.

حلب میں شامی فوج کی چڑھائی ، جنیوا امن مذاکرات میں تاخیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے باغیوں کی سپلائی لائن کاٹنے کے لیے ایک نئی کارروائی شروع کردی ہے جبکہ دمشق حکومت نے بھی حزب اختلاف کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ہے کہ جنیوا میں امن مذاکرات باقاعدہ طور پر شروع نہیں ہوئے ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے سوموار کے روز جنیوا میں باضابطہ طور مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ درحقیقت مذاکرات ابھی بالکل آغاز نہیں ہوا ہے جبکہ برسرزمین لڑائی بلا تعطل جاری ہے۔

ایک باغی کمانڈر نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ وہ حلب میں فیصلہ کن جنگ کی تیاری کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائلوں کی تنصیب سمیت ہرقسم کی کمک میدان جنگ کی جانب پہنچا رہے ہیں۔

شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے گذشتہ روز جنیوا میں ڈی مستورا سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد کہا تھا کہ وہ اس وقت تک مذاکرات نہیں کرے گی جب تک شامی حکومت شہریوں پر بمباری کا سلسلہ بند نہیں کردیتی ،شہروں اور قصبے کے محاصرے ختم نہیں کرتی ہے اور قیدیوں یا زیر حراست افراد کو رہا نہیں کرتی ہے۔

شامی حکومت کے وفد کے سربراہ بشارالجعفری نے بھی منگل کے روز ڈی مستورا کے ساتھ ڈھائی گھنٹے کی بات چیت کے بعد کہا ہے کہ ابھی مذاکرات شروع ہوئے ہیں اور نہ عالمی ایلچی نے ان کا ایجنڈا یا حزب اختلاف کے شرکاء کی فہرست پیش کی ہے۔

انھوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ابھی ضابطے کی کارروائی مکمل نہیں ہوئی ہے۔اگر حزب اختلاف واقعی شامیوں کی زندگیوں کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اس کو اتوار کو دمشق میں داعش کے خودکش بم حملوں میں ساٹھ سے زیادہ افراد کی ہلاکتوں کے واقعے کی مذمت کرنی چاہیے''۔

اقوام متحدہ کے ایک ذریعے کے مطابق اسٹافن ڈی مستورا نے حزب اختلاف کے وفد کی فہرست بدھ تک پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔الریاض میں قائم شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل کی نمائندہ مذاکراتی کمیٹی کے علاوہ بعض دوسرے دھڑوں اور شامی کردوں کے نمائندے بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا گئے ہیں۔روس کردوں کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے پر اصرار کررہا ہے جبکہ وہ اور شامی حکومت باغی گروپوں جیش الاسلام اور احرارالشام کے نمائندوں کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے کی مخالفت کررہے ہیں۔

فیصلہ کن جنگ

ادھرشام کے شمالی شہر حلب میں شامی فوج نے باغی گروپوں کے خلاف حالیہ دنوں میں ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔روس کے 30ستمبر سے شام میں باغی گروپوں کے خلاف جاری فضائی حملوں کے بعد اسدی فوج کی اس علاقے میں باغیوں کے خلاف یہ پہلی بڑی کارروائی ہے۔

حلب کا شمالی علاقہ اسدی فوج اور باغیوں دونوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔یہیں سے ترکی تک باغی گروپوں کا سپلائی روٹ ہے جہاں سے شہر کے باغیوں کے زیر قبضہ حصے میں سامان رسد مہیا ہوتا ہے۔یہ علاقہ حکومت کے زیر قبضہ حلب کے مغربی حصے اور شیعہ آبادی والے دو دیہات نیوبل اور الزہرا کے درمیان واقع ہے۔یہ دونوں دیہات دمشق کے وفادار ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ اسدی فوج اور اس کے اتحادی جنگجوؤں نے آج حلب کے شمال مغرب میں واقع مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

باغی گروپ جیش الحر کے کمانڈر احمد الصعود کا کہنا ہے کہ ''روسی فضائیہ نے اس علاقے پر فضائی بمباری تیز کررکھی ہے۔ہم نے آج صبح علاقے کی جانب نئے جنگجو اور بھاری ہتھیار بھیج دیے ہیں۔بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ یہاں فیصلہ کن جنگ ہوگی۔ہم نے ٹو میزائلوں سمیت ہر چیز وہاں بھیج دی ہے''۔

امریکی ساختہ ٹینک شکن ٹو میزائل باغیوں کے پاس سب سے کارگر ہتھیار ہے۔امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے شامی باغیوں کو یہ میزائل اسدی فوج کے مقابلے میں ان کی جنگی صلاحیت بہتر بنانے کےلیے دیے تھے۔حکومت نواز المیادین ٹی وی کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ دو روز میں علاقے میں ڈیڑھ سو سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔صرف ایک ٹینک اور بکتر بند گاڑی کو ایک تباہ شدہ گاؤں کے نزدیک شاہراہ پر چلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔