.

مصرمیں بچّہ شادی کے خلاف جاری جنگ

ہباء یوسری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بچّوں کی تصاویر اکثر والدین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر چھائی ہوتی ہیں۔بچّے کے اسکول میں پہلے دن کی لی گئی تصاویرتوہرسال پوسٹ کرنے کا عام رجحان ہے۔ بچّے اپنی استری شدہ وردیوں، ہونٹوں پر تبسم آمیزشرارتی مسکراہٹ لیے نئے اسکول بستوں کے ساتھ ہوتےہیں۔اس سے ایک طرح کی معصوم سی بدتہذیبی کا آغازہوتا ہے اوراس کی اسکول کی زندگی میں توقع بھی کی جانی چاہیے۔

والدین کواپنے ایسے بچّوں پرفخر ہوتا ہے۔بعض اوقات محض ان کے وجود کی حقیقت کے علاوہ فخر کی کوئی اور وجہ نہیں ہوتی۔تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات دوسری تصاویر بھی سامنے آتی ہیں جو گھمنڈی والدین نے بڑے فخر سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہوتی ہیں۔ان تصاویرمیں موجود بچّوں نے اسکول وردیاں نہیں پہن رکھی ہوتی ہیں یا وہ اسکول بیگ لے کرنہیں جارہے ہیں۔ان میں بچّوں کے چہرے پرکوئی شرارتی مسکراہٹیں نہیں ہوتیں بلکہ ان تصاویرمیں لڑکیوں کو بھاری میک اپ تھوپا گیا ہوتا ہے۔بالوں کوجوڑا کیاجاتا ہے اور ان کے جسم کو کیموفلاج کیا ہوتا ہے، کسی بھاری اسکول بیگ سے نہیں، بلکہ اس کے بجائے شادی کے بھاری بھرکم لباس کے وزن سے ایسا ہوتا ہے۔اسی طرح کم سن دلھا لڑکے کو بھاری بھرکم سوٹ پہنایا ہوتا ہے۔

اچانک بلوغت کی مشقت ان کے ناپختہ جسموں پرگرادی جاتی ہے تاکہ انھیں نسوانیت یا مردانگی کے بکھیڑوں میں ڈال دیا جائے جب کہ حقیقت میں وہ ابھی عمر کے لحاظ سے ان ذمے داریوں کو اٹھانے کے قابل ہوتے ہیں اور نہ ذہنی طور پرتیارہوتے ہیں۔

حال ہی میں مصر میں منگنی کی ایک تقریب کی تصویر منظرعام پرآئی ہے۔اس میں 11 سالہ دُلھن اپنے 12 سالہ دُلھا کے ساتھ موجود ہے۔ تصویرمیں لڑکی کی نگاہیں نیچے کی طرف جھکی ہوئی ہیں،مصنوعی بھنوؤں،مسکارے اور کاجل سے ڈھیلے بھاری کردیے گئے ہیں، بال سیدھے اکڑاؤ کیے ہوئے اور جسم گلابی ساٹن میں لپٹا ہوا ہےاورچہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں۔شاید اس سے میک اپ برباد ہونے کا خطرہ لاحق ہےاور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر دلھن کویہ بھی خوف لاحق ہے کہ اس کو والدین کے تحقیرآمیز سلوک کا سامنا ہوسکتا ہے۔

وہ مستقبل کی ایک اچھی بیوی بننے کے لیے تیار کی جا رہی تھی، تابع، مخلص، اورایک اکڑے لباس میں ملبوس ،جواس کے جسم کو اپنے مستقبل کے شوہر کے سامنے خوب صورت نظر آنے کے لیے پہنایا گیا تھا۔ لڑکا سفید قمیص اور سیاہ پتلون میں تھا۔وہ گھبرا کر اپنا بازو دُلھن سے کھینچ کر پیچھے ہٹانے کی کوشش کررہا تھا۔

تمام بچّوں کی طرح، وہ بڑے لوگوں کی تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک عورت اورمرد کوایساہی کرنا چاہیے۔صرف اس مرتبہ ہی دو معصوم بچوں کے درمیان دُلھا اوردُلھن کا یہ کھیل نہیں کھیلا جارہا ہے بلکہ المیہ ہے کہ والدین کی طرف سے اس کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

یہ کہاجاتا ہے کہ ایک تصویر ہزارالفاظ پر بھاری ہوتی ہے۔ جشن کی یہ تصویرانجانے میں ہونے والے نقصان کے بارے میں بتاتی ہے۔ یہ ان والدین کی عکاسی کررہی ہے جو اب بھی سمجھتے ہیں کہ لڑکی کی قدرتی جگہ اس کا اپنا گھر ہے، اور اگر ایک لڑکا روٹی،روزی کمانے کے قابل ہوگیا ہے تو وہ شادی کی عمر کو پہنچ چکاہے اور نئی ازواجی زندگی شروع کرنے کے لیے بالکل موزوں ہے۔

اس تصویر میں ماضی کے دورکی سرگوشی کا بھی اعادہ ہورہا ہے جب ان بچوں کے والدین کی نسل کے لوگوں کو کم عمری ہی میں بیاہ دیا جاتا ہے کیونکہ انھیں شادی کے لیے موزوں سمجھا جاتاتھا۔یہ معاملہ تاریخی جہالت کے چکرکی بھی عکاسی کرتا ہے کہ والدین اب اپنے بچّوں پر بھی اپنے گزرے ہوئے دور کے رسوم ورواج کو لاگو کررہے ہیں۔ اگریہ چکرنہیں ٹوٹا ہے تو یہ ایک طرح سے اس اصول کو دوام بخش رہا ہے اوریہ روایت درحقیقت ایک مکروہ طرزعمل کی بھی عکاس ہے۔مجھے ان لوگوں کے رویے سے مایوسی ہوئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بالغوں کا اس راستے پرچلنا ٹھیک ہے اور وہ ہمارے ہی معاشرے میں رہتے ہیں۔

اس تصویر کے پوسٹ ہونے کے ایک گھنٹے بعد ہی حکام نے بچّوں کو خطرے میں ڈالنے اور ان سے بدسلوکی کے الزام میں ان کے والدین کو گرفتار کرلیا تھا۔اس کارروائی کے باوجود، مصر میں اکثربچّوں کی شادیاں انجام پاتی رہتی ہیں مگرحکام کی مداخلت کے خوف سے انھیں ہمیشہ عوام کی نظروں سے اوجھل رکھا جاتا ہے۔

لڑکیوں کو عام طور پر اپنے والدین کی مستقبل میں دیکھ بھال کے لیے اسکولوں سے اٹھوا لیا جایا جاتا ہے۔ پر بڑی لڑکی کو بالعموم گھریلو کام کاج میں اپنی ماں کی مدد اور شادی کی تیاری سے قبل اپنے بہت سے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کے لیے گھرہی میں رکھا جاتا ہے۔

انتہائی کم عمر کی دُلھن جو شاید شدیدغُربت میں زندگی گزاررہی ہوتی ہے،اچانک ہر ایک کی توجہ کامرکز بن جاتی ہے، لہٰذا وہ اس صورت حال سے لطف اندوزبھی ہوتی ہے۔وہ خریداری اورتحائف سے لطف اندوزہوتی ہے اوراپنے دُلھا سے جبری شفقت کی واحد وصول کنندہ بھی ہوتی ہے۔

مگرکوئی بھی اس کو بچّہ دلھن ہونے کے جسمانی اور نفسیاتی مسائل کے بارے میں نہیں بتاتا۔کوئی بھی اس کواوائل عمری میں حمل کے خطرات کے بارے میں نہیں بتاتا یا یہ کہ ماں بننے کے لیے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔ کوئی بھی اسے یہ نہیں بتاتا کہ اس کا شوہربڑا ہو کربدتمیزی کرنے والا آدمی بن سکتا ہے، یا اس کے بچّوں کا اندراج نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کی شادی اس وقت تک قانونی نہیں قرار نہیں پائے گی جب تک کہ وہ 18 سال کی عمر کو پہنچ جائے۔

اس کا ایک اور مطلب یہ ہے کہ اس کے بچّے کوحکومت کی طرف سے مہیاکردہ ویکسین یا زرتلافی والی خدمات تک رسائی نہیں ہوگی۔کوئی بھی اسے ان امورمیں سے کچھ نہیں بتاتا ہے۔

وہ سب اس کو صرف مبارک باد کہتے ہیں اور کم سن دُلھن اور دُلھا کو یہ باورکرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ اب بڑے ہوچکے ہو، ہم آپ کو بہت سارے تحائف خرید کردیں گے اور آپ لوگ اپنے گھر میں رہوگے۔کم عمر دلھن کسی چیز پرسوال نہیں اٹھاتی کیونکہ اس کی آنکھیں خوشی سے خیرہ ہورہی ہوتی ہیں اوراگر وہ کوئی سوال کرتی بھی ہے تو کوئی اس کو مناسب جواب نہیں دے گا۔

مصری حکومت نے بچّوں کی شادی کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اورمروجہ قوانین میں ترامیم کا آغاز کیا ہے۔ان ترامیم میں شادی کی قانونی عمر بڑھانا اور بچّوں کی شادی کے معاملات کی اطلاع دینے کے لیے ٹیلی فون ہاٹ لائن کی فراہمی شامل ہے۔ کم عمری کی شادیوں میں ملوّث بالغوں کے خلاف سخت قانونی سزاؤں کا آغازاس عمل میں سدراہ ہوسکتا ہے۔کم عمری میں تمام بچّوں کی شادیوں کے خاتمے اورسوشل میڈیا پرنمودار ہونے والی شادیوں کووقوع پذیرہونے سے روکنے کے لیے ایک وسیع تراورمنظم حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.