بشریٰ اعجاز

بشریٰ اعجاز

کالم نگار روزنامہ نئی بات

یہی دن تھے، یہی دن ہیں!

یہی دن تھے جب بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں دہشت گردی کا نشانہ بنا کر قوم کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ اس ملک کا کوئی ادارہ، کوئی شخصیت اور کوئی فرد چاہے بھی تو دہشت گردوں سے نہیں بچ سکتا۔ ان کی پہنچ......

اے سبز پوشاکوں والو۔۔۔!!

یہ سچ ہے، اپنے بچے کا جنازہ اٹھانے کے لئے لوہے کا کاندھا چاہئے! اور یہ بھی سچ ہے کہ یہ دکھ اک ایسی وزنی چٹان کی مانند ہے جس کے تلے آ کر انسان ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ اس دکھ سے......

پی پی اور اس کے اصل وار ثان

بھٹو صاحب نے یکم دسمبر 1967ء میں جب پی پی جیسی عظیم الشان نظریاتی سیاسی جماعت کا آغاز کیا ہو گا تو کب سوچا ہو گا، صرف چار دہائیوں کے بعد ہی اس نظریاتی جماعت کا حشر نشر خود ان کے اپنے داماد کے ہاتھوں......

پلان سی کا پہلا مرحلہ!

عمران خان کے پلان سی کا مذاق اڑانے والوں نے جس طرح اس کافیصل آباد میں استقبال کیا اور پُرامن احتجاج کو تشدد کی راہ دکھائی، اس کے بعد یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ اگر مزید اس معاملے میں چشم پوشی اختیار......

اندھے بہروں کا ملک!

نابیناؤں کا عالمی دن آیا اور تخت لہور کی ایک مصروف سڑک پر ٹھہر گیا۔ یہ سڑک آنکھ والوں کی تھی۔ جس پر اس ملک کے مہاپرش یعنی صدرِ پاکستان کی سواری بادِ بہاری کا روٹ لگ چکا تھا۔ چنانچہ......

آنکھ جن کی ہوئی محکومی وتقلید سے کور

پچھلے دنوں دنیا بھر میں عالمی یومِ برداشت، یعنی Tolerance ڈے منایا گیا۔ اپنے ہاں بھی اس کی خوب چرچا ہوئی۔ امریکہ بہادر جو ایسے ’’اچھے اچھے‘‘ دنوں کی تخلیق اور درآمد میں اپنا......

عمران خان اک افسانہ کہ حقیقت؟؟

عوام الناس کی پرانے سیاسی چہروں اورنظام سے بیزاری آہستہ آہستہ نفرت میں بدلتی جا رہی ہے، گو نواز گو کا نعرہ بچے بچے کی زبان پر ہے اور گو نظام گو کی بلند آوازیں اسٹیٹس کو اور اس کے نمائندوں کے لئے......

ریاست کا چوتھا ستون؟؟

یہ تو ہونا ہی تھا! کارپوریٹ کلچر جس بلائے عظیم کا نام ہے، وہ سب سے پہلے معاشروں کی تہذیبیں، اقدار اور شناختیں ہی تو ہڑپ کرتی ہے اور اس کے بعد انسانوں کو پراڈکٹ بنا کر بازار میں رکھ دیتی ہے جو خود اپنے......