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا نافذ کرنے لگے اور عالمی معیشت کے لیے بی ایک براہ راست خطرہ بن جائے تویہ معاملہ کہاں جا کے رک سکے گا؟

یہ مبالغہ نہیں، موجودہ حالات کا درست تناطر میں مطالعہ ہے۔ ایک ملک اپنی جغرافیائی پوزیشن کو دنیا کی تجارت و معیشت کے خلاف ہتھیار بنا کر استعمال کرنے لگے، سویلینز کو نشانہ بنے لگے، سول انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے درپے ہو، خلیجی ممالک، اردن، شام اور عراق اس کے نشانے پر ہوں اور پورا خطہ اس سے خطرے میں پڑ جائے تو اس سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی کہ وہ اچانک اپنے آپ پر محض اس لیے ڈسپلن نافذ کرلے گا کہ اب وہ جوہری ہتھیار حاصل کر کے پہلے سے زیادہ طاقتور ملک بن چکا ہے۔

ایران جو کچھ آج کر رہا ہے، اس کی یہ پالیسی اثر رسوخ کی پالیسی سے بہت مختلف اور اوپر کی ہے۔ اس پالیسی کی قوت متحرکہ یہ ہے کہ نقصان کی صورت میں خطرے کو بڑھاتے جاؤ اور علاقائی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے زیادہ سے دباؤ کو پالیسی بنالو۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو خطرات کو پھیلانے کے ایک مسلسل دائرہ کے سفر کا متقاضی ہے، جس کے نتیجے میں ریاستی حسابیات کا معاملہ ایسے فیصلوں سے جڑا ہوتا ہے جو خطے کو ان فیصلوں کے مضمرات میں الجھائے رکھتا ہے۔

اس تناطر میں ایران کو جوہری پروگرام کے لیے کوشاں ہونا اس کی ایک ڈیٹرنس کی ضرورت نہیں کہی جا سکتی۔ بلکہ صاف نظر آتا ہے کہ یہ اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے اور دوسروں کو اس بنیاد پر بلک میل کرنے کی ضرورت کے پیش نظر ہے۔ لیکن ایران بڑی طاقتوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس سے لڑائی کی لاگت کہیں زیادہ ہے، اس کے برعکس کہ اس پر قابو پانے کی لاگت کافی کم ہے۔ اس پس منظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان ڈیل کی باتیں ان دنوں زبان زد عام ہیں۔

اس معاملے سے خلیجی ریاستوں کو باہر نہیں رکھا جانا چاہیے۔ بلا شبہ خلیجی ممالک ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے کے فیصلے میں شامل نہیں تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس جنگ کے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہیں۔ سلامتی کے اعتبار سے ہی نہیں معاشی اور تذویراتی حوالے سے بھی ان خلیجی ملکوں کو خطرات کا سامنا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی ڈیل کرتے ہوئے ان ملکوں کو بھی شامل کیا جائے۔

ایران کے ساتھ کسی ڈیل کے لیے گفت و شنید میں ان خلیجی ملکوں کو شامل کرنا محض ایک سیاسی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ جو کچھ حالیہ دنوں میں بھگتنا پڑا ہے انہی ملکوں کو بھگتنا پڑا ہے۔ معیشت بھی انہی کی خطرے میں پڑی ہے۔ اس لیے جو کوئی بھی ڈیل یا ڈیل کی تجویز ہوگی اس کا بھگتان خلیجی ممالک کو بہر حال بھگتنا پڑے گا۔ لہذا امریکہ کو یہ لازما یاد رکھنا چاہیے کہ اس نے خود بھی بحران کو برداشت کیا، اس کے سفارت خانوں پر بھی ایران نے بمباری کی ہے، میزائل پھینکے ہیں۔ بیروت کا امریکی سفارت خانہ اس کی ایک مثال ہے۔ جبکہ دیگر کئی واقعات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہمیشہ کے لیے آ چکے ہیں۔ جن کا امریکہ کو ایران کی وجہ سے سامنا کرنا پڑا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size