کمپنیوں میں خواتین کے سکارف لینے پر پابندی امتیاز کے بغیر ہونی چاہیے ۔ یورپی عدالت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کی سب سے بڑی عدالت نے یورپ کی کاروباری کمپنیوں کو بالواسطہ طور پر سکارف کے استعمال پر پابندی لگانے کی اجازت دے دی ہے۔ یورپی عدالت کے مطابق ' اگر ان کے ہاں کسی امتیاز کی بنیاد پر ایسا نہ ہوتو وہ اپنے ہاں کام کرنے والی خواتین کے سکارف اوڑھنے پر پابندی لگا سکتی ہیں۔ لیکن یہ پابندی کسی امتیاز کی بنیاد پر نہیں سب کے لیے ہونی چاہیے۔ '

یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ حکم جمعرات کے روز سنایا ہے۔ سر پر سکارف لینے کے ایشو سے متعلق یہ تازہ ترین فیصلہ ہے۔ اس معاملے نے یورپ کوکئی برسوں سے تقسیم کر رکھا ہے۔ سکارف لینے کی مخالف یورپی آبادی کے نزدیک اب یہ تقسیم ختم ہو سکتی ہے۔

یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب ' یورپی عدالت نے بلجئیم کی ایک کمپنی میں چھ ہفتوں کی تربیت کے لیے آنے والی مسلمانوں کی ایک بیٹی سے کمپنی والوں نے کہا تھا کہ وہ کام کے دوران سر پر سکارف نہیں لے سکتی تو اس سے ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ۔

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اس کے یہ قواعد غیر جانبدارانہ ہیں جبکہ مسلمانوں کی لڑکی کا کہنا تھا یہ امتیازی حکم ہے اور اس کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ اس کے خلاف مسلمان لڑکی اپنے شکایت بیلجیم کی ہی ایک عدالت میں لے گئی۔

جو بعد ازاں معاملہ لکسمبرگ میں قائم کورٹ آف جسٹس یورپی یونین میں پہنچ گیا۔ جس کا کہنا یہ سامنے آیا کہ اس طرح کی کسی پابندی کا نفاذ براہ راست امتیاز کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔

یورپی ججوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ پابندی سب کارکنوں پر عاید ہو اور کسی پرالگ سے نہ لگائی گئی ہو تو یہ امتیازی پابندی نہیں ہو گی۔

یورپی یونین کی عدالت نے پچھلے سال قرار دیا تھا کہ کوئی کمپنی متعین شرائط کے ساتھ اپنے کارکنوں کو سکارف کا استعمال کرنے سے روک سکتی ہے۔ اگر کمپنی اپنے منصوبے کا تشخص اپنے صارفین کے سامنے غیر جانبدارانہ رکھنا چاہتی ہے۔

واضح رہے جرمنی میں کئی برسوں سے سکارف پر پابندی ایک متنازع معاملہ ہے۔ فرانس جو کہ یورپی ممالک میں سب سے بڑی مسلم اقلیت والا ملک ہے اس میں بھی مسلمان بچیوں کے سکول میں سکارف سر پر لینے پر پابندی عاید ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں