.

مسجد نبوی : مواجہہ شریف پر زائرین کے نظم و نسق کا انتظام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد نبوی شریف کے زائرین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے مواجہہ شریف پر کچھ دیر ٹھہریں۔ شدید اژدھام کے پیش نظر اس وقوف کا دورانیہ 10 منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا۔

مواجہہ شریف پر متعین ایک سعودی سیکورٹی اہل کار کے مطابق "پلان کا مقصد تمام محوروں سے امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے جن میں سیکورٹی ، نظم و نسق اور انسانی بنیادوں سے متعلق محور شامل ہیں۔ اس دوران مسجد نبوی شریف کی زیارت کرنے والوں کی سلامتی اور ان کے اطمینان کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کی جاتی ہیں۔"

سعودی سیکورٹی اہل کار اور حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی کی خصوصی کمیٹی کے ارکان ، مواجہہ شریف پر آنے کے خواہش مند افراد کو چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کر کے وقت اور جگہ کے لحاظ سے مجمعے کے نظم و نسق کی کوشش کرتے ہیں۔ ان افراد کو باب السلام سے داخل کرنے کے بعد مسجد کے بقیہ حصوں یا پھر مواجہہ شریف کی جانب سے گزارا جاتا ہے۔

باب السلام پر موجود ایک سیکورٹی اہل کار کا کہنا ہے کہ "مواجہہ شریف پر رسول اللہ علیہ الصلات و السلام اور ان کے دونوں ساتھیوں کی قبور مبارک کی زیارت کرنے والوں کو خدمات پیش کرنے کے لیے باب السلام سے لے کر مواجہہ شریف تک اور پھر باب البقیع تک سیکورٹی اہل کاروں موجود ہوتے ہیں۔ اس دوران رش کے لحاظ سے زائرین کو قطاروں اور مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔"

مواجہہ شریف پر کھڑے ہونے والوں کے جذبات کیا ہوتے ہیں ؟ ان لوگوں کے عقیدت و محبت سے بھرے دل اور آنکھوں سے رواں اشک کس چیز کے غمّاض ہوتے ہیں ؟ یہ ایک خاص کہانی ہے۔ تاہم عام منظر اس بات کو باور کراتا ہے کہ یہاں پہنچنے والے مسافر کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا پوری ہوگئی ہے۔

مواجہہ شریف کی زیارت کرنے والے ایک عرب نوجوان نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "الحمد للہ یہاں لوگ پرسکون ہیں۔ دھیرے دھیرے چلتے ہوئے وہ مواجہہ شریف پر پہنچ کر ٹھہر جاتے ہیں۔ ہم ہر چیز کو پورے اطمینان سے دیکھتے ہیں اور ہمیں دل میں ایک عجیب سا احساس اور سرور اترتا محسوس ہوتا ہے... لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔"

سیکورٹی اہل کاروں کی آنکھیں اور دل ایک مربوط انسانی نظام کا حصہ بن کر مسلسل مصروف عمل رہتے ہیں اور وہ اس بات کے خواہاں ہوتے ہیں کہ مواجہہ شریف کے استحقاق کی انصاف اور فراخی کے ساتھ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔