واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے لبنانی تنظیم حزب اللہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے۔ یہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں بتایا گیا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت کے بعد فریقین جنگ بندی پر متفق ہوئے ہیں۔
سفیر یحییٰ لیٹر نے "ایکس" پر حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور کہا کہ ایران اسے اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے لبنان میں کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں اور وہ جنگ بندی کا پابند ہوتے ہوئے خود کو دہشت گرد حملوں سے بچانے کا حق رکھتا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بتایا کہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں ان کے فوجیوں پر 50 سے زائد گولے داغے، جس کے جواب میں فوج نے تنظیم کے درجنوں ٹھکانوں بشمول میزائل سائٹس اور اسلحہ کے گوداموں پر حملے کیے۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے کہا کہ اگر حزب اللہ جارحانہ سرگرمیاں بند کر دے تو استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے ہفتہ کو بتایا کہ ان کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان میں النبطیہ شہر کے قریب اسٹریٹجک اونچائی پر داخل ہونے والی اسرائیلی فورس کا مقابلہ کیا۔ حزب اللہ نے بیان میں کہا کہ وہ جنگ بندی کے احترام کے ساتھ ساتھ دشمن کی جانب سے زمین پر قبضہ کرنے کی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کرنے میں غفلت نہیں برتے گی۔
واضح رہے کہ جمعہ کو ایک امریکی عہدیدار نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، مگر زمینی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ حزب اللہ نے اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
-
فائر بندی کا معاہدہ بے اثر... اسرائیل کی جنوبی لبنان اور بقاع پر بم باری
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جمعہ کے روز جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود، ...
مشرق وسطی -
لبنان کا استحکام حزب اللہ کے حملے روکنے سے مشروط ہے: اسرائیلی فوج
جنوب لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت کے دوران آج ہفتے کے روز اسرائیل نے جنگ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل ایران معاہدے میں رکاوٹ بن سکتا ہے:امریکی انٹیلی جنس کا انتباہ
امریکی انٹیلی جنس اداروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ...
بين الاقوامى