ایرانی جنگ کا سبق، تیل اور گیس کی ترسیل کے نئے راستوں پر سنجیدہ غور

کارنیلیا میئر
کارنیلیا میئر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

جس طرح ایرانی جنگ نے دنیا کے لیے تیل اور گیس کی ترسیل و فراہمی اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نتیجتاً تیل اور گیس کی ترسیل میں اسی نوعیت کے طویل تعطل کا سامان ہے جس طرح کے تعطل کا سامان کووڈ 19 کے سبب کئی سال پہلے کرنا پڑا اور پھر توانائی کا شدید بحران پیدا ہو گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ 1970 سے اب تک تیل کی ترسیل کے امور میں کووڈ 19 کی وجہ سے یہ پہلا بڑا بحران پیدا ہوا تھا اور اب پھر ایسے ہی طویل تعطل کا خطرہ ہے۔ لیکن جاری بحران ہمیں مستقبل کے لیے بہتر سوچنے اور متبادل سپلائی چین کی تشکیل میں مدد دے سکتا ہے۔

توانائی اور اہم انفراسٹرکچر

آج کی صورت حال میں تیل اور گیس کی نہ صرف مہنگائی کا سامنا ہے بلکہ بعض جگہوں پر توانائی کے ان اہم وسائل کی عدم دستیابی کا بھی سامنا ہے۔ یہ صورت حال بہت سے پالیسی سازوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایندھن کی متبادلات پر غور کریں۔ یہ بات قابل فہم ہے۔ مگر قابل تجدید توانائی کے وسائل اور برقیاتی بندوبست ہر کسی کے لیے متبادل کی حیثیت کے حامل نہیں ہو سکتے۔

اس لیے ہمیں توانائی کے انہی روائتی حیثیت اختیار کرچکے ذرائع کی ضرورت مستقبل میں بھی اسی شد و مد کے ساتھ رہے گی، جس قدر آج ہے اور اس کے بغیر معیشت کا پہیہ رک جاتا ہے۔ لہذا ہمیں آگے بڑھتے ہوئے اپنا توانائی کا نظام اس کے مطابق ہی تشکیل دینا ہوگا۔

1974 میں تیل کے سلسلے میں آنے والے تعطل سے پہلے تیل پر انحصار 80 فیصد سے زیادہ تھا۔ اب 2024 کے اواخر میں یہ انحصار 80 فیصد سے ذرا کم ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی آبادی پچھلے پچاس برسوں کے دوران دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ 2050 تک اس میں مزید ڈیڑھ ارب سے دو ارب کا اضافہ توقع کیا جا رہا ہے۔ مطلب واضح ہے کہ توانائی کی ضرورت بڑھے گی اور متبادل توانائی کی تمام تر کوششوں کے باوجود روایتی توانائی وسائل پر انحصار کا سلسلہ بھی رہے گا۔

اس لیے ریاستوں اور مملکتوں کو اپنے آنے والے کل کی توانائی کی ضرورتوں کے بارے میں نیا نظام ڈیزائن کرتے ہوئے ایک جامع اور مربوط اپروچ سے کام لینا ہوگا۔ ممکن ہے پرانے توانائی ذرائع تیل اور گیس پر انحصار میں تبدیلی آ جائے اور ان کی جگہ کوئی نئی دریافت کر لی جائے۔ لیکن تھوڑی دیر کے لیے چین کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچ لیتے ہیں۔ چین میں سولر پینلز، بیٹریز ای ویز یا کریٹیکل منرلز کی ریفائننگ وغیرہ پر کام ہے۔ اس لیے ہمارے لیے ضروری ہوگا کہ جب ہم مستقبل کی ضروریات پر غور کریں اور کچھ نیا سوچیں تو ان ساری حقیقتوں کو پیش نظر رکھیں۔

دونوں توانائی نظام اور اہم انفراسٹرکچر اضافی ضرورتوں کو لازماً پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ان اضافی ضرورتوں کو بہتر ہے کہ متبادل نظام کا نام دیا جائے۔ اس کی مثال بجلی فراہم کرنے والے گرڈز کے متبادل گرڈز سے آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ کہ بجلی کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے اس نوعیت کا اہتمام بطور خاص دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک بچھائی گئی پائپ لائن کی مثال اہم تر کہی جا سکتی ہے۔ مملکت نے اس کی منصوبہ بندی 1980 کی دہائی میں کی تھی۔ تب سے اب تک اسے 'اپ گریڈ' بھی کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کبھی کبھی یہ پیسے اور وقت دونوں کا ضیاع سمجھا جاتا ہو۔ لیکن اب یہ متبادلاتی بندوبست کا تصور پہلے سے بھی زیادہ مفید ثابت ہو گیا ہے۔ یہ اضافی اہتمام اس وقت اور اہم ہو جاتا ہے جب حکومتی ادارے اپنی لاگت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب ادارے شیئر ہولڈرز کی بنیاد پر کام کر رہے ہوں اور شیئر ہولڈرز ہر سہ ماہی میں منافع کی توقعات لیے بیٹھے ہوں۔

'سپلائی چینز'

کووڈ 19 کے دور میں ہمارے سامنے سپلائی چینز کے حوالے سے قریبی سمندری راستوں اور دوستانہ آبی راستوں کے تصورات نمایاں طور پر ابھرے۔ اب صرف چھ برسوں کے دوران ہم دوسری مرتبہ اپنی 'سپلائی چینز' کے لیے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ اس سے نکلنے کا عمل آسان نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے وقت لگے گا۔ اے کاش! ہم امید کر سکیں کہ ان مشکلات اور تعطل سے کچھ سیکھ سکیں۔

'سفارتی لچک'

ہم کچھ بھی کر لیں اپنی جغرافیائی حقیقتوں کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ جس طرح روس ہمیشہ یورپ کا پڑوسی رہے گا۔ اسی طرح ایران مشرق وسطیٰ کے لیے ایک ہمسایہ ہے۔ لہٰذا مواصلاتی خطوط اہمیت کی حامل ہیں۔ ایسے میں ہمیں خلیجی ملکوں کی ستائش کرنی چاہیے کہ یہ ممالک جنگ نہیں چاہتے۔ حتیٰ کہ جب ایران ان خلیجی ملکوں کی طرف میزائل داغتا ہے توبھی دانشمندانہ رویہ ظاہر کرتے ہوئے جوابی حملے ایران پر نہیں کرتے۔ یہ قابل مثال تحمل کا مظاہرہ ہے۔ لیکن اس خلیجی تحمل کو ہمیشہ کے لیے بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔ نہ ہی اسے ایسا سستا لینا چاہیے۔

خلیجی ملک کاروباری طور پر نشانہ بن رہے ہیں مگر وہ مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب میں ویژن 2030 کی تیاری کے پس منظر میں یہ بات اہم ترین تھی کہ مملکت اپنا معاشی انحصار محض تیل اور گیس ایسی پیداوار پر نہیں رکھنا چاہتا۔ 2024 اور 2025 میں اس سلسلے میں عملی نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ ان دونوں برسوں کے دوران تیل کے علاوہ شعبوں سے ہونے والی پیداوار اور تجارت نے سعودی جی ڈی پی میں 50 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالا ہے۔ ویژن 2030 کے تحت قومی چیمپیئنز 'اے سی ڈبلو اے پاور' کی حمایت کی گئی۔

'فنڈنگ میکانزم'

خلیجی ممالک کا خود مختار ویلتھ فنڈ اب انہیں معاشی مسائل کے جھیلنے میں اس کے باوجود مدد دے رہے ہیں کہ جنگی اثرات اپنی جگہ موجود ہیں۔ یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ ان ملکوں میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کافی حد تک مقامی سرمایہ کاری پر 'فوکس' کیے ہوئے ہے۔

'کثیر قومی ادارے'

بین الاقوامی آبی راستوں کی اہمیت کے پیش نظر انہیں لازماً کھلا رہنا چاہیے۔ آبنائے ہرمز کے علاوہ بھی اسی نوعیت کی تنگ آبنائے موجود ہیں۔ جن میں باب المندب بھی شامل ہے۔ نہر سویز بھی شامل ہے اور پانامہ کی مشہور زمانہ نہر بھی۔ اسی ذمرے میں آبنائے ملاکا بھی آتی ہے۔ ان سب میں اقوام متحدہ کے سمندروں اور بین الاقوامی جہاز رانی سے متعلق کنونشن کے تحت ہی جہاز رانی کا نظام چلایا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی سطح پر موجود اقوام متحدہ کی تنظیم 'آئی ایم او' جہاز رانی کو رواں رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ 'آئی ایم او' یا اس کے بعد اسی کام کے لیے آگے آنے والے ادارے کو اپنے میکانزم کے نفاذ کے لیے وسائل کی ضرورت ہوگی۔

اسی طرح ہمیں اس تناظر میں کثیر قومی اور دو طرفہ ترقیاتی معاونت کے لیے دیکھنا ہوگا۔ جنگ کے ماحول میں یہ بات قابل فہم ہے کہ دنیا کے سارے ملک اپنے دفاع پر مرکوز رہیں۔ بدقسمتی سے بدیں وجہ بین الاقوامی اداروں کے لیے فنڈنگ کرنے کی ترجیح میں تبدیلی آگئی ہے۔ بین الملکی سطح پر ہتھیاروں کی خریداری اہم ہوگئی ہے۔ کثیر قومی ترقیاتی ادارے جن میں عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور مشرق وسطیٰ میں متحرک اسلامی ترقیاتی بنک اہم ہیں۔

آبنائے ہرمز کے محاصرے نے نہ صرف دنیا کو اس کی ضرورت کے بیس فیصد تیل اور قدرتی گیس سے محروم کر دیا ہے بلکہ کھادوں کی 30 فیصد ترسیل اور فراہمی کا نظام بھی معطل کردیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک آنے والے دنوں میں کھادوں کے مہنگا ہونے سے بری طرح متاثر ہونے جا رہے ہیں۔ ان کے ہاں کی فصلوں اور اجناس کی پیداوار ہی نہیں قیمتیں بھی بری طرح متاثر ہونا یقینی ہے۔ خوراک کی قلت کا خطرہ ہو سکتا ہے اور بھوک ننگ بڑھ سکتی ہے۔

بعینیہ ترقی پذیر ملکوں کو قدرتی گیس کی بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ یوں جنگی صورت حال ایشیا اور یورپ ہر جگہ مہنگائی کا باعث ہوگی۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی اداروں کی مدد کریں کہ وہ لگنے والے ان بڑے دھچکوں کو روکنے کے قابل ہو سکیں۔

اس تناظر میں کثیر قومی تجارتی مالیاتی ادارے اور انشورنس سکیموں جن میں 'آئی ٹی ایف سی' یا 'ایم آئی جی اے' کے علاوہ 'آئی سی آئی ای سی' کو دوطرفہ تعاون کی خاطر ضرورت ہے۔ کہ انہیں مناسب طریقے سے فنڈنگ کرنے دی جائے۔ اس میکانزم کی مدد سے نجی شعبے کو کام کرنے کی اس جنگی ماحول کے باوجود سہولت مل جائے گی، بصورت دیگر نجی شعبے کے لیے کام کے امکانات معدوم تر ہوں گے۔

تاہم یہ واضح رہنا چاہیے کہ اوپرکی سطور میں بیان کردہ محرکات کا کلی احاطہ نہیں، محض چند محرکات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنگی بندوقوں کو خاموش کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے بے شمار اور بھی عوامل ہو سکتے ہیں۔ جن میں سے چند کو بیان کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size