جعل سازی سے ''سعودیانے''پر آجر کو پانچ سال قید ہوگی
جعلی ملازم رکھنے والوں کو ایک کروڑ ریال تک جرمانہ بھگتنا ہوگا
سعودی عرب کی وزارت محنت نے ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت جعل سازی سے ''سعودیانے'' والے آجروں کو پانچ سال قید اور ایک کروڑ ریال تک جرمانے کی سزا سنائی جاسکے گی۔
عربی اخبارات میں شائع ہونے والے اس مجوزہ قانون کے مسودے کے مطابق خلاف ورزی کے مرتکب کاروباری اداروں پر ملازم بھرتی کرنے پر پابندی عاید کردی جائے گی،وہ سرکاری قرضہ حاصل نہیں کرسکیں گے،سرکاری بولیوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور اسپانسر شپ کو بھی منتقل نہیں کر سکیں گے۔
عام شہریوں کی سعودیانے کے جعلی کیسوں کی وزارت محنت کو ٹیلی فون یا اس کی ویب سائٹ کے ذریعے اطلاع دینے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔اس کے بعد وزارت کے انسپکٹر اس اطلاع کی تصدیق کے لیے متعلقہ کاروباری اداروں یا کمپنیوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کریں گے۔
وزارت نے وضاحت کی ہے کہ جعلی روزگار سے مراد ایک کاروباری ادارے کا سعودی شہری کو سوشل سکیورٹی ادارے کے ہاں اندراج کرانا ہے حالانکہ اس کو ملازم نہیں رکھا گیا ہے تا کہ اس کا سعودیانے کا کوٹا حاصل کر سکے۔
بے روزگار سعودی شہری سوشل سکیورٹی کی ویب سائٹ پر لاگ ان ہوکر اور اپنے قومی شناختی کارڈ کا نمبر لکھ کر کے اس بات کا پتا چلا سکتے ہیں کہ آیا ان کے نام کا کسی ادارے کے ہاں ملازم کے طور پر اندراج تو نہیں ہوا۔اگر ان کا نام وہاں موجود ہے تو انھیں فوری طور پر اس امر کی وزارت محنت کو اطلاع کرنی چاہیے۔
وزارت نے جعلی سعودیانے کی مختلف قسمیں بیان کی ہیں۔ان میں خصوصی ضرورت والے افراد بھی شامل ہیں جو کوئی بھی کام کرنے کی صلاحیت تو نہیں رکھتے لیکن انھیں ملازم رکھ لیا گیا یا کسی ادارے کا ملازم ظاہر کیا جارہا ہے۔جعلی روزگار میں خواتین کو ایسی ملازمت کے لیے بھرتی کرنا بھی شامل ہے جو ان کے لیے مناسب نہیں ہیں۔اس کے علاوہ ملازمت چھوڑ جانے والے سعودی ورکروں کے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ نہ کرنا بھی اسی میں شامل ہے۔
کسی سرکاری محکمے یا فوج کے ملازم کو اپنے ادارے کا ملازم ظاہر کرکے سوشل سکیورٹی کے ہاں اندراج کرنا بھی جعلی روزگار میں شامل ہے۔اسی طرح ایک سعودی کو ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں اس مقصد کے لیے منتقل کرنا کہ اس سے سعودیانے کا کوٹا بڑھایا جا سکے تو یہ بھی جعلی ملازمت کے زمرے میں آئے گا۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت نے 2011ء میں سعودی شہریوں کو ملازمتیں دینے کا کوٹا پورا نہ کرنے والے آجر اداروں کے لیے سخت سزاؤں اور قدغنوں کا نفاذ کیا تھا۔2012ء میں سعودیوں کی جگہ غیرملکیوں کو ملازم رکھنے والی کمپنی پر چوبیس سو ریال جرمانے کی سزا متعارف کرائی گئی تھی۔
سعودی حکومت نے گذشتہ ہفتے ملازمتوں سے محروم ہوجانے والے شہریوں کے لیے بے روزگاری انشورنس متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اس پالیسی کا مقصد سعودی نوجوانوں کی نجی شعبے میں ملازمتوں کے حصول کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
-
ایران جنیوا ٹو میں شرکت کا حق نہیں رکھتا: سعودی عرب
شامی اپوزیشن، اور امریکا بھی ایران کی شرکت کیخلاف ہے
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں غیر ملکی شہریوں کے قیام کی مدت دو سال کرنے پر غور
کفیل کی اجازت کے بغیرغیرملکی اپنی ملازمت تبدیل کر سکے گا
بين الاقوامى -
طائف کو سعودی عرب کا سیاحتی مرکز بنانے کی تیاریاں تیز
صرف ایک سال کے دورران 16 ارب ریال ترقیاتی منصوبوں پر خرچ
بين الاقوامى