گریٹر اسرائیل اور گریٹر ایران

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

سیاسی امور پر لکھنے والے 'گریٹر اسرائیل' والی پرانی کہانی دہرا دہرا کر سناتے ہیں۔ اسے تلمودی روایات سے جوڑتے اور ان روایات کی روشنی میں اس کی تعبیر کرتے ہیں۔ ان لکھنے والوں کو موجودہ صورت حال کا بھی فائدہ مل جاتا ہے کہ ایران کی طاقت میں کمی ہوگئی ہے۔ ایران کے کمزور ہونے سے ایرانی اتحادیوں میں خوف اور پریشانی بھی پھیل رہی ہے۔

لیکن میرا خیال یہ ہے کہ ہم آج تاریخ کے غیرمعمولی وقت سے اور تاریخ کے اہم ترین موڑ سے گزر رہے ہیں۔ کہ تصادم دو منصوبوں کے درمیان ہے۔ ایک جانب گریٹر اسرائیل ہے اور اس کے مقابل سمت میں گریٹر ایران ہے۔

پہلے تو ہمیں اس امر پر اتفاق کرنا چاہیے کہ ہر قوم توسیع پسندی کا ایک عزم لیے ہوتی ہے۔ وہ خود کو وہاں تک پھیلانے کی کوشش کرتی ہے جہاں تک اس کے لیے ممکن ہو یا وہ اپنے پڑوسی ملکوں سے خطرہ بنتی ہے۔ علاقائی نظام اور شاید عالمی سطح پر اس طرح کی خواہشات اور ارادے عملاً ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔

اس علاقے میں دو بڑے منصوبوں کی صورت میں دو تاریخی حقیقتیں ابھری ہیں۔ یہ ایران اور اسرائیل ہیں۔ ایران جدید علاقائی سطح پر ایک سلطنت کے طور پر ابھرا ہے۔ جس کی سرحدیں بحیرہ کیسپیئن سے لے کر بحیرہ روم تک کھنچ جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ فارس اور اسلام کا تمدنی ورثہ بھی ہے۔ اس کے پھیلاؤ کی جنگ چار دہائیوں پر محیط ہے۔

ایران موثر انداز سے بحیرہ روم اور بحر احمر کے پانیوں اور شام اور لبنان، غزہ اور یمن تک پہنچا ہے۔ اس فوجی پھیلاؤ نے علاقائی اور عالمی طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کے مقابل آکر اس کا راستہ روکیں اور حتمی طور پر اسے تباہ کر دیں۔ اس سے پہلے کہ ایران خود کو جوہری ہتھیاروں سے مسلح کر لے۔ اس کے پھیلاؤ کے خلاف جوابی کارروائی کے فوری بعد ایران نے تیزی سے معاہدہ کیا اوراب خلیج کے پانیوں تک محدود ہے۔

ایرانی قیادت نے آہنی انداز سے دفاع کیا ہے۔ اس کے بعد علاقائی اور عالمی طاقتوں نے اسے چیلنج کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی تو ایران سمجھنے لگا کہ اب مستقل بنیادوں پر 'گریٹر ایران' بن گیا ہے۔

نظریاتی و تاریخی اعتبار سے یہ ایک جارحیت کا علاقائی منصوبہ تھا جو اسے ورثے میں ملا تھا۔ کہ یہ علاقے ایک زمانے میں برطانوی و فرانسیسی بادشاہتوں کے زیر اثر رہے تھے۔ اس طرح اس نے ان ریاستوں کی خود مختاری کو کمزور کیا ہے جو اس کے مقابلے میں خطے میں موجود ہیں۔ مگر ' 'گریٹر ایران' اپنے ساتھ ہونے والے پہلے تصادم میں تیزی سے ڈھے گیا ہے۔

نظریاتی طور پر بنائے گئے نظام نے علاقے میں 'پراکسیز' کا ایک نیٹ ورک قائم کر لیا۔ ایران کی یہ 'پراکسیز' بھی حالیہ جنگوں کے دوران تیزی سے ٹوٹ اور بکھر گئی ہیں۔ مرحوم سپریم لیڈر کو اگر جدید خیالات کے حامل رہنماؤں کی حمایت ملتی تو ممکن ہے کچھ جزوی سی کامیابی حاصل کرلیتے یا ان کے توسیع پسندانہ منصوبے کسی حد تک چل جاتے۔ میرے خیال میں ایرانی جنگی و پراکسی مہمات کی مثال نپولین کے حملوں اور فتوحات جیسی ہے۔ نپولین نے بھی یورپ کو بہت تیزی سے تباہی سے دوچار کر دیا تھا۔

'گریٹر اسرائیل' کا معاملہ، ایران کی طرح اسرائیل کے بھی توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ اگرچہ اسرائیل مختلف نظریے کی بنیاد پر توسیع پسندی کا حامل ہے۔ اپنے عزم و استقلال کے باعث اس نے ایک مخالفانہ ماحول میں بھی مضبوط تر ریاست کی تشکیل ممکن بنالی ہے۔ آج کا اسرائیل واشنگٹن اور بیجنگ دونوں میں کئی حوالوں سے اثر و رسوخ رکھنے والا ملک ہے۔

ایران کے ساتھ بھی اس کا ایک مشترکہ پہلو ہے کہ دونوں ایک تاریخی اور مذہبی بیانیہ رکھتے ہیں۔ تاہم دونوں میں فرق بھی موجود ہیں۔ ایک فرق یہ ہے کہ اسرائیل کی آبادی صرف پانچ ملین کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ ایران نوے ملین کی آبادی کا ملک ہے۔ ایران کی مذہبی آبادی وسیع تر تناظرات کے ساتھ موجود ہے۔ یہ وسیع تر جغرافیے کی حامل آبادی بھی ہے۔ اس کی فرقہ وارانہ رسائی بھی دور تک پھیلی ہوئی ہے اسرائیل کو اس طرح کی سہولت میسر نہیں ہے۔

اس لیے اگر اسرائیل نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے لیے کوئی جارحانہ کوشش کی تو بھی امکان نہیں ہے کہ اسرائیل سینائی سے آگے نہر سویز کی طرف بڑھ سکے یا مغربی شام اور لبنان میں دریائے لیطانی کی جانب پیش قدمی کر سکے۔ اسرائیل ایران میں علماء کی قیادت کے مقابلے میں جغرافیائی اور سیاسی خطرات سے نسبتاً زیادہ آگاہ ہے۔ اس کے لیے فوائد کم اور خطرات بہت زیادہ ہیں۔

اگر ہم سازشی نظریوں کا شکار ہو کر دیکھیں تو پھر کوئی یہ بحث بھی چھیڑ سکتا ہے۔ نظریاتی اعتبار سے ایک نہیں دو اسرائیل ہیں۔ ایک وہ اسرائیل جس کی سرزمین کے لیے وعدہ کیا گیا ہے اور جس کا ذکر تلمودی روایات میں ہے۔ جبکہ دوسری وہ تاریخی ریاست ہے جس کی تعریف اس کے بیانے کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس موخذ الذکر کے بارے میں اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ اس کی سرحدیں حقیقت میں وہی ہیں جو آج موجود ہیں۔ اس میں یہ مغربی کنارے کو بھی شامل کرتے ہیں۔ اسی طرح اس میں لبنان کے بھی کچھ علاقے شامل ہیں۔ اگرچہ یہ انضمام مشکل ہے۔

کسی بھی بڑی ریاست کے لیے لازم ہے کہ اس کی متعین سرحدیں ہوں۔ ان کی ایک معقول آبادی ہو۔ اسرائیل نے اپنی اس آبادی کے لیے دنیا بھر سے یہودیوں کو اپنے ہاں بلایا ہے۔ اگرچہ ان کی تعداد مقابلتاً کم ہے۔

دنیا کے نقشے پر موجود ریاستوں میں اسرائیل کا شمار انتہائی چھوٹے سائز کی ریاست ہے۔ تیونس اس کے مقابلے آٹھ گنا بڑی ریاست ہے۔ ایک یہودی ریاست ہونے کے باوجود اس کے کل 14 وزرائے اعظم میں سے 11 وزرائے اعظم سیکولر رہے ہیں۔ یہ ایک ہی طرح کے لوگوں کا ملک نہیں ہے کہ اس میں رنگ برنگے لوگ آباد ہیں۔ زیادہ تر آبادی ان علاقوں میں ہے جو اسرائیل نے قبضے میں لے رکھی ہے۔ اسرائیل کی اپنی آبادی کا پانچواں حصہ فلسطینی عوام پر مشتمل ہے۔ ان سارے حقائق میں اس کی توسیع پسندی غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ممکنہ طور پر خود اسرائیل کے استحکام او سالمیت کے لیے بھی خطرناک ہے۔

'گریٹر اسرائیل' کی تھیوری دو کچے دھاگوں سے بندھی ہے۔ جیسا کہ یہ خفیہ طور پر کی گئی سازش کے تحت بنایا گیا ایک پلاٹ ہے۔ جس کی بنیاد ایک طرف آرٹیکل 1982 ہے اور دوسری طرف اسرائیلی فوجیوں کے یونیفارم کے کندھوں پر بنائی گئی تصویر ہے۔ منطق یہ کہتی ہے اگر اسرائیل واقعی توسیعی ارادے رکھتا ہے تو اسے سعودی عرب کا شمالی حصہ قبضے میں لینا چاہیے، سارا اردن کنٹرول کر لینا چاہیے، آدھا عراق اس کے زیر قبضہ ہونا چاہیے اور سارے کا سارا سینائی۔ اسے یہ سب کھلے عام اعلان کرنا چاہیے۔ اپنے اس ایجنڈے کی پروجیکشن کرنے کے لیے اور اس کے جواز پیش کرنے کے لیے دنیا کو قائل کرنا چاہیے کہ اس کے منصوبوں کو تسلیم کر لے۔ اس توسیع کو اسے اس طرح بیان کرنا چاہیے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ اور کینیڈا کو اپنے قبضے میں لینے کی بات کرتے ہیں۔

'گریٹر اسرائیل' کے حوالے سے نیتن یاہو یا دوسروں نے کبھی اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا۔ اگرچہ وہ مغربی کنارے کے مکمل انضمام کی بات کرتے ہیں۔ غزہ اور گولان کی پہاڑیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی جن علاقوں کو اسرائیل نے بین الاقوامی جواز کے بغیر قبضے میں کر رکھا ہے۔

اس لیے اگر کوئی 'گریٹر اسرائیل' کا منصوبہ ہے تو یہ ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ اور غلبے کے حوالے سے اپنے آپ کو علاقائی طاقت بنانا چاہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اسرائیل نے بلاشبہ اپنی فوج کو طاقت دی ہے۔ جو اسے چیلنج کرنا چاہتے تھے انہیں شکست دی ہے۔ محقق ڈینیئل لیوی نے 'گریٹر اسرائیل' کے توسیع پسندانہ تصور کو ڈسکس کیا ہے۔ اس کے بقول یہ تصور جنگ کے بعد کے اسرائیلی ویژن سے متعلق ہے۔

میں اس کے بعض خیالات سے اتفاق کرتا ہوں اور بعض سے اختلاف کرتا ہوں۔ وہ دلیل یہ دیتا ہے کہ اسرائیل کا موجودہ سیاسی فلسفہ بظاہر تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ تہران کی رجیم تبدیل کرنے کے لیے ہے۔ وہ اسے کمزور کرنا چاہتا ہے اور یہ اسرائیل کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ ایک سنجیدہ نقطہ ہے جس پر میں زیادہ تفصیل سے جواب دوں گا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size