پی پی اور اس کے اصل وار ثان
بھٹو صاحب نے یکم دسمبر 1967ء میں جب پی پی جیسی عظیم الشان نظریاتی سیاسی جماعت کا آغاز کیا ہو گا تو کب سوچا ہو گا، صرف چار دہائیوں کے بعد ہی اس نظریاتی جماعت کا حشر نشر خود ان کے اپنے داماد کے ہاتھوں کچھ یوں ہو جائے گا کہ 14ء کے یومِ تاسیس سے پہلے ہی وہ سکڑ سمٹ کر سندھ تک محدود ہو جائے گی اور بعدازاں سندھ میں بھی کمزور جماعت کے طور پر پہچانی جائے گی۔ جب بھٹو صاحب کے پسندیدہ شہر لاہور، جس کی نبضوں میں کبھی بھٹو کا نام دھڑکتا تھا، پی پی اپنا یومِ تاسیس منا رہی تھی تو اس پر سیاسی اجتماع کے بجائے برتھ ڈے پارٹی کا گمان گزرتا تھا، پارٹی کے ولی عہد اس خصوصی تقریب میں کہیں دکھائی نہ دیتے تھے، اور عظیم بھٹو کی سیاست کو گڑھی خدابخش کے قبرستان میں دفن کر کے اس پر فاتحہ گزارنے والے، آصف علی زرداری کو اپنے گھر یعنی بلاول ہاؤس میں وقت کے ناپسندیدہ نعرے گو نواز گو نے گھیر رکھا تھا۔ یہ دنیا ہے قارئین! جسے خود اللہ کی کتاب، جائے عبرت قرار دیتی ہے۔ اس میں غوروفکر کے بہت سے نمونے ہیں مگر افسوس ہمیں نہ تو غور کی فرصت ہے نہ فکر کی عادت! چنانچہ جب زرداری صاحب برتھ ڈے پارٹی میں کھڑے یومِ تاسیس منا رہے تھے، اور ’’مجھے گو گو کے نعرے نہیں، پاکستان بنانا ہے‘‘ کا دعویٰ فرما رہے تھے، تو مجھے عظیم بھٹو یاد آ رہا تھا! وہ بھٹو جس نے 22 ستمبر 1965ء کو وزیر خارجہ کی حیثیت سے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں رات 2 بجے واشگاف الفاظ میں یہ تاریخی جملہ کہا تھا ’’پاکستان ایک ہزار سال تک جنگ کرتا رہے گا‘‘۔
حالانکہ جنگ بندی کا اعلان ان کی جیب میں تھا۔ اعلانِ تاشقند کو پاکستان ڈپلومیسی کی شکست قرار دیتے ہوئے جب بھٹو وزارت خارجہ سے مستعفی ہوئے تو انہیں صدمہ اس بات کا تھا کہ ’’ہم میدان میں جیتی ہوئی جنگ تاشقند میں مذاکراتی میز پر ہار آئے‘‘۔ اس نظریاتی اختلاف نے زیڈ اے بھٹو کو لیڈر بنا دیا، جو وزارتِ خارجہ سے مستعفی ہو کر ایوب خان کے خلاف اس ملک گیر احتجاج میں شریک ہو گیا جو طلبہ اور سیاسی جماعتیں اعلانِ تاشقند کے بعد شروع کر چکی تھیں۔ پی پی کا قیام اسی دوران عمل میں آیا۔ جس کا بنیادی مقصد پاکستان کو ایک سوشلسٹ ملک میں تبدیل کرنا تھا۔ پارٹی کی تشکیل کے بعد بھٹو نے ایوب خان کی آمریت کے خلاف نعرہ زنی شروع کر دی اور قوم کو اپنی نوزائیدہ پارٹی کا دلکش منشور پیش کیا جو بعد کے ادوار میں پارٹی کا سب سے مقبول نعرہ بن گیا۔ روٹی، کپڑا اور مکان۔ یہ وہ منشور اور مقبول عام نعرہ تھا جس کا جادو ہرکس و ناکس کے سر چڑھ کر بولنے لگا۔
نوکر شاہی اور سرمایہ دارانہ نظام سے عوام کو نجات دلانے کا وعدہ بھی کم پرکشش نہ تھا۔ اس پر جادوگر بھٹو کی زرعی اصلاحات، قانونی، صنعتی اور انتظامی اصلاحات، 73ء کے آئین کی تشکیل، ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کا آغاز ایسے کارنامے تھے جنہوں نے بھٹو کو قوم کا ہردلعزیز لیڈر بنا دیا۔ سیاست میں عوامی انداز متعارف کروانے اور عوامی لہجے میں جذباتی تقریریں کرنے والا یہ لیڈر جب مائیک کے سامنے آتا تھا تو عوام کی نبضیں باندھ لیتا تھا، اس کی باتیں عوام الناس پر فیضؔ صاحب کی شاعری کے مزاحمتی مصرعوں کی طرح اترتی تھیں اور سندھ سے لے کر خیبر تک، لوگ اس سے مسحور ہوتے چلے جاتے تھے، طبقاتی تفریق کا خاتمہ اور انقلابی معاشی تبدیلیوں کا نعرہ عوام کے دلوں میں تیر ہوتا تھا اور بھٹو پسے ہوئے محروم طبقات کے دلوں کی دیواروں پر نمایاں انداز میں آویزاں ہونے لگتا تھا، مگر بھٹو کا سوشلزم کی بنیاد پر ملکی معیشت کو استوار کرنے کا نعرہ اور عوامی تفریق کے خلاف اسی بنیاد پر آواز، بھٹو کے زوال کی ایک بڑی وجہ بن گئی۔ اس لئے کہ سوشلزم کو ملک کے مذہبی حلقے قبول کرنے کو تیار نہ تھے، لہٰذا انہوں نے متحد ہو کر اس کے خلاف مہم چلا دی اور اسے غیراسلامی اور غیرمنصفانہ قرار دے دیا جس کے بعد بھٹو نے سوشلزم پر اسلام کا غلاف چڑھا کر اسے اسلامی سوشلزم کا نام دے دیا، مذہبی جماعتوں نے جب اس کی بھی مخالفت کی تو کرشماتی لیڈر نے اسے مساواتِ محمدیؐ کا نعرہ بنا دیا، مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی!
گرچہ زیڈ اے بھٹو کے زوال کے اسباب میں معاشی بحران، سرمایہ کاری کی قلت، علماء دین سے بدسلوکی، عدلیہ سے زیادتیاں، سیاسی مخالفین سے بدسلوکی اور انتخابی دھاندلیاں بھی شامل ہیں، مگر کلیدی کردار، سوشلزم کے نظام کا ہی ہے۔ بھٹو جسے سنوار بنا کر ملک میں نافذ کرنا چاہتے تھے۔۔۔ اس کے بعد کے تکلیف دہ واقعات میں بھٹو کی قید اور پھانسی ملکی تاریخ میں اک نہ بھولنے والے المیے کی طرح درج ہیں جس میں ساگر سندھ کے بھٹو کی راولپنڈی میں ’’بارات‘‘ اٹھنے سے گڑھی خدابخش تک کے سفر میں کئی کہی ان کہی داستانیں پوشیدہ ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کی قربانیوں اور عظیم بھٹو کے سوگوار خاندان پر گزرنے والی قیامتوں سے یہاں کون واقف نہیں، جس کے بعد پارٹی کو بچانے اور اسے دو مرتبہ کرسیِ اقتدار تک پہنچانے کے لئے بیگم نصرت اور بے نظیر بھٹو کی جدوجہد بھی اپنی جگہ بے مثل ہے، مگر اس دوران بدقسمتی سے نظریاتی پارٹی کے لئے بے لوث خدمات انجام دینے والے لوگ آہستہ آہستہ خزاں کے زرد پتوں کی طرح اُس درخت سے جھڑنے لگے، جو بھٹو نے لگایا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی دانش اور خدمات نے پی پی کو ناقابل فراموش لوگوں کی ایسی جماعت کے طور پر ابھارنے کے لئے دن رات محنت کی، جو نوکرشاہی اور سرمایہ دارانہ نظام کے لئے تلوار کی کاٹ ثابت ہوئی، مگر ان پرانے وابستگان کو جب کاٹ کر پی پی سے جدا کیا گیا تو پھر پی پی پر ’’جوائی راج‘‘ شروع ہو گیا، جس نے پی پی کی اصل شکل بگاڑنے کا کام تیزی سے شروع کر دیا۔
بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی اور واپسی کے سفر میں زرداری صاحب نہ صرف محترمہ کی زندگی بلکہ پارٹی میں بھی کہیں دور دور دکھائی نہ پڑتے تھے، مگر افسوس جب لیاقت باغ کا المیہ ہوا اور محترمہ اپنے عظیم والد کے پہلو میں جا سوئیں تو پھر پارٹی زرداری کی قیادت میں تیزی سے اس پستی کی جانب گامزن ہوئی جس کی ایک جھلک ہمیں پی پی کے 47 ویں یومِ تاسیس پر دکھائی دیتی ہے، جو لاہور میں بلاول ہاؤس کے کسی ڈرائنگ روم یا لاؤنج میں منایا گیا،اور جس میں زرداری سے زبردستی بھٹو بنائے جانے والے پارٹی کے ولی عہد غیر حاضر تھے۔! اس غیرحاضری کی وجوہات باپ بیٹے کے مابین اختلافات بتائے جا رہے ہیں اور ان اختلافات کا محرک مظفر اویس ٹپی اور فریال تالپور جیسے ’’مخلصانِ پی پی‘‘ جنہوں نے زرداری کے ساتھ مل کر اس تناور درخت کی جڑیں اکھاڑنے میں پوری طاقت صرف کر دی جسے 47 سال قبل بھٹو اور اس کے دانشور ساتھیوں نے نہایت درد مندی سے لگایا تھا اور اپنے خون سے اس کی آبیاری کی تھی۔ آصف زرداری کا صدرِ پاکستان بننا اگر ایک حادثہ تھا تو پھر پی پی کے تناور درخت کی جڑوں کا اکھاڑا جانا اس سے بھی بڑا حادثہ ہے، جس سے یہ مرحوم ہو چکی جماعت جانبر ہو، یہ ممکن نہیں لگتا کیونکہ ولی عہد کے طور پر نامزد کئے جانے والے بلاول بھٹو سے اگر بے نظیر بھٹو اور عظیم بھٹو کا ورثہ الگ کر دیا جائے تو اس کے عناصر میں کہیں ایک رمق بھی ایسی دکھائی نہیں دیتی جو بھٹو خاندان کی شناخت اک غیر دنیا کا ناپختہ، نوآموز اور کم صلاحیت رکھنے والا باشندہ جسے اک حادثے نے ولی عہد کے مقام پر پہنچا دیا، مٹی کی زبان جانتا ہے نہ سندھ کے ہاری کے لبوں سے نکلے فراق کے گیتوں کا درد، اسے کیا معلوم، سیاہ جھلسی ہوئی جلد اور ننگے پاؤں والے یہ میلے لوگ جو آج بھی بھٹو سائیں کی تصویر سینے سے لگائے پھرتے ہیں، ان کے دکھوں کی بولی کیا ہے؟ زرداری صاحب کی سیاست اور ہوشیاری جس پر چالاک لومڑی بھی دم بخود رہ جائے، اپنی جگہ مسلم، مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے زبردستی کسی کے نام کے ساتھ بھٹو کا لاحقہ لگانا تو آسان ہے، اسے بھٹو ثانی بنانا بہت مشکل۔! یہی تاریخ کا فیصلہ ہے۔۔۔ اور یہی وقت کا جسے مان کر پارٹی کو اس کے اصل وارثان کو لوٹا دیا جائے تو زیادہ بہتر، جن میں فاطمہ بھٹو جیسی صلاحیت مند موجود ہے، جس میں کہیں نہ کہیں بھٹو اور محترمہ کی جھلک دکھائی دے جاتی ہے!!
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘