ہرمز کا مستقبل: امن یا جنگ کی عدم موجودگی؟
تین ہفتوں کے مقابلتاً سکون کے بعد آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر حملہ کیا۔ ان جہازوں میں قطری ایل این جی کا ٹینکر بھی شامل تھا۔ انہی تین میں خام تیل لے جانے والا سعودی عرب کا جہاز تھا۔ یہ حملے اس وقت کیے جب انقرہ میں نیٹو سربراہی کانفرنس جاری تھی۔ یوں ان حملوں سے نیٹو رہنماؤں کی توجہ مشرق وسطیٰ کی جانب مبذول ہوئی اور اس سوال سے بھی ہٹ گئی کہ نیٹو کے یورپی ارکان اپنے اتحادی امریکہ پر کیسے اعتبار کر سکتے ہیں۔
جواباً امریکہ نے ایرانی اہداف کو بمباری کر کے نشانہ بنایا اور جواب الجواب کی صورت میں ایران نے قطر اور بحرین میں حملے کیے۔ بعدازاں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات بھی حملوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔
آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی یہ تازہ دراڑ دونوں طرف کے مضبوط بیانیے کے ساتھ کھڑی ہے۔ صدر ٹرمپ نے فوری طور پر بدھ کے روز نیٹو کے سٹیج سے یہ اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت اب باقی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے اس بیان بعد اپنے مؤقف کو اس طرح آگے بڑھایا کہ وہ اپنے مذاکرات کار نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اجازت دیں گے کہ وہ بات چیت جاری رکھیں۔ ایران کی طرف سے بھی صورتحال کی کی گئی اپنی تعبیر سے پیچھے نہ ہٹنے کا مؤقف سامنے آیا۔
نئی صورتحال، امن، تیل کی منڈیوں اور عالمی معیشت کو غیر ضروری بنا دی گی؟
چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت ہمیشہ سے ایک متعین انداز کے بغیر ہے۔ جس کی وجہ سے ہر فریق کو اپنی مرضی کی تعبیر کا موقع ملا ہوا ہے۔ ایرانی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ آبنائے ہرمز پر ان کا پہلے کی طرح کنٹرول رہے گا۔ پوری دنیا اگرچہ چاہتی ہے کہ آبنائے ہرمز اسی طرح بحال ہوجائے جس طرح اس سے قبل بین الاقوامی کنوینشن اور قوانین کی بدولت سب کے لیے کھلی تھی۔ اسی چیز کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام کام کرنے والی بین الاقوامی جہاز رانی کی تنظیم لے کر چلتی ہے۔
اقوام متحدہ کا بین الاقوامی پانیوں سے متعلق قوانین پر کنوینشن میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبی گزرگاہیں تجارتی جہازوں کے لیے آزاد راستوں کے طور پر کام آئیں گی۔ ایک نکتہ جو کم ہی زیر بحث ایا ہے کہ اس کنوینشن کی امریکہ نے کبھی توثیق کی ہے نہ ایران نے۔
اسی طرح لبنان میں جاری صورتحال کے حوالے سے بھی امریکہ و ایران کے درمیان دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت میں چیزوں کا متعین نہ کیا جانا بھی من مانی تعبیروں کا سبب بنا ہوا ہے۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی لبنان پر بھی محیط ہے اور لبنان کی جنگ بندی بھی اس بڑے معاہدے کا حصہ ہے۔ لیکن دوسری طرف ابھی تک اسرائیل نے اور نہ ہی حزب اللہ نے پوری طرح اسی قبول کیا ہے۔ جبکہ اسرائیل اس اصرار پر قائم ہے کہ وہ لبنانی علاقے میں اپنی فوج کے ہاتھوں بنائے ہوئے سیکیورٹی زونز کو برقرار رکھے گا۔
دنیا کا بڑا حصہ نہیں چاہتا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرے یا اپنی یورینیئم افزودہ کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھتے ہوئے یورینیئم کو ہتھیار سازی کی سطح تک افزودہ کر لے۔ اتفاق سے مفاہمتی یادداشت بھی اس بارے میں کوئی متعین انداز اختیار نہیں کر سکی۔
جوہری ایشو پر تفصیلی مذاکرات کی ضرورت ہے۔ ایک پوری شرح و بسط چاہیے اور امکانی طور پر کثیر جہتی اپروچ کے ساتھ اس معاملے کو آگے بڑھنا چاہیے۔ جیسا کہ 2015 کے جوہری معاہدے میں سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان اور جرمنی نے 5+1 کی صورت میں دستخط کیے تھے اور جسے 'جوائنٹ کیمپریہینسیو پلان آف ایکشن' کا نام دیا گیا تھا۔ 2015 کے اس جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے 20 ماہ تک مسلسل مذاکرات کیے گئے تھے اور تب جا کر یہ معاہدہ ممکن ہوا تھا۔
مفاہمتی یادداشت میں متعین انداز میں چیزوں کو بیان کرنے کی اس کمی نے نہ صرف دونوں فریقوں کی اپنی اپنی تعبیر کے لیے موقع پیدا کیا ہے بلکہ ایسے خطرے کو بھی بڑھایا ہے جس کے نتیجے میں پچھلے چند دنوں میں بڑے بڑے واقعات دیکھنے میں ائے۔
امریکہ و ایران دونوں ہی یہ ظاہر نہیں کر رہے کہ وہ ایک بار پھر ایک مکمل جنگ کی طرف آنا چاہتے ہیں۔ ایرانی معیشت تباہی کی حالت میں ہے۔ جبکہ امریکی انتظامیہ کو ماہ نومبر کے شروع میں وسط مدتی انتخابات کے چیلنج کا سامنا ہے۔ لیکن جس طرح چیزیں ہمارے سامنے کھڑی ہیں، ہم حقیقت پسندانہ طور پر دیکھیں تو ہمیں امن کی امید نظر نہیں آتی۔ اگرچہ ایک مکمل جنگ بھی موجود نہیں ہے۔
منڈیوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ صورتحال میں آنے والے نئے موڑ منڈیوں کو بار بار ڈسٹرب کرتے ہیں اور عالمی منڈیاں ان کو سہارنے پر مجبور ہوتی ہیں، خصوصاً توانائی سے متعلق منڈیاں۔ جب مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تو خام تیل کی منڈیوں میں قیمتیں جنگ سے پہلے والی صورتحال پر واپس چلی گئیں۔ اب دوبارہ 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
یہ عالمی منڈیاں رہنماؤں کے بیانات اور واقعات سے متاثر ہوتی ہیں۔ بجائے اس کے کہ بنیادی عوامل سے۔ اس وقت تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی واحد وجہ آبنائے ہرمز سے تیل کی نقل و حمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نہیں۔ اس کی وجوہات میں امریکہ کی طرف سے ایرانی خام تیل کی خرید و فروخت اور ترسیل کے خلاف پابندیوں کو واپس لینے کے بعد پھر سے بحال کرنا بھی شامل ہے۔ ایک بار پھر ایرانی تیل کے منڈی تک لے جانے پر سخت قدغنیں لگ گئی ہیں۔ ایرانی تیل کے روایتی خریداروں میں چین سب سے نمایاں ہے، امریکی پابندیوں کے بعد ایرانی تیل کی قیمت میں ہونے والی کمی کا ہو سکتا ہے خیرمقدم کریں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاز پھر سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل و توانائی کے دیگر وسائل کو جنگ سے پہلے کے حجم کے برابر ٹرانسپورٹ کر سکیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں سے جو پرامیدی انتہائی بڑھ گئی تھی اس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت کبھی قبل از جنگ والی سطح پر واپس نہ آ سکی۔
یہاں تک کہ دو طرفہ ٹریفک کی آمد و رفت زیادہ غیر معمولی معاملہ ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت زیادہ تعداد ان جہازوں کی رہی ہے جو آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ان کے مقابلے میں وہ جہاز بہت کم تعداد میں رہے جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ جہاز رانی سے متعلق کمپنیوں کی طرف سے بالعموم آبنائے ہرمز سے گزرنے میں خوف و احتیاط کا اظہار رہا، اس لیے یہ اپنی سرگرمیوں کو معمول کی سطح پر نہیں لائی ہیں۔
دوسری جانب انشورنس کمپنیاں بھی مسلسل صورت حال کا تجزیہ کرنے میں مصروف نظر آئیں۔ ہر جھڑپ مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے اور آبی راہداری میں جہازوں کے اترنے کی تعداد کم کر دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جس بحری جہاز کی انشورنس نہ ہو سکے وہ پانیوں میں اترنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔ الا یہ کہ جہازران خطروں کی پروا نہ کرے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق اب بھی تیل کے خریدار سعودی عرب کی راس تنورہ بندر گاہ کے راستے تیل کی خریداری سے محتاط ہیں۔ جنگ سے قبل راس تنورہ سعودی تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمد کا ذریعہ تھی۔ لیکن اب اس سے صرف نقل و حمل کا آغاز ہی ہوا ہے، خریداروں کے خوف کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔
اس کی تذویراتی اہمیت کافی کم ہو چکی ہے۔ کیونکہ جنگی حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے سعودی عرب نے اپنی شرق وغرب میں موجود پائپ کو اس کی مکمل گنجائش کے مطابق آپریشنل کر لیا تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود بھی متبادل آپشنز رکھتے تھے۔ مگر دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کویت، بحرین، قطر اور عراق کے پاس متبادل آپشن نہیں تھی۔
تیل اور توانائی سے متعلق منڈیوں کو اگر درمیانی مدت کے جائزے کے حوالے سے دیکھا جائے تو موسم سرما کے دوران یہ منڈیاں کافی مشکل حالات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی اہم ہوگا کہ تیل کے ذخائر کو محفوظ رکھنے والے ملک اپنے تیل کے ذخائر میں جنگ کی وجہ سے ہوجانے والی کمی کو کس رفتار کے ساتھ پورا کرنے کے آرزو مند ہیں۔ جیسا کہ ان تیل کے خریداروں میں چین ایک اہم اور بڑی معیشت کا ملک ہے۔
جبکہ تیل کی منڈیوں نے اچھی طرح اپنے آپ کو خیلج کے نئے حالات کے مطابق ایڈجسٹ کر لیا ہے۔ جیسا کہ بڑے پیمانے پر خریداری کے لیے آرڈرز کی تعداد کم ہو گئی ہے۔
لیکن یہی بات 'ایل این جی' کے لیے نہیں کہی جا سکتی۔ نہ ہی کھادوں اور اس نوعیت کی انتہائی اہم اشیاء کے لیے ممکن ہے۔ ان کی آبنائے ہرمز سے ہی ترسیل لازمی ہوگی۔ کھادوں اور توانائی سے متعلق دیگر ضرورتوں کے تناظر میں آبنائے ہرمز ہی فراہمی کا اہم ترین راستہ ہے۔
مشرق وسطیٰ کے اس جاری بحران نے پہلے ہی عالمی معیشت کو کافی متاثر کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی پیداواری شرح نمو کے حوالے سے 2026 کی پیش گوئی کو 3.5 سے کم کر کے 3 فیصد کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بھی معاشی گراف کے واضح طور پر نیچے آنے کا خدشہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف نے صارفین کی عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ افراط زر کی شرح 7.4 فیصد تک جا سکتی ہے۔
نتیجتاً مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔ یہ مہنگائی توانائی کے میدان کے علاوہ خوراک سے متعلق اشیا میں بھی زیادہ ہو گی۔ اس سب باتوں کا حاصل یہ ہے کہ عالمی معیشت کو آبنائے ہرمز اور اس کے گرد و پیش میں صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے ایک قابل اعتماد راستے کی ضرورت ہے۔ لیکن بد قسمتی سے یہ راستہ ممکن ہو بھی گیا تو اس راستے کے سیدھے اور ہموار ہونے کے بارے میں بہت سے شکوک ہیں۔