.

حماس ہولو کاسٹ کی منکر جبکہ محمود عباس معترف ہے: یاہو

مخلوط فلسطینی حکومت سے مذاکرات نہیں ہو سکتے: اسرائیلی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس پر زور دیا ہے کہ وہ اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ساتھ مفاہمتی سمجھوتے کا فیصلہ واپس لیں کیونکہ حماس اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے ساتھ جرمن نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام کی بھی منکر ہے جبکہ صدر محمود عباس المعروف ابو مازن "ہولو کاسٹ" کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی مذمت کر چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو دونوں عالمی سطح پر متضاد بیانات کے حوالے سے اپنی ایک خاص شہرت رکھتے ہیں۔ وہ ایک موقع پر کچھ اور دوسرے پر اس سے مختلف بیان دیتے رہے ہیں۔

کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بنجمن نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ حماس اور ابو مازن کے خیالات و نظریات ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔ مجھے امید ہے کہ گذشتہ ہفتے 'فتح' اور حماس کے درمیان جو مفاہمتی معاہدہ ہوا ہے محمود عباس جلد ہی اسے ختم کرنے کا اعلان کریں گے کیونکہ حماس ہولوکاسٹ کی منکر اور اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کا پروگرام رکھتی ہے جبکہ صدر عباس ایسا نہیں چاہتے ہیں۔ وہ ہولو کاسٹ کو ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اس کی مذمت کر چکے ہیں۔

اس سے قبل امریکی میڈیا میں نیتن یاھو کے نام منسوب ایک بیان میں محمود عباس کی جانب سے ہولوکاسٹ کی مذمت پر شک کا اظہار کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابو مازن کو چاہیے کہ وہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے بجائے اسرائیل اور حماس میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ بہ قول نیتن یاہو حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتی ہے۔ ہولو کاسٹ کو حقیقت تسلیم کرنے سے انکاری اور امن کی دشمن ہے۔ اس لیے محمود عباس اپنی پوزیشن واضح کریں کہ وہ امن دشمن قوتوں کے ساتھ ہیں یا امن کے علمبرداروں کے حامی ہیں۔

نتین یاھو کا امن مذاکرات سے انکار


قبل ازیں امریکی ٹی وی "سی این این" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاھو نے کہا کہ ان کی حکومت فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اس وقت تک بات چیت نہیں کرے گی جب تک وہ حماس کو مخلوط قومی حکومت سے الگ نہ کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ محمود عباس کے خیالات میں تضاد دیکھا جا رہا ہے۔ ایک جانب وہ ہولو کاسٹ کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے حماس سے بھی مفاہمت کر لی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے حماس اور الفتح کے درمیان قومی حکومت کی تشکیل کےایک معاہدے کے بعد اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن مذاکرات معطل کر دیے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہولو کاسٹ ایک حقیقت ہے جو عصر حاضر کی انسانی تاریخ پر بدنما داغ اور گھناؤنا جرم ہے۔ انہوں نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کے نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے مبینہ قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔