اے سبز پوشاکوں والو۔۔۔!!
یہ سچ ہے، اپنے بچے کا جنازہ اٹھانے کے لئے لوہے کا کاندھا چاہئے! اور یہ بھی سچ ہے کہ یہ دکھ اک ایسی وزنی چٹان کی مانند ہے جس کے تلے آ کر انسان ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ اس دکھ سے پیغمبروں نے بھی پناہ مانگی ہے۔ آقائے دوعالمؐ کے اپنے فرزند حضرت عبداللہؓ کی وفات پر بہائے جانے والے آنسو گواہ ہیں کہ یہ جدائی ہر جدائی سے بڑی اور یہ دکھ ہر دکھ سے الگ ہے۔ جب پشاور میں آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کا نشانہ بن جانے والے بچوں کے جنازے اٹھائے جا رہے تھے تو میں دیکھتی تھی، انہیں اٹھانے والوں کے کندھے جھکے ہوئے تھے، یوں جیسے وہ موم کے بن گئے ہوں اور ان کے پاؤں کے نیچے زمین چُرمراتی تھی، جیسے وہ بھی بین کر رہی ہو اور اردگرد کی فضا پر مجلسِ شامِ غریباں کا گمان گزرتا تھا۔ پشاور عین بین میدانِ کربلا کی تصویر معلوم ہوتا تھا، جہاں ورسک روڈ پر واقع سکول میں جابجا لاشے بچھے ہوئے تھے اور خون کی ندیاں بہتی تھیں، سکول کی عمارت گولیوں سے اسی طرح چھلنی تھی جس طرح ان والدین کے دل ، جو اپنے جگر گوشوں کے غم سے چھلنی تھے۔!
یہ ملک جسے نو گیارہ کے بعد دہشت گردی کا عادی بنا دیا گیا اور جس کے باسیوں کو جنازے اٹھانے، قبریں کھودنے اور اپنے مہنگے غموں کو سستے داموں نیلام کرنے کے کام پر لگا دیا گیا، حالیہ سانحے نے اس ملک اور اس کے باسیوں کی روحوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جس کا اندازہ ہر طبقۂِ فکر کے لوگوں کا سراپا غم بن جانا ہے، کیا کاروباری، کیا ملازم پیشہ، کیا بچے، کیا بوڑھے، سب اس غم میں برابر کے شریک ہیں اور رہی اس ملک کی مائیں، تو ان کی حالت دیکھنے کے قابل ہے، پشاور میں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جانے والے بچوں کا دکھ ان کی جان سے چمٹ گیا ہے، وہ جہاں ہیں وہیں غم کی تصویر بن کر رہ گئی ہیں۔ میں نے پہلی دفعہ ٹی وی پر اینکر پرسنز کو بلک بلک کر روتے دیکھا اور پہلی دفعہ پشاور سے کراچی تک تمام پاکستانیوں کو دکھ اور احتجاج کی لڑی میں پروئے ہوئے دیکھا۔ ہر شہر میں شٹر ڈاؤن اور ہر چوک میں جھلملاتی شمعوں کی اوٹ میں آنسوؤں کی جھلملاہٹ دیکھ کر یقین ہو گیا یہ غم صرف پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کے لواحقین کا نہیں ہر شخص کا ذاتی ہے، جس کا اظہار وہ کھل کر رہا ہے۔
یہ میرا ملک، جسے گزشتہ گیارہ بارہ برسوں میں دہشت گردی نے سر سے لے کر پاؤں تک چھید ڈالا، اس کے معروضی حالات گواہ ہیں ہم نے دہشت گردی کے خلاف جس جنگ میں اپنا مستقبل جھونکے رکھا وہ ہم پر ہمارے ’’مہربان و مربی‘‘ امریکہ نے مسلط کی، بعد میں بھارت، اسرائیل اور ایران بھی اسے بھڑکانے کو آن پہنچے! طالبان، جنہیں ہمارے غیرذمہ دار حکمرانوں اور تجارت پیشہ سوکالڈ لیڈروں نے اپنے رویوں سے عفریت بننے کے مواقع فراہم کئے، آپریشن ضربِ عضب اگر آرمی اپنے زور پر شروع نہ کرتی تو اس وقت یہ عفریت ہر جگہ ایسی کربلائیں لکھ رہا ہوتا جو پشاور میں آئی اور قوم کے دل پہ ٹھہر گئی۔ جس کے بعد تین دن کے قومی سوگ میں پوری قوم نے ذاتی طور پر شامل ہو کر عفریتوں کو یہ پیغام دے دیا کہ جس خوف کو وہ عام کرنا چاہتے ہیں اور جس ملک کو وہ فرد فرد کر کے اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں، اس حادثے نے اسے نہ صرف بے خوف بلکہ مجتمع بھی کر دیا اور اس امر پر آماد بھی کہ جس دہشت گردی کی بھینٹ وہ اس قوم کا مستقبل چڑھانا چاہتے ہیں یہ قوم اس کے خلاف متحدہ ہو چکی ہے۔!
سیاستدانوں، خصوصاً تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کا دھرنا ختم کرنا اور نواز شریف سے مل کر اس قومی مسئلے کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات کا عہد، اس ضمن میں قابل ذکر ہے جس کے بعد نہ صرف سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو گیا ہے بلکہ ان سنجیدہ اقدامات کا آغاز بھی، جن میں آرمی چیف کا اپنے مجرم مانگنے کیلئے مختصر دورۂ افغانستان اور 2009ء سے سزائے موت کو کالعدم قرار دیئے جانے والے فیصلے کی تبدیلی ہے، جس کے بعد جیلوں میں بند خطرناک دہشت گرد جنہیں سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا تھا، اس پر عملدرآمد کی شروعات ہو چکی ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے جاری کردہ فیصلوں پر ماضی میں عمل نہ ہو سکنا بھی دہشت گردوں کے حوصلے بڑھانے کے اسباب میں شامل تھا، یہی وجہ ہے وہ بار بار گرفتار ہوتے رہے اور رہا ہوتے رہے، بنوں جیل پر حملہ اور کراچی سنٹرل جیل سے دہشت گردوں کو چھڑانے کیلئے کھودی جانے والی سرنگ دہشت گردوں کے کھلے عزائم کا اظہار تھا، جس کے بعد بھی نہ تو اربابِ اختیار کو ہوش آیا نہ دیگر انصاف و قانون کے اداروں کو، یہی وجہ ہے دہشت گرد اس ملک میں کھل کر کھیلتے رہے، آپریشن ضربِ عضب کے بعد وہ پسپا بھی ہوئے اور کمزور بھی۔
بہت سے افغانستان منتقل ہو گئے اور ان کی ایک بڑی تعداد شہروں میں روپوش ہو گئی۔ حالیہ دہشت گردی جو قومی سانحہ اور ناقابل فراموش نقصان کے طور پر اس ملک نے برداشت کی ہے اس کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم اپنی اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں کو تلاش کریں، اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور اپنے گردوپیش کے بارے میں باخبر رہیں۔ آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کی کھلی بربریت اور ہمارے بچوں کے بہیمانہ قتل کے بعد ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہئے کہ دہشت گرد ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہمیں ان سے اپنے بچوں کو ہر قیمت پر محفوظ رکھنا ہے۔ سکول پر حملہ، بچوں کو چن چن کر مارنا اور اللہ اکبر کے نعرے لگا کر اسلام اور مسلمانوں کے متعلق جنون پسندی اور شدت پسندی کا تاثر عام کرنا اسلام دشمنوں کی سازش ہے، جس کے ذریعے وہ ہمیں بدنام بھی کر رہے ہیں اور ہماری جڑیں بھی کاٹ رہے ہیں۔ ہماری کمزوریاں انہیں مواقع فراہم کرتی رہی ہیں۔
دہشت گردی کی یہ بدنامِ زمانہ جنگ پچاس ہزار قیمتی جانوں کا نذرانہ لے چکی، اس ملک کی املاک اور انفراسٹرکچر تباہ کر کے، اس کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان دے چکی اور پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین ملک کے ’’اعزاز‘‘ سے نواز چکی، حالیہ سانحہ بھی اگر ہماری آنکھیں نہیں کھولتا تو پھر سمجھئے یہ دہشت گردی ہماری تقدیر ہو چکی، چنانچہ اب بھی ہم نے ہوش نہ پکڑا تو خدانخواستہ کل کو اس سے بھی برے دن دیکھنے کو ملیں گے۔ ہمارے حکمران جن کی ترجیحات میں جنگلہ بسیں، اپنی اور اپنے پیاروں کی فول پروف سکیورٹی اور بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھانا شامل ہے، اگر 2013ء میں بنائی گئی نیشنل انٹرنل سکیورٹی پالیسی کو اپنی اول ترجیح میں رکھ لیتے اور اربوں کے فنڈز جنگلہ بسوں اور نندی پور پاور پلانٹ جیسے جعلی منصوبے پر خرچ کرنے کے بجائے نیکٹا کو فعال کرنے پر خرچ کر دیتے تو شاید ہمیں اپنے بچوں کے جنازے نہ اٹھانے پڑتے، وہ موم موم کندھوں والے لوگ جن کی آنکھوں سے آنسوؤں کے بجائے لہو بہتا تھا اور جن کے پاؤں کے نیچے چُرمراتی زمین بین کرتی تھی اور اس روزِ سیاہ پر کربلا کا گمان گزرتا تھا، ہمیں دیکھنا نہ پڑتا۔
وہ روشن آنکھوں اور چمکتی پیشانیوں والے لعل، جنہیں زمین میں چھپا دیا گیا، ہماری آنکھوں کے سامنے رہتے اور شاعر کو چلا چلا کر کبھی یہ نہ کہنا پڑتا۔۔۔ ’’ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے‘‘۔ پاکستانی مائیں گرچہ بہت دلیر ہیں مگر اک ماں ہونے کی حیثیت سے میں بخوبی جانتی ہوں، ماں اپنے بچے کے معاملے میں کبھی اتنی دلیر نہیں ہو سکتی کہ وہ اس کا جنازہ دیکھے، اُسے مٹی میں دفن ہوتا دیکھے اور اپنی دلیری برقرار رکھ سکے۔ خدارا، ماؤں کی دلیری آزمانے کے بجائے ان کے بچے عفریتوں سے بچاؤ، ہم پر اپنی کرسیاں، منصب، غلط پالیسیاں اور فیصلے مسلط کرنے کے بجائے، اے حکمرانو، سیاست دانو اور قانون و انصاف کے ادارو، ہمارے بچے بچاؤ، کہ یہی ہمارا اور ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔ اے سبز پوشاکوں میں ملبوس ہمارے جگرگوشو، ہم تم سے شرمندہ ہیں، ہم تمہیں عفریتوں سے نہ بچا سکے، ہم تمہارے خواب محفوظ نہ رکھ سکے۔ ہم تمہیں اپنی دعاؤں کے حصار میں مامون نہ رکھ سکے۔ اے سبز پوشاکوں والو۔۔۔ اے ہمارے چاند تارو، ہم تم سے شرمندہ ہیں!!
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘