.

سعودی عرب میں سیاحوں کے لئے صحراء میں پنج تارا ہوٹل کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جدید سہولیات سے آراستہ شہروں میں کسی پرتعیش ہوٹل کا قیام بھی اتنا آسان نہیں ہوتا لیکن سعودی عرب نے صحرائی سیاحت کے دل دادہ سیاحوں کی خاطر دور دراز ریت کے ٹیلوں کے بیچوں بیچ ایک پنج تارہ ہوٹل قائم کر کے ایک منفرد مثال قائم کی گئی ہے۔ گو کہ ابھی تک اس لگژری ہوٹل کے تمام انتظامات مکمل نہیں ہوئے ہیں تاہم انتظامیہ دن رات مصروف عمل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صحراء میں فائیو اسٹار ہوٹل کا تخیل جنوبی سعودی عرب کے العلاء گورنری نے پیش کیا اور اسی نے اسے عملی شکل میں ڈھال کر سچ کر دکھایا ہے۔

العلاء گورنری کے میئرانجینیئر محمد الحویطی کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے العلاء کے شمال مشرق میں سیاحوں کی خاطر ایک چھوٹی سی کالونی اور ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے قیام کا فیصلہ کیا۔ اس پرعمل کرنا کافی مشکل تھا۔

"شادن سیرگاہ" کے نام سے اس منفرد منصوبے میں ایک پنج ستارہ ہوٹل کے علاوہ صحرائی مزاج کے مطابق 40 رہائش گاہیں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے ابھی تک آٹھ رہائش گاہیں تیار ہوچکی ہیں، باقی پر کام تیزی سے جاری ہے۔ صحرائی ہوٹل اور سیرگاہ کی تعمیرات کے لیے ریاض ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی ہے اور ان کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔

انجینیئر الحویطی کا کہنا تھا کہ صحرائی سیرگاہ میں سیاحوں کی سہولت کے لیے قائم کردہ آٹھ کچی رہائش گاہوں میں ہرقسم کی جدید ترین سہولت مہیا کی گئی ہے۔ پہاڑوں ، ٹیلوں اور ریتلے میدان کے بیچ سڑکوں کی تیاری اور انفرا اسٹرکچڑ کا قیام بھی ایک مشکل مرحلہ تھا تاہم اسے بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔

درایں اثناء العلاء گورنری کے ڈوپیلمنٹ بورڈ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینیئر بدر الغنزی کا کہنا ہے "شادن سیرگاہ" 03 لاکھ مربع میٹر کے رقبے پر تعمیر کی جا رہی ہے۔ یہ سیرگاہ صحرا نوردی کے دل دادہ لوگوں کے مزاج کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے تاکہ ریتلے میدانوں کی سیاحت کرنے والے ملکی اور غیرملکی شہریوں کو صحراء میں بھی شہری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس نوعیت کے منصوبے زیادہ وسیع رقبے پر بنائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس نوعیت کے ایک پروجیکٹ کے لیے کم سے کم پانچ ملین مربع میٹر کا رقبہ مختص کیا جائے تاکہ اس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سرمایہ کاری کا بھی موقع ملے۔