اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے پیر کے روز کہا ہے کہ اسرائیل آیندہ مہینوں میں مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی اجازت نہیں دے گا۔
نیتن یاہو کے دفتر سے جاری شدہ بیان میں کہاگیا ہے کہ اسرائیل نے امریکاکومطلع کیا ہے کہ وہ آیندہ مہینوں میں وہ پہلے سے منظورشدہ نو بستیوں کے علاوہ نئی بستیوں کی تعمیرکی اجازت نہیں دے گا۔
نیتن یاہوکے مذہبی قوم پرست اتحاد نے 12 فروری کومقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی ان نوچوکیوں کودوبارہ فعال کرنے کی اجازت دی تھی جوحکومت کی منظوری کے بغیرتعمیرکی گئی تھیں۔فلسطینیوں نے اس اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔
اس اقدام کی مغربی طاقتوں اوراسرائیل کے عرب شراکت داروں نے بھی مذمت کی ہے اور وہ ان تمام یہودی بستیوں کوغیرقانونی قرار دیتے ہیں۔
لیکن متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کوبتایا کہ وہ یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد کے مسودے پرپیرکو ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کرے گا۔اس نے ’’شراکت داروں کے درمیان مثبت بات چیت‘‘کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کونسل اس کے بجائے متفقہ بیان جاری کرے گی۔
سلامتی کونسل میں ہونے والی ووٹنگ اسرائیل کی جانب سے امریکا کوویٹوپر آمادہ کرنے کا امتحان ہوسکتی ہے کیونکہ امریکا نے مشرق اوسط کے اپنے اتحادی کو خبردارکیا تھا کہ وہ نئی بستیوں کی اجازت نہ دے۔
اسرائیل نے مغربی کنارے میں قریباً 140 بستیوں کوقانونی چھتری مہیا کی ہے۔وہ اس فلسطینی علاقے پراپنی آبادکاری کوتاریخی پیدائشی حق قراردیتا اور اپنی سلامتی اور تحفظ کے لیے انھیں ناگزیرقراردیتا ہے، جبکہ فلسطینی پورے غربِ اردن کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست میں شامل کرناچاہتے ہیں۔