ایران کا عراقی محاذ
ایران نے عراقی سرزمین کویت، سعودی عرب اور بحرین پر حملے کے لیے استعمال کی ہے۔ اس نے متحدہ عرب امارات کی جوہری تنصیبات کے نزدیکی علاقوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس طرح عراق ایران کے ایک نئے محاذ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ایران عراق کو دنیا کے لیے ایک خطرے کے طور پر ابھار رہا ہے۔ یہ ایک نئی علاقائی حقیقت ہے جو ہم سب کو خبردار کر رہی ہے کہ اس کا اجتماعی طور پر جواب دینا ضروری ہو گا۔
ترکیہ نے محمد باقر السعدی کو حراست میں لینے کے بعد حوالے کیا۔ جو ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کا کمانڈر ہے۔ جسے نیو یارک میں ایک جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان واقعات نے عراق کو مضبوط کر دیا ہے۔ کچھ بولنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ خود کو ان معاملات سے الگ رکھنے کی کوششیں شروع کر چکا ہے۔ تاہم عراقی حکومت نے اپنی سرزمین کے استعمال کرنے کے حوالے سے ایران کا نام نہیں لیا۔
ان واقعات نے بغداد کو جاری بحران کے مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔ جو علاقے کے ملکوں کے لیے خطرے کا اشارہ ہے۔ اس سے خلیجی ریاستوں شام، اردن اور اسرائیل سبھی کے لیے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ یہ سب ایران کی طرف سے پیدا کردہ اس نئی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح ایران نے آبنائے ہرمز کو ان تمام ملکوں کے لیے خطرناک بنایا ہے۔
تزویراتی تناظر میں یہ تصویر اور بھی واضح ہو رہی ہے کہ ایران عراقی ملیشیاؤں کو دباؤ کے ایک عارضی آلے کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ایران کے لیے ان کی اہمیت طویل مدتی تزویراتی حکمت عملی کے حوالے سے ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے فوجی ڈاکٹرائن کو خطے کے طول و عرض میں پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی سرحدوں سے باہر پراکسیز کو بروئے کار لا رہا ہے۔
ایران اور عراق کی جنگ سے ہی ایران نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ایران اپنی سرزمین کو جنگوں اور جنگی تباہی سے دور رکھے گا۔ اسی مقصد کے لیے اس نے ایسی پراکسیز تیار کیں جو نظریاتی، معاشی اور فوجی اعتبار سے ایران سے جڑی ہوئی بلکہ اس کی حمایت یافتہ ہیں۔ یہ پراکسیز ایران کے لیے ہر اول دستے کے طور پر کام بھی کرتی ہیں اور ایران کے سیاسی اثرات کو بڑھانے کی کوشش میں بھی پیش پیش ہیں۔
اپنے انہی وسائل کی بنیاد پر ایران کی کوشش ہے کہ عراق میں اس ہر چیز کو تباہ کر دیں جو عراقیوں نے بنائی ہے یا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ عراقی حکومت کے سول اداروں، عوامی خدمات کے شعبوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے اداروں اور عراق کے بین الاقوامی سطح پر تعلقات کو بھی ایران تباہ کرنا چاہتا ہے۔
ایران کی اس کوشش سے عراق کے سبھی عوام متاثر ہو رہے ہیں کہ ایران ہر طبقے میں اپنے اثرات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایران کی ان تجاوز پر مبنی کارروائیوں کے خلاف عراقی عوام کو اپنے تمام طبقات کے ساتھ ایک فطری اتحادی کے طور پر آگے آنا ہوگا بجائے اس کے کہ عراق کا بائیکاٹ کیا جائے اور اس پر پابندیاں لگائی جائیں۔
عراق کا یہ تناظر اسے لبنان کی طرح ایک ایسی ہائبرڈ ریاست بننے کی طرف لے جا رہا ہے جس میں ملیشیائیں حملہ آور ہوتی ہیں اور لبنانی حکومت ان حملوں کی ذمہ داری لینی سے انکاری ہوتی ہے۔ ان ملیشیاؤں سے صرف اسی صورت خطرات نہیں ہو سکتے کہ ان کے پاس ہتھیار ہوں اور مسلح ہوں بلکہ ان کی اٹھان کا ان بنیادوں پر ہونا کہ وہ ایک متوازی ریاستی سٹرکچر یا معاشی وسائل اور سیاسی اثرات کے ساتھ ساتھ جزوی قانونی جواز کی بھی حامل ہوجائیں تو یہ بھی ریاست کے لیے انتہائی خطرناک صورت پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔
یہ ملیشیائیں اس اہلیت کو بھی پا چکی ہیں جو عراق کے خودمختارانہ فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت عراق میں ایرانی محاذ کھل چکا ہے۔ ایران اپنے اس محاذ کو عراقی ملیشیاؤں کے ساتھ منسلک کر رہا ہے۔
امریکہ نے ان ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کا دو دھارے طریقے سے جواب دینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ایک طریقہ یہ کہ ان ملیشیاؤں کے کمانڈروں کا تعاقب کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ ان کو ملنے والے مالی وسائل کے سوتوں کو خوش کر دیا جائے۔
محمد باقر السعدی جسے گرفتار کیا جا چکا ہے۔ وہ عراق میں ان اہم ترین دہشت گردانہ ناموں میں سے ایک ہے جو بین البراعظمی طرز کی کارروائیاں ڈیزائن کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ وہ عراق میں کتائب حزب اللہ کا سربراہ ہے، جسے اہم عراقی ملیشیا سمجھا جاتا ہے۔ یہ عراق میں حزب اللہ ہی کی ایک شکل ہے۔ ایسی عراقی ملیشیا جو ایران کی وفادار ہے اور لبنانی حزب اللہ سے مماثلت رکھتی ہے۔ لیکن اس کا فرق یہ ہے اس نے مختصر مدت میں اپنی تشکیل کو آگے بڑھا لیا ہے اور ریاست کے اندر رہتے ہوئے اپنے وسائل خود پیدا کر لیے ہیں۔
عراق کے قومی جمہوری اداروں میں جو پہلے ہی ایک کمزور نظام کے حامل ہیں کے اندر تک اس نے نفوذ کر لیا ہے۔ اس کی بدولت ایران کو یہ پوزیشن مل گئی ہے کہ وہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ سازی کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس نئی پیش رفت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایران جب جنگ بندی کی باتیں کر رہا ہے تو یہ خطے میں حملے کر کے دشمنی پر مبنی ماحول کو بڑھاوا دے کر درحقیقت ایران کا ہی کام کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدہ بھی ممکن ہو جاتا ہے تو اس امر کو کلی رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ملیشیائیں ہتھیاروں سے مسلح پراکسیز کی شکل میں محفوظ رہیں تاکہ ایران کو ہونے والے ان تین نقصانات کا ازالہ عراقی سرزمین سے کرنے کی کوشش کر سکیں۔ ان تین ایرانی نقصانات میں لبنان میں حزب اللہ کا کمزور ہوجانا، غزہ میں اسلامی مزاحمتی تنظیموں کا تباہ ہوجانا اور شام میں اسد رجیم کا خاتمہ ہوجانا شامل ہے۔
ایران اور امریکہ جنگ کے بعد بھی اگر امریکہ نے اپنی کارروائیاں مکمل روک دیں تو ان ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں سے درپیش خطرات کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی سرگرمیاں کم بھی کر دیں تو ان کا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ بھی اپنی سرگرمیوں کو روک دیں گے۔ حتیٰ کہ جوہری پروگرام کے تحت یورینیئم کی افزودگی کے مسئلہ کا کوئی حل نکل بھی آیا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوگا کہ ایران کی پراکسیز کو بھی کنٹرول کر لیا گیا ہے۔
موجودہ جنگ جس میں ایران، امریکہ اور اسرائیل ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں نے ثابت کیا ہے کہ لبنان اور عراق سے تعلق رکھنے والی یہ ملیشیائیں ایرانی فوج کا ایک جزو ہیں۔ اس لیے انہیں بھی ایرانی افزودہ یورینیئم کے مسئلے کی طرح ہی اہمیت دے کر ختم کرنا ہو گا۔
پراکسی تنظیموں کے شعبے میں ایک طویل عرصے سے ایران کی جاری حکمت عملی کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ براہ راست افہام و تفہیم سے گریزاں ہے اور اس کی یہ پراکسی تنظیمیں علاقائی سلامتی کے لیے ایک ایسی اہم فائل بن گئی ہیں جسے ایران کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے الگ تصور نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ ایک مجموعی معاہدے میں ان ملیشیاؤں کو شامل کرنا ضروری ہے۔