یہی دن تھے، یہی دن ہیں!

بشریٰ اعجاز
بشریٰ اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

یہی دن تھے جب بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں دہشت گردی کا نشانہ بنا کر قوم کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ اس ملک کا کوئی ادارہ، کوئی شخصیت اور کوئی فرد چاہے بھی تو دہشت گردوں سے نہیں بچ سکتا۔ ان کی پہنچ اتنی دور تک ہے جس کا تصور بھی عام پاکستانی نہیں کر سکتا اور وہ جب چاہیں ، جہاں چاہیں، تباہی پھیلا سکتے ہیں مگر اس پیغام کو، اس کی وضاحت اور اس میں چھپے عزائم کو کسی نے پڑھنے کی کوشش نہ کی، نہ ملک کو دہشت گردوں کے پنجے سے چھڑانے کی کوشش کی، نہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کی، نتیجہ یہ نکلا پی پی پی نے شہید پی پی کے نام پر الیکشن جیت کر پانچ سال حکومت کے مزے تو اڑائے مگر وہ کھڑے، وہ کھوج جو شہید محترمہ کے قاتلوں تک جاتے تھے، انہیں مٹانے اور مٹائے رکھنے پر اصرار کیا جس کے بعد دہشت گردی کا جن اتنا قابو سے باہر ہوا کہ فوجی آپریشن کے باوجود اس نے پشاور میں بربریت پھیلا کر یہ ثابت کر دیا کہ اس بلا کو اگر جڑ سے اکھاڑنا ہے تو نہ صرف قوم کو بلکہ سیاست دانوں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا پڑے گا اور اس بلا کو جڑ مارنے کے لیے پوری سنجیدگی، دیانت اور ذمہ داری سے اپنا اپنا فرض ادا کرنا پڑے گا۔ ہماری حکومت اور اس کے لاڈلے اتحادی اور پیارے تو شاید اب بھی اس ضمن میں گو مگو کی حالت ہی اختیار کرنا چاہتے اور عوام کے ساتھ ساتھ طالبان کو بھی ہمدرد بنے رہنے کی اپنی سیاسی مجبوری قرار دیتے مگر جنرل راحیل شریف نے اس دفعہ انہیں یہ منافقانہ کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی، اے پی سی میں جنرل راحیل شریف کی موجودگی، ان کی باڈی لینگوئج اور اک واضح فیصلے پر قائم دکھائی دینے والی ان کی پر تیقن شخصیت نے اے پی سی میں شامل تساہل پسندوں، دوہرے اور دوغلے کرداروں والے سیاست دانوں کو جو پیغام دیا، حالیہ قومی الیکشن پلان اس کا نتیجہ ہے۔ اس کا سہرا جتنا بھی چاہے نواز شریف اپنے سر باندھ لیں اس ملک کا بچہ بچہ، اس پالیسی کے ظاہر اور خفیہ محرک سے واقف ہے، جس کے بعد، قوم نے اک ذرا اطمینان کا سانس لیا ہے اور فوجی قیادت کے اخلاص اور متحرک کردار کو اپنے اور ملک کے لیے پسندیدہ اور ضروری قرار دیا ہے جس کے بعد، سپیڈی ٹرائل کورٹس کے قیام اور ان کے لیے قانون سازی کا اعلان، اس بیس نکاتی ایکشن پلان کا ایسا حصہ ہے، جس پر خاص ایجنڈا اور مقاصد رکھنے والے تجزیۂ کاروں کو بے شک اعتراض رہے، مگر عوام کو اس اقدام پر سکون اور تحفظ کا احساس ہوا ہے۔

سانحۂ پشاور جس نے دنیا بھر کے انسانیت پسند لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اس کے اثرات تو جاتے جاتے ہی جائیں گے، مگر اس پر افواج پاکستان کا ردعمل اور اس ردعمل کے نتیجے میں سیاستدانوں کو ہانک کر، ان سے قومی ایکشن پلان نکلوانا، ان کا ایک ایسا کارنامہ ہے جو ملک کے استحکام اور بقا کی ضمانت تو ہے ہی مگر اس کے بعد ہماری فوج کا امیج، اس کا تاثر، عوام الناس میں جس قدر بڑھا ہے، وہ اپنی جگہ پر ایک خوش آئند امر ہے کہ یہ تاثر، پرویز مشرف کے زمانے میں جس قدر محنت سے بگاڑا گیا اور بعد میں افتخار چوہدری نے سوموٹو ایکشن کے ذریعے فوجیوں کو اعلیٰ عدالتوں میں گھسیٹ کر جو بدنام کیا اس نے فوج اور آئی ایس آئی کے کردار کو مشکوک بھی بنایا اور اس کی نیک نامی کو بھی خراب کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھائی۔ اب جبکہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی نا اہلی، خو د غرضی، مفاد پرستی اور غلامانہ خو اس ملک کو لاوارث اور یتیم بنا چکی تھی، ایسے میں فوج نے جو آبرو مندانہ اقدامات اٹھائے ہیں، وہ یقیناً آگے چل کر پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دیں گے اور رہی دہشت گردی تو اس کے خاتمے کے لیے مذہبی انتہا پسندی، فتوے بازی اور اسلامی قوانین کی آڑ میں اپنی مرضی کے قوانین جاری کرنے والوں کی بیخ کنی بھی ضروری ہے جس کی قومی ایکشن پلان میں پوری وضاحت موجود ہے۔ یہ ایکشن پلان جسے بارہ گھنٹوں کی طویل اے پی سی میں مکمل کیا گیا، اس پر عمل درآمد گرچہ آسان نہیں، مگر اتنا مشکل بھی نہیں، اگر ارادہ کر لیا جائے تو میاں نواز شریف کی ڈانوا ڈول حکومت، جسے عمران خان کے دھرنوں اور جلسوں نے سمندر میں کاغذ کی کشتی کی مثال بنا دیا ہے، اگر اس موقع پر اس پالیسی کے نفاذ کے ضمن میں دیانت دارانہ رویہ اختیار کرتی ہے اور اس کے جھوٹے، اور باتونی وزیر، اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں تو پھر شاید ان کی ’’توبہ‘‘ قبول ہو جائے وگرنہ اس وقت گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی ، لاقانونیت اور سانحۂ پشاور کی وجہ سے آگ بگولہ عوام ان کو کبھی معاف نہ کریں گے، یہ وقت جو انہیں خود احتسابی اور تلافئ مافات کامل گیا ہے، اسے ضائع نہ کر دیا گیا تو آئندہ نواز لیگ کہیں نہ کہیں زندہ ضرور رہے گی، وگرنہ اس کا حال بھی پی پی پی جیسا ہی ہو گا، جو اس وقت گڑھی خدا بخش میں شہید محترمہ کی ساتویں برسی کچھ اس طرح منا رہی ہے کہ پارٹی کا جانشین، محترمہ کا وارث ہی اس میں موجود نہیں۔ آصف زرداری کی کاروباری ذہنیت نے پی پی جیسی گہری جڑوں والی جماعت کو کھود کر جس طرح زمین سے باہر نکالا ہے اور اسے صوبائی جماعت بنا کر بھٹو اور محترمہ کی روحوں کو جو خراج تحسین پیش کیا ہے، اُسے دیکھ کر نواز شریف کی کاروباری سوچ اور سرمایہ دارانہ ذہنیت کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے اور یہ نہیں بھولنا چاہیے وہ لوگ جنہیں مٹی کے مادھو، پرچیاں اور اعداد و شمار کی گنتی سمجھ کر وہ ہانکنے کے عادی تھے، عمران خان کی حالیہ تحریک انہیں بیدار کر چکی ہے، اس بیداری میں بہت بڑا ہاتھ اس ’’گڈ گورننس‘‘ کا بھی ہے جس نے ملک و قوم کا حشر نشر کر کے رکھ دیا ہے چنانچہ بہتر یہی ہو گا اپنے اپنے کرداروں کی سمتیں درست کر لی جائیں اور منافقانہ پالیسیوں سے اجتناب برتا جائے تا کہ یہ ملک دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے قبضے سے آزاد کرایا جا سکے اور سانحۂ پشاور کو ہم آخری دکھ، آخری قیامت مان کر اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کر سکیں!!سانحہ پشاور پر ایک نظم کی لائنیں:


تری آواز آتی ہے میرے بچے
کتابوں سے
ترے بستے کی نچلی جیب میں رکھے ہوئے
اس چاکلیٹ سے
جسے اک روز پہلے
بڑے اسٹور سے ہم نے خریدا تھا
تری آواز آتی ہے
میرے دل کی رگوں سے
آنسوؤں سے
ان کہی بے لکھی ساری خواہشوں سے
ترے کمرے کے سجائے ہوئے سارے کھلونوں سے
کھلونوں کی نگاہوں میں بھری گہری اداسی سے
ترے ٹیڈی کی تنہائی سے لپٹی بے نگاہی سے
تری آواز آتی ہے
ترے اسکول کے اس ڈیسک سے
جس پر رکھے سر
تم نے اک چھوٹا سا سپنا جی لیا تھا
خود اور دنیا کو سارا پی لیا تھا
بعد اس کے
نیند میں ڈھلنے لگے تھے تم
ذرا سی دیر میں مرنے لگے تھے تم
میرے بچے
یہ کیا کرنے لگے تھے تم؟؟

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size