امریکہ کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیاں 21 اگست تک کے لیے معطل کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کے معطل کیے جانے سے ایران کو اجازت مل گئی ہے کہ خام تیل کی پیداوار سے لے کر اس کی فروخت اور اس سے متعلق دیگر مصنوعات کو اپنے اور اپنے عوام کے لیے مفید بنا سکے۔
امریکہ کی جانب سے یہ اعلان پیر کے روز سامنے آیا ہے۔ اعلان کے مطابق پابندیاں اٹھانے کا یہ اعلان عارضی مدت کے لیے ہے۔
اس سلسلے میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے جاری مذاکراتی عمل میں کی گئی کمٹمنٹس میں یہ شامل ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولے رکھے گا ، تاکہ فری ٹرانزٹ ممکن ہوتی رہے۔ نیز بین الاقوامی جوہری ادارے 'آئی اے ای اے' کے معائنہ کاروں کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دے تاکہ معائنہ کار اپنا کام کر سکیں۔
امریکی اعلان کے مطابق قبل ازیں خام تیل کی پیداوار، فروخت اور ایرانی خام تیل کے ٹرانسپورٹ کیے جانے کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ اب 21 اگست 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی بارہ بجکر ایک منٹ پر تمام پابندیوں کی معطلی مکمل ہو جائے گی۔ البتہ دن کا یہ آغاز ایسٹرن وقت کے مطابق تصور کیا جائے گا۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے پاکستان اور قطر کی جانب سے ان تھک کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں ایک تازہ اور بڑی پیش رفت لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے ہوئی ہے۔ اسی طرح تیل اور پیٹرو کیمیکل سے متعلق برآمدات ختم ہو گئی ہے اور ایرانی ناکہ بندی کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے۔ کچھ منجمد کیے گئے اثاثے بھی بحال ہو گئے ہیں نیز ایران کے لیے تعمیر نو اور ترقی کے منصوبے بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔
یاد رہے امریکہ اور ایران کے درمیان پچھلے ہفتے کے دوران ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس ابتدائی معاہدے کی بنیاد پر اگلے 60 دنوں کے اندر اندر کئی امور پر دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے حتمی معاہدے کی طرف بڑھیں گے۔ البتہ اس دوران دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی بعض شرائط اور مطالبات کو عبوری طور پر مان کر کچھ اقدامات کیے ہیں۔ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جنیوا میں پہلا اعلیٰ سطح کا طویل مذاکراتی دور مکمل کر لیا گیا ہے۔