.

داعش کے چھے سرکردہ لیڈروں کی شناخت کا انکشاف

عراق اورشام میں برسرپیکار القاعدہ تنظیم کے دو کمانڈر جہان فانی سے کوچ کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کو عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں اپنی عمل داری قائم کرنے والے اور شام میں برسرپیکار القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے چھے سرکردہ فیلڈ کمانڈروں کی شناخت کا انکشاف ہوا ہے۔

عراق کے نائب وزیرداخلہ عدنان الاسدی نے العربیہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان کی شناخت کے بارے میں بعض تفصیل بتائی ہے۔ان کا یہ انٹرویو جمعہ کو نشر کیا جارہا ہے۔ان میں سے تین عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کی فوج میں افسر رہے تھے اور دوسرے تین عراق میں قید رہے اور اپنی رہائی کے بعد شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف جنگ میں شریک ہوگئے تھے۔ان کمانڈروں کے نام اور ان کا مختصر تعارف یہ ہے:

1۔ابوبکر البغدادی

ابوبکر البغدادی کا حقیقی نام ابراہیم البدری ہے۔وہ ابو دعا کے نام سے بھی جانے جاتے رہے ہیں۔وہ بغداد اور فلوجہ میں اسلامی تعلیمات کے لیکچرار رہے تھے اور مساجد میں امامت اور خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔انھیں 4 جون 2004ء کو امریکی فوج نے گرفتار کر لیا تھا اور تین سال کے بعد رہا کیا تھا۔

ابوبکر البغدادی نے اپنی رہائی کے بعد ''سنی آرمی'' کے نام سے ملیشیا تشکیل دی تھی اور القاعدہ میں شامل ہوگئے تھے۔وہ عمرالبغدادی کی موت کے بعد عراق میں القاعدہ کے تیسرے کمانڈر بنے تھے۔

2۔ابوایمن العراقی

ابو ایمن العراقی دولت اسلامی عراق وشام کے مرکزی رہ نماؤں میں سے ایک ہیں۔وہ تنظیم کی فوجی کونسل کے رکن ہیں۔وہ صدام حسین کے دور میں ائیرڈیفنس میں کرنل رہے تھے۔تب وہ ابو مہند السویداوی کے نام سے جانے جاتے تھے۔وہ اپنی رہائی کے بعد شام چلے گئے تھے اور اس وقت شام کے شمالی صوبوں ادلب ،حلب اور اللاذقیہ کے پہاڑی علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں کی قیادت کررہے ہیں۔

3۔ابو احمد العلوانی

علوانی بھی ماضی میں صدام حسین کی فوج میں شامل رہے تھے اور اس وقت داعش کی فوجی کونسل کے رکن ہیں۔ان کا اصل نام ولید جاسم آل علوانی ہے۔

4۔ابو عبدالرحمان البلاوی

البلاوی داعش کی فوجی کونسل کے چار ارکان میں سے ایک تھے۔وہ اس کی شوریٰ کونسل کے سابق سربراہ بھی تھے۔وہ صوبہ الانبار کے قصبے خالدیہ سے تعلق رکھتے تھے۔انھیں امریکی فوج نے 27 جنوری 2005ء کو گرفتار کرکے اپنے حراستی مرکز کیمپ بکا منتقل کردیا تھا۔وہ بعد میں خالدیہ میں مارے گئے تھے۔القاعدہ کے اس لیڈر کا اصل نام عدنان اسماعیل نجم تھا۔

5۔حاجی بکر

حاجی بکر بھی صدام حسین کی فوج میں افسر رہے تھے اور وہ اسلحے کی تیاری کے پروگرام سے وابستہ تھے۔انھیں امریکی فوج نے عراق پر چڑھائی کے دوران گرفتار کر کے کیمپ بکا منتقل کردیا تھا۔وہ رہائی کے بعد القاعدہ میں شامل ہوگئے تھے اور شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑائی میں شریک ہونے کے لیے چلے گئے تھے۔انھیں شام میں داعش کا سب سے مضبوط کمانڈر سمجھا جاتا تھا۔ان کی حال ہی میں موت ہوئی تھی۔حاجی بکر کا اصل نام سمیرعبد محمد الخلیفاوی تھا۔

6۔ ابو فاطمہ الجہیشی

ابو فاطمہ الجہیشی ابتدا میں دولت اسلامی عراق وشام کی جنوبی عراق میں کارروائیوں کے ذمے دار تھے۔اس کے بعد وہ شمالی شہر کرکوک منتقل ہوگئے۔ان کا اصل نام نیما عبد نایف الجبوری ہے۔

واضح رہے کہ دولت اسلامی عراق وشام نے 22 جولائی 2013ء کو ابو غریب اور التاجی کی جیلوں پر دن دہاڑے حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں قیدی بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور ان میں القاعدہ کے بہت سے جنگجو بھی شامل تھے۔

ان حملوں کے سات آٹھ ماہ کے بعد بھی یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ مٹھی بھر مسلح افراد انتہائی سکیورٹی والی جیلوں پر دیدہ دلیری سے کیسے حملوں میں کامیاب ہوگئے تھے۔یہ بھی رپورٹس سامنے آچکی ہیں کہ انھیں عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ماتحت سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی معاونت حاصل تھی اور وہ ان کی ملی بھگت کے نتیجے میں ہی اتنی بڑی کارروائیوں میں کامیاب ہوئے تھے۔

حال ہی میں منظرعام آنے والی رپورٹس میں داعش اور شامی حکومت کے درمیان تعلق وروابط کا انکشاف ہوا ہے۔شامی قومی اتحاد کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق القاعدہ سے وابستہ تنظیم کے متعدد فیلڈ کمانڈر شامی فوج میں شامل رہے تھے اور ان میں بعض سابق انٹیلی جنس افسر بھی شامل ہیں۔

یہ کمانڈرز اسدی فوج کی باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کررہے ہیں اور انھیں باغیوں کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔داعش کے جنگجوؤں نے مبینہ طور پر شام کے باغی جنگجوؤں اور سابق فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے زیرقبضہ علاقوں پر اسدی فوج کے دوبارہ کنٹرول میں بھی معاونت کی ہے۔

شامی حزب اختلاف کے ذرائع کے مطابق حال ہی میں باغیوں کے داعش کے کیمپوں پر حملوں کے دوران القاعدہ کی اس بغل بچہ تنظیم اور اسدی حکومت کے درمیان روابط وتعاون کے مزید ثبوت سامنے آئے تھے اور صوبہ الرقہ میں داعش کے کیمپوں سے وہی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا تھا جو شامی فوج کے زیر استعمال ہے۔

داعش کے کیمپوں سے شامی سکیورٹی فورسز کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹس بھی برآمد ہوئے تھے۔ان پر ایران میں دخول اور وہاں سے خروج کی مہریں بھی لگی ہوئی تھیں۔ان رپورٹس کے منظرعام پر آنے سے قبل امریکی محکمہ خزانہ نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ بشارالاسد کے اتحادی ایران نے القاعدہ کے جنگجوؤں کو شام میں داخل ہونے کی اجازت دے رکھی ہے۔