لبنان کو بچانے کے لیے امریکہ ایران معاہدہ نہیں لبنانی 'انیشیٹو' ضروری
اگلے ہفتے واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے اعلیٰ عہدے دار ایک بار پھر ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ ملاقات امریکہ ایران جنگ کو روکنے کے لیے امن معاہدے کے لیے کوششوں سے ہٹ کر خالصتاً لبنان میں امن لانے کی غرض سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی حل کی خاطر ہے۔
یہ مذاکرات اس دوران متوقع ہیں جب اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کوشدید تر کر رکھا ہے۔ پورے لبنان کے طول و عرض میں لبنانی کارروائیاں جاری ہیں، تباہی کا دائرہ اسرائیل نے وسیع تر کر دیا ہے اور لبنانی شہریوں کو ان کے علاقوں اور گھروں سے انخلا پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
لبنان کے لیے اسرائیلی کی جانب سے کشیدگی کو بڑھایا جانا یقیناً تباہی کے مترادف ہے۔ پورے لبنانی سرحدی علاقے میں اسرائیلی بمباری سے ہر طرف ملبے کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ دس لاکھ سے زائد لبنانی نقل مکانی پر مجبورہو کر بے گھر ہو چکے ہیں۔ سویلین انفراسٹرکچر مسمار کرنے کی کوشش نے پوری شہری زندگی کے اور ماحول کے امکانات کو بھی منہدم کر دیا ہے۔ آئے روز بمباری جاری ہے۔ خوف کے بادل بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ کشیدگی بڑھتے بڑھتے پورے علاقے کو تباہی کی لپیٹ میں لے لے گی۔
لیکن جو خطرہ یکساں ہے وہ کچھ اور ہے
لبنانی ریاست کی سطح پر حکمت عملی کا سرے سے مفقود ہونا اس اوپر بیان کیے گئے منظر نامے سے بھی سنگین تر ہے۔ ایسا وقت کہ جب قومی سطح پر مستقبل کی حکمت عملی اور لائحہ عمل کے لیے شرح صدر کی ضرورت ہے۔ لیکن عوام کے سامنے کوئی حکومتی 'روڈ میپ' موجود نہیں ہے۔ لبنانی ریاست کا زیادہ تر حصہ مجہولیت یا مفعولیت کا شکار ہے۔ صرف واقعات پر رد عمل دیا جاتا ہے کوئی 'انیشیٹو' نہیں لیا جاتا کہ خود لائحہ عمل بنا کر اس تباہ کن صورت حال سے بچا جائے۔
عوام کے لیے کوئی ایسا 'روڈ میپ' نہیں جو تعمیر نو کے لیے ہو۔ بے گھر ہو چکے لاکھوں لبنانیوں کو ان کے گھروں اور علاقوں میں بسانے کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں ہے۔ قومی سطح پر سالمیت و استحکام کے لیے کوئی ڈاکٹرائن موجود نہیں کہ بعد از جنگ کے حالات سے نمٹا جا سکے۔ عدم استحکام کے نئے دروازے کھلنے سے روکے جا سکیں۔ سیاسی سطح پر ایسا مکالمہ بھی مفقود ہے کہ لبنان میں ایک مستحکم سیاسی فضا کیسے قائم کرنی ہے اور تباہی کے اس گھن چکر سے کیونکر نجات پانی ہے۔
بلکہ صرف یہ نظر آتا ہے کہ لبنان محض بیرونی مذاکرات کاروں کا منتظر ہے۔ کبھی مذاکرات کے لیے واشنگٹن کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ کبھی تہران کو دیکھتا ہے اور اسلام آباد میں مذاکراتی کوششوں پر تکیہ کرتا ہے کہ اس کے مستقبل کا بھی کوئی فیصلہ ہو جائے گا۔ اس سے بھی خوفناک صورت حال یہ ہے کہ لبنان ساری امیدیں حزب اللہ اور ایرانی پاسداران سے جوڑے ہوئے ہے۔ یہ حقیقیت پسندانہ اور عقلیت پسندانہ رجحان نہیں ہے۔ اسے حکمت عملی بھی نہیں کہا جا سکتا۔
لبنانی عوام ان حالات میں علاقائی سطح پر ہونے والی سفارت کاری پر اپنی بقا کے لیے امید و انحصار نہیں کر سکتے۔ جبکہ ان کا ملک لمحہ بہ لمحہ تباہی سے دوچار ہو رہا ہے۔
اسرائیل اپنی جگہ پوری شرح صدر کے ساتھ حالت اطمینان میں ہے کہ مذاکرات کی میز پر کچھ بھی ہو جائے زمین پر اسرائیل کے اختیار کردہ اہداف تبدیل نہیں ہوں گے۔ قرارداد نمبر 1701 کا نفاذ ہوگا اور اسرائیل کی شمالی سرحد محفوظ ہوگی۔ اس کا عملی مفہوم یہی ہے کہ اسرائیل کو فوجی دباؤ اس وقت تک برقرار رکھنے کا موقع ہوگا جب تک حزب اللہ کو مار کر پیچھے دھکیل نہیں دیا جاتا اور لبنانی ریاست اپنی سرزمین کی خود ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس تناظر میں اسرائیل کے سامنے واحد فوجی آپشن ہی رہے گی۔ یہی اس کے سیاسی عزام کے لیے ضروری ہے۔ یہ تباہی جاری رکھے، انخلا پر لوگوں کو مجبور کیے رکھے اور سفارتی دباؤ سے لبنان کو ایک نئی حقیقت بننے پر مجبور کرتا رہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے بھی اپنے ملک کے ساتھ جوا کھیلنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ وہ مذاکرات سے کلی انکار بھی نہیں کرتی، لیکن اس کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ لبنان کی طرف سے ایران مذاکرات کرے اور خود پاسداران انقلاب کے توسیعی ہتھکنڈے کے طور پر کارروائیاں کرتا رہے۔ اس مقصد کے لیے لبنانی سویلین انفراسٹرکچر کو استعمال کرے، سرحدی دیہات کی اوٹ لے اور نقل مکانی کرنے والوں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہے۔
یہ اس بحران کی جڑ ہے۔ ایرانی قبضے نے اسرائیلی قبضے کو موقع دیا ہے۔ یوں لبنان دو بیرونی طاقتوں کی جنگ میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ جبکہ اس کی اپنی سرکاری پوزیشن بھی بہت کمزور ہے۔ ایک تقسیم شدہ لبنان قومی سطح پر فیصلہ سازی سے بھی عاری نظر آتا ہے۔
اس تناظر میں اگر جنگ بندی ہو بھی گئی تو اس سے کچھ حاصل ہوگا نہ بحران کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ جنوبی لبنان کے دیہات کی تباہی اس حد کو چھو چکی ہے کہ ان میں گھروں، سکولوں اور دیگر سول انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ سڑکیں تک تباہ کر دی گئی ہیں۔ بے گھر کر کے دیہات سے نقل مکانی پر مجبور شہری اس تباہی میں واپس آنے کے لیے کیونکر تیار ہوں گے جبکہ وہاں گولہ باری کی گھن گرج کا سلسلہ بھی تھمنے میں نہ آیا ہو۔
امریکہ اور ایران کا معاہدہ اگر ہوجاتا ہے تو بھی اس میں لبنان کے لیے بچاؤ اور سلامتی کی کوئی صورت ہوگی نہ ضمانت۔ ممکن ہے کچھ وقت کے لیے اسرائیل کو حملوں سے روک دے مگر یہ اس تباہی کا صفایا تو نہیں ہو سکے گا جس نے پورے جنوبی لبنان کو اپنی لپیٹ میں لے کر ناقابل رہائش بنا دیا ہے۔ یہ تباہ شدہ دیہات لبنان کی قومی ناکامی کو مزید گہرا دکھانے کے لیے ایک شہادت کے طور پر موجود ہیں۔ کہ جب ایک ملک دوسرے ملکوں کو اپنے ہاں جنگ کے فیصلے کرنے کا اختیار دے دیتا ہے تو پھر اس کا یہی حال ہو سکتا ہے۔ جب کوئی ملک آمادہ ہو جائے کہ دوسرے ملک اس کے لیے مذاکرات کریں اور اس کے مستقبل کے فیصلے کریں تو پھر یہ ہونا فطری ہے۔
ان حالات میں کوئی سنجیدہ سرمایہ کار آئے گا، نہ کوئی 'ڈونر' ملے گا اور نہ ہی بین الاقوامی سطح سے کوئی مالیاتی ادارہ لبنان کی تعمیر نو کے لیے آگے بڑھ سکے گا۔ کہ اگر وہ عسکری ڈھانچہ موجود ہے جس نے لبنان کو اس حالت تک پہنچانے میں کردار ادا کیا ہے تو کوئی کیسے یہاں سرمایہ لگائے گا۔ ہاں انسانی بنیادوں پر ملنے والی امداد ہو سکتا ہے ملتی رہے۔ ہنگامی بنیادوں پر ریلیف کی کوئی صورت ہی ممکن ہوتی رہے۔ لیکن تعمیر نو ہوگی تو بھی انتہائی محدود اور برائے نام۔ یہ خدشے اس وقت تک عملی طور پر باقی رہیں گے جب تک لبنان اپنے ہاں ہتھیاروں پر صرف ریاستی اجارہ داری کے اصول کو نافذ نہیں کر لیتا۔
یہ صرف اسرائیلی مطالبہ نہیں ہے۔ نہ ہی محض امریکہ یا خلیجی ملکوں کی طرف سے مدد اور تعاون کے لیے عاید کردہ شرط ہے۔ یہ عام لبنانیوں کی بھی خواہش اور مطالبہ ہے کہ انہں جنگ سے نکالا جائے، سانس لینے دیا جائے۔
لبنانی عوام اور معاشرے میں یہ احساس ہر جگہ موجود ہے کہ لبنانی معاشرہ اور حزب اللہ کا عسکری کردار ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ نہ ہی اس طرح لبنانی ریاست کا وجود قائم رکھا جا سکتا ہے۔ یہ سوچ ان طبقوں میں بھی پائی جاتی ہے جو ماضی میں حزب اللہ کے مزاحمتی کردار کو برداشت کرتے تھے۔ لیکن اب یہ بھی جان گئے ہیں کہ لبنان حزب اللہ کے مزاحمتی کردار کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے دیہاتوں کے دیہات کی قربانی نہیں دے سکتا۔ اپنی شہری آبادیوں، سویلین انفراسٹرکچر اور بچوں کو قربان کرتے رہنا قبول نہیں کیا جا سکتا۔
حزب اللہ بھی یقینا اب کمزور ہو چکی ہے۔ اس کے اہم کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔ اس کے پاس جو اپنی پوزیشنیں تھی اب اس سے چھن چکی ہیں۔ جب تک حزب اللہ کے پاس وافر ہتھیاروں کے علاوہ ملک کے سیاسی اور معاشی و پارلیمانی نظام میں نمایاں قوت و اختیار نہیں ہوتا اس کی طاقت کو بحالی نہیں مل سکتی۔ جب تک یہ اپنے مخالفین کو دھمکا نہیں سکتی اور ملک کو جب چاہے جنگ میں نہ لے جائے۔ یقیناً ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ مگر اب شاید ممکن نہیں۔
فرقہ وارانہ سیاست اور امل تحریک کے ساتھ اتحاد کے ذریعے پارلیمنٹ کی سپیکرشپ حاصل کرنے کا حزب اللہ یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ شیعوں کی واحد نمائندہ ہے۔ لیکن آج کی حقیقت یہ ہے کہ یہ تنہا ہو گئی ہے اور اس نے اپنے حامیوں کے قصبوں کو بھی میدان جنگ بنا دیا ہے۔
لبنانی ریاست اب اسے یہ سب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ملک کا آئین واضح ہے کہ ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری ہوگی۔ یہ لبنانی صدر، حکومت اور فوج کی ذمہ داری ہے نہ کہ حزب اللہ کا حق ہے کہ وہ استعمال کرے۔ حکومت اور فوج کی ذمہ داری ہے کہ پورے اور تمام عوام کا تحفظ کرے۔
یہ سوچنا وہم تو ہو سکتا ہے درست نہیں کہ تعمیر نو خود مختاری سے پہلے ممکن ہو جاتی ہے۔ کہ رقم آئے گی تو باقی مشکل فیصلے بعد میں لے لیے جائیں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ پہلے بڑے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ استحکام لانا ہوتا ہے۔ اپنا اختیار ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ساری تعمیر نو ایک طرح سے یرغمال بن کر رہ جاتی ہے۔
اس لیے لبنان حکومت کو فالج زدگی کی کیفیت سے خود کو نکالنا ہوگا۔ ایک ایسی قومی حکمت عملی بنانا ہو گی جو سلامتی کا احاطہ کرتی ہو، سلامتی سے متعلق اصلاحات پر مشتمل ہو۔ تعمیر نو کا میکنزم بنا سکتی ہو۔ معاشی بحالی کا امکان پیدا کرنے والی ہو اورایک حقیقت پسندانہ ٹائم لائن کے ذریعے پوری لبنانی سرزمین پر اپنی عملداری بحال کرنے کا ذریعہ بنے۔
نیتن یاہو ممکن ہے ایک ایسے بفرزون کو ترجیح دیتا ہو جس میں آبادی سرے سے موجود نہ ہو۔ ہو سکتا ہے اسرائیل لبنان کے جنوبی بارڈر کو 'ری شیپ' کرنے کی آرزو رکھتا ہو۔ لیکن جو چیز لبنانیوں کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ان کا مزاحمتی یا دفاعی بیانیہ حقائق کو خیال میں رکھ کر ترتیب دیا گیا ہو۔
اگر لبنانی چاہتے ہیں کہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہونے والوں کو واپس اپنے گھروں میں مستقل رہنے کا موقع ملے تو لازم ہے کہ سرحدی علاقوں میں وہ صورت حال پیدا کرنے سے بچا جائے جو بار بار جنگ سے دوچار کرنے کا موجب بن جاتے ہیں۔ اس کی شروعات حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور ملکی خود مختاری بحال کرنے سے ہوگی۔
یہ اس وجہ سے نہیں کہ بیرونی قوتیں ایسا چاہتی ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ اسرائیل کا مطالبہ ہے۔ بلکہ یہ خود لبنان کی ضرورت ہے۔ کہ یہ لبنان کی تعمیر نو کا تقاضا ہے۔