"پوتن کے خانسامہ" نے روسی وزیر دفاع شوئیگو پر کیا الزام لگایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے نجی جنگجو ویگنر ملٹری گروپ کے سربراہ یوگونی پریگوزن نے اب تک کے سب سے شدید حملے میں کھل کر کر روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور ملک کے چیف آف جنرل اسٹاف پر تنقید کی اور ان پر اپنی فوج کو تباہ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

یوگونی پریگوزن نے ، جنہیں روسی صدر کے ساتھ اپنی سابقہ ​​قربت کی وجہ سے پوتن کا شیف کہا جاتا ہے ، آج منگل کو ایک آڈیو پیغام میں جو انہوں نے ٹیلیگرام پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا، بتایا کہ شوئیگو پرائیوٹ آرمی ویگنر کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے وزیر دفاع پر ویگنر گروپ کو اسلحے سے محروم کرنے کا بھی الزام لگایا، اور کہا کہ یہ اقدام سنگین غداری کے مترادف ہے۔

اپنے جارحانہ بیانات کے لیے جانے جاتے ویگنر کے بانی کا یہ حالیہ دنوں دوسرا ایسا حملہ ہے۔ چند روز قبل انہوں نے وزارت دفاع اور فوج کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ "خوفناک اور قاتل بیوروکریسی" مشرقی یوکرین کے علاقے باخمت میں پیش رفت میں تاخیر کی ذمہ دار ہے۔

پریگوزین کے بہت سے بیانات سے ویگنر گروپ اور ماسکو میں عسکری قیادت کے درمیان شدید اختلافات ظاہر ہوئے ہیں۔

روسی حکومت نے متعدد روسی میڈیا کے نمائندوں اور دیگر کو مطلع کیا ہے کہ وہ پریگوزن پر توجہ نہ دیں۔

سرگئی مارکوف، ایک ممتاز تجزیہ کار جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے سخت حامی ہیں، نے انکشاف کیا کہ انہیں "قیادت" کی جانب سے براہ راست حکم ملا تھا کہ کہ وہ ویگنر کو مت چھیڑیں۔

یہ تنقید صدر پوتن کے یوکرین پر فوجی کارروائی کے دوسرے سال میں داخل ہونے کے موقع پر خطاب سے دو دن پہلے سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ ویگنر گروپ اپنے گردونواح میں روسی فوج کی نمایاں کامیابی کے باوجود باخمت پر کئی ہفتوں بعد بھی قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں