ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اٹینشن ڈیفیسٹ ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (ADHD) یعنی نقص توجہ اور انتہائی فعالیت کے عارضے میں مبتلا خواتین کو مردوں کے مقابلے میں اکثر بہت دیر سے تشخیص کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی علامات مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں اور وہ برسوں تک مناسب علاج اور دیکھ بھال سے محروم رہ سکتی ہیں۔
یہ عارضہ دنیا بھر میں سب سے عام اعصابی و نشوونما کے امراض میں سے ایک ہے جو کروڑوں افراد کو متاثر کرتا ہے، تاہم اس کے اثرات اور علامات مردوں اور خواتین میں کافی مختلف ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ اس عارضے کی علامات لڑکوں اور لڑکیوں میں تقریباً ایک ہی عمر میں شروع ہوتی ہیں، لیکن خواتین کو اکثر علامات کی نوعیت مختلف ہونے کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر یا غلط طبی تشخیص کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دی کنورسیشن ویب سائٹ کے مطابق اوسطاً خواتین کو مردوں کے مقابلے میں تقریباً پانچ سال تاخیر سے تشخیص کیا جاتا ہے، یہ ایک ایسا خلا ہے جسے محققین انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کا مطلب علاج اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے کئی قیمتی سالوں کا ضیاع ہے۔
تحقیقات اور عوامی شعور کی توجہ زیادہ تر لڑکوں پر مرکوز رہی ہے، جس کی وجہ سے لڑکیوں اور خواتین میں اس حالت کو سمجھنے اور تشخیص کرنے میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، کیونکہ ان میں علامات غیر روایتی اور اندرونی نوعیت کی ہو سکتی ہیں۔
خواتین میں توجہ کی کمی سے متعلق علامات زیادہ ظاہر ہوتی ہیں جیسے آسانی سے ذہن کا منتشر ہونا، وقت کو منظم کرنے میں مشکل اور منفی خیالات و جذبات سے نمٹنا، جبکہ مردوں میں انتہائی فعالیت اور جذباتی پن کی علامات زیادہ واضح ہوتی ہیں۔
محققین خبردار کرتے ہیں کہ تشخیص میں یہ تاخیر نہ صرف مریضوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ وسیع اقتصادی اور سماجی بوجھ بھی ڈالتی ہے۔ اکثر اوقات خواتین میں اس عارضے کو غلطی سے اضطراب یا ڈپریشن سمجھ لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے صحت کی دیکھ بھال اور سماجی خدمات پر انحصار مزید بڑھ جاتا ہے۔