.

عرب لیگ: امیر و غریب عرب ملکوں کا منفرد امتزاج

سیاسی تنازعات عربوں کو درپیش معاشی مسائل پر حاوی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ کا قیام 69 برس قبل سنہ 1945ء میں لایا گیا۔ یہ تنظیم بحر اوقیانوس کے مشرق میں خلیجی ممالک اور مغرب میں افریقی اور مشرق وسطیٰ کے مجموعی طور پر 22 ملکوں کا نمائندہ سیاسی فورم ہے۔ عرب ممالک کی نمائندگی کا اظہار اس کے نام عرب لیگ سے ہو رہا ہے کیونکہ اس اتحاد میں شامل تمام ممالک عربی زبان بولنے والوں پر مشتمل ہیں، جن کی مجموعی آبادی 370 ملین نفور پر مشتمل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سنہ 1945ء کو مصر میں عرب ممالک کے اجلاس میں اقتصادی اور مشترکہ دفاعی تعاون کا معاہدہ طے پایا جو بعد ازاں ایک منظم تنظیم کی شکل اختیار کر گیا۔ کئی سال تک قاہرہ ہی میں عرب لیگ کا ہیڈکواٹرز قائم رہا تا آنکہ مصر نے اسرائیل کے ساتھ سنہ 1979ء امن معاہدہ کیا جو دیگر عرب ممالک کے لیے ناقابل قبول ٹھہرا۔ عرب ممالک نے غصے میں آ کر عرب لیگ کا ہیڈکواٹرز تیونس منتقل کردیا۔ گیارہ سال عرب لیگ کا ہیڈکواٹرز تیونس میں رہا۔ آج کل عرب لیگ کا صدر دفتر پھر قاہرہ ہی میں قائم ہے۔

تنظیم کی پہلی باضابطہ سربراہ کانفرنس سنہ 1964ء میں ہوئی جس میں تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کا تعین کیا گیا۔ ہر پانچ سال بعد عرب لیگ کے نئی سیکرٹری جنرل کا چناؤ عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس وقت عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل مصر کے سابق سیاست دان ڈاکٹر نبیل العربی ہیں، جو سنہ 2011ء کے بعد سے اس عہدے پر تعینات ہیں۔

عرب لیگ کی کئی امتیازی خصوصیات ہیں۔ اس میں ایک جانب تیل کے عالمی ذخائر کا 60 فی صد اور گیس کے ایک تہائی سے زائد ذخائر رکھنے والے ملک شامل ہیں اور دوسری جانب اسی تنظیم میں صومالیہ، یمن اور سوڈان جیسے ممالک بھی موجود ہیں، جن کی بیشتر آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔ ان ملکوں کی داخلی شورش نے معیشت کا بھرکس نکال دیا ہے۔ مجموعی طور پر خلیجی ممالک امیر ترین اور افریقی عرب ممالک غریب سمجھے جاتے ہیں۔

عرب لیگ کی دوسری خصوصیت تیل اور تجارت کی دو بحری گذر گاہیں ہیں۔ آبنائے ھرمز سے دنیا بھر میں تیل کی سپلائی کی جاتی ہے، جس کی اہمیت کے اعتبار سے اسے دنیا میں "ائل ٹریفک کا سنگھم" سمجھا جاتا ہے۔ دوسری نہر سویز جو یورپ، افریقہ، ایشیا اور دیگر دنیا کے ساتھ تجارت اور بری و بحری رابطے کا اہم پل سمجھی جاتی ہے۔

سنہ 1998ء میں عرب لیگ نے اپنے رُکن ملکوں کو فری ٹریڈ زون قرار دینے کی تجویز دی تھی، جس پر کچھ کام بھی ہوا مگر رکن ممالک کے باہمی سیاسی اختلافات اور مفادات عرب لیگ کے مشترکہ ایجنڈے کو عمل شکل دینے کی راہ میں حائل رہے۔ عرب لیگ صرف سیاسی مسائل میں اُلجھ کر رہ گئی اور اقتصادی تعاون ایجنڈے میں دوسرے اور تیسرے مقام پر چلا گیا۔

عرب لیگ کا حالیہ سربراہ اجلاس کویت کی میزبانی میں ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں بھی سیاسی مسائل معاشی مسائل پر حاوی دکھائی دیتے ہیں۔