.

کروڑں ڈالرغبن کرکے ایرانی پٹرولیم کا عہدے دار جرمنی فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] میں توانائی کمیٹی کے وائس چیئرمین اور پارلیمنٹ کے رکن ھدایت اللہ خادمی نے انکشاف کیا ہے کہ سرکاری پٹرولیم کمپنی کا ایک سینیر عہدیدار کروڑوں ڈالر کی رقم خرد برد کرنے کے بعد کینیڈا فرار ہوگیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ قومی پٹرولیم کمپنی میں تیل کی تلاش اور امکانات کے شعبے کا ڈائریکٹر 15 ملین ڈالر کی رقم کی کرپشن کرنے اور کمپنی کے کھاتے سے 60 ارب تومان کی خرد برد کے بعد کینیڈا فرار ہوگیا۔

مسٹر خادمی نے کہا کہ سرکاری پٹرولیم کمپنی کے شعبہ قدرتی وسائل اور ان کی تلاش کے بنک اکاؤنٹس میں رکھی گئی کروڑوں ڈالر کی رقم وہاں موجود نہیں۔ جب کمپنی کی جانب سے متعلقہ بنک سے رابطہ کیا تو بنک نے بتایا کہ کمپنی اکاؤنٹس میں رکھی گئی رقوم وہاں سے نکال لی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام نے کرپشن کے اس میگا اسکینڈل کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاہم جس شخص پر یہ رقم چوری کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے اس کے پاس ایران کے ساتھ کینیڈا کی بھی شہریت ہے۔ خیال رہے کہ کرپشن کے باعث ملک سے فرار ہونے والا یہ دوسرا اہم عہدیدار ہے۔ اس سے قبل ایرانی نیشنل بنک کا چیئرمین محمود خاوری بھی سرکاری خزانے میں گھپلوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد کینیڈا فرار ہوگیا تھا۔ محمود خاوری کے پاس بھی دہری شہریت ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خاوری کو وطن واپس لانے کے لیے کوششیں کررہےہیں۔ اس سلسلے میں تہران نے انٹرپول سے بھی مدد طلب کی ہے تاہم ایران ابھی تک اسے واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔