.

حرم کے ہر گوشے کی صفائی کیسے یقینی بنائی جاتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد حرام میں بیت اللہ کے گرد طواف کرنے والوں کی آوازوں کے بیچ، ایک منظر نظروں کی توجہ مبذول کرا لیتا ہے۔ بیت اللہ کے اطراف موجود فانوسوں سے نکلتی چکاچوند کردینے والی روشنی اور ان سے چمٹا ہوا صفائی کا عملہ ، یہ منظر روزانہ کی بنیاد پر صفائی کی نوعیت سے متعلق استفسار کو جواب دیتا ہے۔

مسجد حرام کی صفائی کے امور سے متعلق جنرل پریذیڈنسی کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ "جہاں تک پیتل کا تعلق ہے تو اس کے لیے خصوصی لوازمات کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے اس کی تابناکی اور چمک پورے سیزن کے دوران متاثر نہیں ہوتی"۔

حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی کی جانب سے انتہائی جانفشانی کے ساتھ بیت اللہ کی صفائی کا عمل جاری رہتا ہے۔ خانہ کعبہ کی بیرونی نچلی دیوار "شاذروان" کو آب زم زم اور خوشبوؤں کے مرکب سے صاف کیا جاتا ہے جب کہ کعبے کی دیواروں کو عود اور گلاب سے پونچھا جاتا ہے۔

جنرل پریذیڈنسی کے ذمہ دار کے مطابق "صفائی کا عمل چھتوں اور فرشوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک اور اہم جانب بھی ہے اور وہ ہے مسجد حرام کی تمام منزلوں پر پیتل اور تانبوں کی تنصیبات کی صفائی۔ اس میں سرفہرست بیت اللہ کا دروازہ اور مقام ِ ابراہیم ہیں"۔

تقریبا 190 اہل کاروں کی معاونت سے 1900 ورکروں نے مسجد حرام کو چھوٹے چھوٹے زون اور اسکوائر میں تقسیم کیا ہوا ہے تاکہ صفائی کے لیے ہر کونے اور ہر گوشے میں پہنچنے کو یقینی بنایا جاسکے اور اللہ کے مہمانوں کے لیے خوش گوار فضائیں قائم کی جاسکیں۔

جنرل پریذیڈنسی کے ذمہ دار کا کہنا ہے کہ " ہم مختلف سیزنوں کے لیے پلان وضع کرتے ہیں اور پھر ان پر سیزن کے آغاز سے قبل عمل درامد مکمل ہوجاتا ہے۔ درحقیقت سیزن کے دوران دیگر کام ہوتے ہیں اور ہم ان کاموں کو نظرانداز کر کے پیتل اور تانبے کی صفائی کی کارروائی میں مصروف نہیں ہوسکتے۔ پیتل اور تانبے کی صفائی شعبان کے آخر تک ختم کرلیا جاتا ہے۔ پورے رمضان کے مہینے میں دیگر کام کیے جاتے ہیں"۔

حرم مکی کے اندر پیتل اور تانبے کی تنصیبات اور اشیاء مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ورکروں کے ہاتھ بجلی کے خودکار زینوں اور گزرگاہوں کی باڑوں تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہاں ہر بالشت کو خصوصی دیکھ بھال ، توجہ اور محبت حاصل ہے۔