ایران ایشو: حل سفارت کاری یا بمباری

زید بن کمی
زید بن کمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

منگل کے روز جب امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان سامنے آیا کہ ایران کے خلاف از سر نو جنگ شروع کرنے کے فیصلے کو 'فی الحال' روک دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا ہے۔ ان کے اس اہم اعلان سے صاف لگا کہ وہ سفارت کاری کو کافی وقت دینے کی کوششوں کے لیے آرزو مند ہیں۔ تاریخ کا بھی ایک ہم سبق یہی ہے کہ جنگوں کی غالب تعداد کا خاتمہ اکیلی طاقت ہی نہیں کرتی۔ بلکہ ان کے فیصلے عام طور پر مذاکرات کی میز پر اور سفارتکاری سے ہی ہوتے ہیں۔

پچھلے ساٹھ برسوں سے زیادہ عرصے کے دوران ہونے والی جنگوں کا تجربہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ ہمیشہ یہ لازم نہیں ہوتا کہ مخالف کو فوجی قوت سے تھکا مارا جائے۔ طاقت کے ساتھ زمین پر نظر آنے والی حقیقتوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ طاقت کے ذریعے ہر بار اپنی سیاسی خواہش کو مسلط کیا جا سکے۔ اس لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کو روکنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ جنگ کے نئے آغاز سے ہچکچا رہے ہیں۔ بلکہ اس فیصلے کے پیچھے ان کی یہ خواہش کارفرما ہے کہ مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے کیا جائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگوں کا بھی ہمیشہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ فوجی کارروائیاں کی جائیں یا فوجی کارروائیوں پر ہی اکتفا کیا جائے۔ بلکہ اکثر جنگوں سے یہ ہوتا ہے کہ یہ امکانات کے دروازے کھول جاتی ہیں جن کے اثرات کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں۔ لہذا جنگ شروع کرنے کے فیصلے اور جنگ روکنے کے فیصلے میں ہمیشہ فرق ہوتا ہے۔ دونوں فیصلوں کی آسانیاں اور مشکلات دونوں ہی الگ الگ ہوتی ہیں۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ میزائل داغنے سے زیادہ مشکل یہ ہوتا ہے کہ جنگی تباہ کاری اور میزائل باری کے اثرات کو کیسے روکا جائے۔ اس تناظر میں یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ سعودی عرب، ابوظہبی اور دوحا انتہائی حساس اور نازک مرحلے سے دوچار ہیں ۔ ان خلیجی مملکتوں کو جنگ کے گھر میں رہنا پڑا ہے رہنا پڑے گا۔ اسی لیے ان کی کوشش جنگ شروع ہونے اور تباہی پھوٹ پڑنے سے پہلے اسے روکنے کی ہے۔ بجائے اس کے کہ جنگ کو شروع ہونے کے بعد روکنے کی کوششیں شروع کی جائیں۔

انہی کوششوں کے حصے کے طور پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہفتے کے دوران تین بار ایران جا چکے ہیں۔ ان کی یہ تیز رفتار آمد و رفت ظاہر کر رہی ہے کہ مذاکرات انتہائی اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ رکاوٹوں کے باوجود یہ مذاکرات اور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بھی ایک تازہ بیان میں یہی کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کے حوالے سے اچھی پیش رفت کر رہا ہے۔ وینس نے ایران کے اس اچھے تذکرے کے ساتھ ہی امریکہ کی بری جنگ کے لیے تیاری کا بھی ذکر کر دیا ہے کہ مذاکرات بے نتیجہ رہے تو امریکہ کی جنگی تیاری مکمل اور آپشن کھلی ہوگی۔ امریکہ کے اس تازہ مرحلے میں ایک جانب ایران کے خلاف فوجی دباؤ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تو دوسری جانب سیاسی دروازے بھی کھلے رکھے ہیں۔

صدر ٹرمپ بھی یہ بات سمجھتے ہیں کہ کسی وقت تیز زبان اختیار کے باوجود یہ خطہ ایسے حالات میں نہیں ہے کہ اسے عاجلانہ حملوں کی منطق کے تحت 'ہٹ اینڈ رن' کے انداز میں لیا جا سکے۔ لہٰذا حملے پھر سے شروع کرنے کے فیصلے کو روکنا پسپائی کا اظہار نہیں بلکہ یہ اس امر کا اعتراف ہے کہ سفارت کاری کو ضرور موقع دیا جانا چاہیے۔ بجائے اس کے پھر سے میزائل نکال لیے جائیں، ٹھاہ ٹھاہ شروع کر دی جائے۔

اس بین الاقوامی تحریک کے تناظر میں ایک نئی چیز بھی واضح ہو گئی ہے کہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک اب صرف وہ ریاستیں نہیں رہی ہیں جو جنگوں کے اثرات و مضمرات کو سمیٹنے پر مجبور رکھی جائیں۔ بلکہ حالات میں ایک بدلاؤ آیا ہے کہ اب یہ خلیجی ممالک سیاسی سطح پر اہم کردار کے حامل اداکار بن چکے ہیں۔ اس لیے اب جنگوں کو رکوانے میں کردار ادا کرنے والے اداکار، بطور خاص سعودی عرب متحرک بھی ہے اور سمجھتا بھی ہے کہ علاقائی استحکام صرف خطے کے لیے ضروری نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی لازمی اور بین الاقوامی معاشی استحکام و ترقی و خوشحالی کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ پورے علاے کا مستقبل بھی اسی امن سے جڑا ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے ساتھ کھڑے ہونا کوئی کمزوری ہے نہ کسی کی رضاجوئی کی کوشش۔ بلکہ یہ گہرے مطالعے کا حاصل اور تاریخ سے حاصل شدہ تجربے اور سبق کا تقاضا ہے۔ کہ لمبی جنگیں سب کچھ بہا کر لے جاتی ہیں اور پیچھے تباہی چھوڑ کر چلی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ بہت سی جنگوں کے کرادروں کو بھی تاریخ کے ایک بے آواز مدفن میں پہنچا دیتی ہیں۔ حتیٰ کہ جنگ کا بظاہر جیتنے والا بھی نقصان کے بوجھ میں دب کر رہ جاتا ہے۔ البتہ جو ممالک بات چیت اور مکالمے کے دروازے کھلے رکھتے ہیں وہ اکثر اپنے طویل مدتی مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

آج کی دنیا لا متناہی جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے۔ توانائی کی بین الاقوامی مارکیٹوں کا معاملہ ماضی کے مقابلے میں کہیں حساس ہو چکا ہے۔ اگر خلیج میں جنگ کی چنگاری پھوٹی تو اس کے اثرات دنیا بھر کے بڑے دارالحکومتوں کو ہلا کر رکھ دیں گے۔ اس لیے سفارت کاری کی اہمیت آج بہت زیادہ ہے۔ اس کی اہمیت سیاسی آپشن سے کہیں زیادہ ہے۔ سفارت کاری دنیا کو افراتفری اور انتشار کی کسی نئی لہر سے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ سفارت کاری کا انتخاب کرنا ہوگا یا پھر انتشار، تباہی اور بمباری کو قبول کرنا ہوگا۔ اچھے انتخاب کا فیصلہ کرنے کا وقت ٹک ٹک کر کے گزرتا جا رہا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size