اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کاغربِ اردن میں اسرائیل کےآبادکاری منصوبہ پراظہارِمایوسی

اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی سرگرمیاں 1967 کی سرحدوں پرمبنی دوریاستی حل کی راہیں مسدودکررہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی مزید تعمیر اور توسیع کے اعلان پر گہری تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

سلامتی کونسل نے سوموار کوصدارتی بیان میں اس بات کا اعادہ کیاہے کہ اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی مسلسل سرگرمیاں 1967 کی سرحدوں پرمبنی دو ریاستی حل کی راہیں مسدود کررہی ہیں اورتنازع کے ممکنہ حل کوخطرے میں ڈال رہی ہیں۔

بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل امن کی راہ میں حائل تمام یک طرفہ اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتی ہے جن میں اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیرو توسیع، فلسطینیوں کی اراضی کی ضبطی، یہودی بستیوں کی بیرونی چوکیوں کو قانونی شکل دینا، فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری اور فلسطینیوں کی نقل مکانی شامل ہیں۔اس صدارتی بیان پر سلامتی کونسل کے تمام پندرہ رکن ممالک نے اتفاق کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت نے حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی اجازت دی تھی اور اس سے ایک ہفتہ قبل پہلے سے قائم بستیوں میں نئے گھروں کی تعمیرکے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیل کی آبادکاری کی سرگرمیوں میں فلسطینیوں کے ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کرنا اورانھیں مسمار کرنا شامل تھا۔

یروشلم میں مقدس مقامات

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت کونظری اور عملی طورپربرقراررکھنے پر بھی زور دیا ہے اور اس سلسلے میں اردن کے خصوصی کردارکی اہمیت پرزور دیا ہے۔

گذشتہ ماہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیرایتماربن غفیر نےمسجداقصیٰ کا متنازع دورہ کیا تھا جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔اس کے احاطے میں ہیکل سلیمانی واقع ہے اوریہ یہودیوں کے لیے بھی سب سے مقدس مقام ہے۔

اس دورے نے فلسطینیوں کومشتعل کردیا تھااور عرب رہ نماؤں نے اسرائیلی وزیر کے اس فعل کی مذمت کی تھی اور نیتن یاہو کی حکومت سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ مسجد اقصیٰ کی حیثیت کا احترام کرے اوریروشلم میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے محافظ کے طور پر اردن کے کردار کا احترام کرے۔

مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کے مطابق غیرمسلم مخصوص اوقات میں اس مقدس مقام کی زیارت کرسکتے ہیں۔ تاہم وہ وہاں عبادت نہیں کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں