مذاکرات مگر ایرانی ہیئت مقتدرہ میں تبدیلی کے بغیر

زید بن کمی
زید بن کمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کی گئی جنگ بندی میں پندرہ روزہ توسیع کی آخری شام اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ثالث ملک پاکستان کے کہنے پر جنگ بندی میں غیر معینہ اضافہ کر دیا ہے۔ تاکہ ایران کو اپنی تجاویز مرتب اور پیش کرنے میں کچھ وقت مل سکے اور اس سلسلے میں ایران میں جاری بحث و تمحیص مکمل ہو جائے۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ ایرانی تجاویز قبول کی جاسکتی ہیں یا انہیں رد کیا جائے۔ مگر اس جنگ بندی میں توسیع کے ساتھ ہی امریکہ نے آبنائے ہرمز کی اس ناکہ بندی کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر شروع کی گئی تھی۔ اس مقصد کے لیے امریکی بحریہ بروئے کار ہے اور ایرانی بندرگاہوں کو بلاک کرکے غیر فعال کرنے کی کوشش جاری ہے۔

ادھر ایران سے متضاد نوعیت کے بیانات آرہے ہیں۔ یہ ایرانی بیانات مختلف ایرانی حکام کے ہیں۔ ان میں ایک ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہیں۔ جن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ناکہ بندی بھی جنگی اقدام اور جنگ بندی کے اعلان کی خلاف ورزی ہے۔' اسی دوران پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے ایک مشیر مہدی محمدی نے ایک بیان میں کہا ہے 'ناکہ بندی کرنا فضائی بمباری کرنے سے مختلف عمل نہیں ہے۔ اس لیے اس کا فوجی طریقے سے جواب دیا جانا چاہیے۔'

چند گھنٹوں کے بعد پاسداران انقلاب سے جڑے خبر رساں ادارے 'تسنیم' نے پارلیمنٹ کے ایک ذمہ دار کے حوالے سے وضاحت کی ہے کہ غالیباف کے مختلف شعبوں کے لیے مشیران موجود ہیں جن کے خیالات سے وہ استفادہ کرتے ہیں مگر ان خیالات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ غالیباف کے سرکاری موقف کی عکاسی ہے۔ قبل ازیں ایک حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے اپنے بیان میں کہا تھا 'تہران سرنڈر نہیں چاہتا، تاہم باعزت طریقے سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔'

یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ایران بظاہر پہلے کی طرح ایک روایتی اور مستحکم نظم کے زیر حکومت نہیں ہے۔ واضح طور پر طاقت کا مرکز نہیں ہے۔ اس کے بجائے ایران کو کئی باہم خلط ملط ہوئے طاقتی مراکز کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ کچھ طاقت ایک مرکز کے پاس ہے، کچھ دوسرے مرکز کے ہاتھ میں اور کچھ کسی اور کنٹرول میں۔ زیادہ تر کی قیادت پاسداران انقلاب کے پاس ہے۔ جو فوجی نظام اور کشید شدہ سیاسی، معاشی اور سلامتی سے متعلق طاقت کو بروئے کار رکھتی ہے۔ یہ کثیر جہتی مراکز سمتوں کے تنوع کا اظہار نہیں، بلکہ ایک مشترکہ نظریے کو ہی مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔

یہ نظریہ ایرانی دستور میں روح اللہ خمینی کے 1979 میں لائے گئے انقلاب کے بعد بیان کر دیا گیا تھا۔ اس میں ریاست اور معاشرے کے درمیان تعلق کو بہت سادگی کے ساتھ عمل میں نہیں لاتا۔ یہ ایرانی انقلاب کو سرحدوں سے ماورا بنیادوں پر برآمد کرنے کا ایک میکانزم بھی فراہم کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ 'پرو ویژنز' معمولی تصریح کی حامل نہیں۔ بلکہ رجیم کی نوعیت اور ہیئت کے بدولت بڑی واضح ہیں۔ جب انقلاب کا تسلسل اندرون اور بیرون دونوں سطحوں کے لیے ہے۔ تو یہ توسیع انقلاب کا ایک فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے جو توسیع انقلاب کے اغراض و مقاصد بھی رکھتا ہے۔ خصوصا جب خارجہ پالیسی انقلاب برآمد کرنے اور انقلاب کی حامی تحریکوں کی مدد سے نتھی کر دی گئی ہو اور یہ حمایت یافتہ تحریکیں محض اس لیے نہ ہوں کہ انہیں ایک آلہ کار کے طور پر جب چاہا استعمال کر لیا بلکہ علاقائی سطح پر اثر رسوخ پانے کو اداراتی ذمہ داری بنا لیا گیا ہو۔

عرب دنیا کے ایک نامور جرنلسٹ عبدالرحمن الراشد نے اپنے ایک حالیہ مضمون بعنوان 'جنگ بندی سے پراکسیز کے خاتمے تک' میں لکھا ہے کہ موجودہ تصادم کی فضا نے ایران کو ایک ایسے امتحان میں ڈال دیا ہے جس کی پہلی مثال نہیں ملتی۔ یہ جنگ شام یا لبنان میں ایرانی اثرات کو ایک توازن دینے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے نتیجے میں ایرانی رجیم کو خود اپنی بقا کا چیلنج درپیش ہوگیا ہے۔

ایرانی قیادت مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر موجودگی میں چاہتی تھی کہ اسے اس امر کی ضمانت ملے کہ وہ اس دورانیے میں اپنے نظام کو محفوظ کرتے ہوئے تزویراتی ٹرانسفارمیشن کر سکے۔ اس وجہ سے ایران کے مختلف اداراتی مراکز میں کئی قسم کے فیصلے جاری ہیں۔ خصوصاً پاسداران انقلاب کسی تبدیلی کو لانے کے لیے اپنے دروازے نہیں کھولنا چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے والی صورتحال کو ہی از سر نو زیادہ طاقت کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ کیونکہ تمام ایرانی اداروں کی نظریاتی بنیاد ایک ہی ہے۔ وہ مختلف اوقات میں مختلف سمت ظاہر کر سکتے ہیں اور مختلف سطحوں پر ہو سکتے ہیں لیکن ان سب کا حتمی ہدف ایک ہی ہے۔

پچھلی پانچ دہائیوں کے دوران ایرانی نظام کے حوالے سے جو تجربہ سامنے آیا ہے وہ یہی ہے کہ پیدا ہونے والی صورتحال کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ بنیادی راستے کو تبدیل کیا جائے۔ پچھلے معاہدات اسی رویے کو بروئے کار رکھنے کے ماحول میں ہوئے نہ کہ نظریات کو تبدیل کرنے کی خاطر ہوئے۔ موجودہ پیش رفت یہ دکھاتی ہے کہ ایرانی رویے کو فریم کرنے کے لیے کچھ گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ جیسا کہ تھوڑا جواب بھی ملا ہے۔ جبکہ ایرانی رجیم یہ سمجھتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر چیزیں تبدیل ہوئی ہیں۔

اس کے باوجود یہ ابھی تک فیصلہ کن آپشن لینے پر تیار نہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ وہ دباؤ کو کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی طوالت کے ذریعے کمزور کریں۔ لیکن اس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ایک واضح کمٹمنٹ دیں جو دانشورانہ اور اداراتی ڈھانچے کے حوالے سے ہو جس نے یہ بحران پیدا کر رکھا ہے۔ یہ چیز ایرانی رجیم کی بقا کی کوشش اور نظریات کے بچاؤ کے درمیان ایک تضاد کا باعث بھی ہے۔ ایک ایسی جدوجہد جو حقیقی تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

اب یہ سوال اہم نہیں رہا کہ ایران مذاکرات سے اتفاق کرلے گا یا اپنے رویے کو ایڈجسٹ کرے گا بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ ایران میں کون ایسا شخص ہے جو اپنے راستے اور رویے کو نئے سرے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیز کون ہے جو ایران کے اندر طاقت کے توازن کے ساتھ ساتھ ایرانی نظریات کی توسیع کی پالیسی میں بھی توازن پیدا کر سکے۔ اس ٹرانسفارمیشن کے امکانات ابھی کم ہیں مگر یہ ناممکن نہیں ہے۔

حتمی بات یہی ہے کہ ایرانی رویے کو اس ایرانی نظام کے بنیادی متن سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ایران میں حقیقی تبدیلی کی کوئی بھی بحث اسی ایک سوال پر آکر مرتکز ہوتی ہے کہ کیا ایرانی قائدین اپنے نظام کی بنیادوں کو نئے سرے سے دیکھنے اور تبدیل کرنے کو تیار ہیں۔ اس مائنڈ سیٹ اور ڈکٹرائن میں تبدیلی کے بغیر رویہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size