معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو تباہ کر دوں گا، ہم آبنائے ہرمز پر قبضہ کر سکتے ہیں : ٹرمپ

امریکی صدر کے مطابق "اگر ایران نے لبنان میں اپنے ایجنٹوں کو نہ روکا تو ہم اسے دوبارہ شدید ضرب لگائیں گے".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اشتوک میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے آغاز کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز دوبارہ دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کو تباہ کر دیں گے۔

ٹرمپ نے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں (ایرانیوں) نے معاہدہ نہ کیا تو میں ایران کو تباہ کر دوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ فوکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایرانیوں سے کہا کہ ہرمز بند کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ مذاکراتی وفد واپس نہیں جا سکے گا۔ مزید برآں امریکی صدر نے کل ایرانیوں کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے خبردار کیا تھا۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کے ذریعے زور دیا کہ ایران کو فوری طور پر لبنان میں اپنے ایجنٹوں کو مسائل پیدا کرنے سے روکنا ہو گا۔ ساتھ ہی دھمکی دی کہ اگر ایران نے لبنان میں اپنے ایجنٹوں کو نہ روکا تو جنگ دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے اپنے ایجنٹوں کی حمایت بند نہ کی تو ہم اسے دوبارہ شدید ضرب لگائیں گے، کیونکہ لبنان میں ایجنٹوں کی حمایت بہت زیادہ مسائل پیدا کر رہی ہے۔

فوکس نیوز نے صدر ٹرمپ کے حوالے سے بتایا کہ کہ وہ شام کے صدر کو جنوبی لبنان میں داخل ہونے اور حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے لیے با اختیار بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو کھیل کے اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے ورنہ ہم ایران پر قبضہ کر لیں گے۔ افزودگی سے دست بردار نہ ہونے سے متعلق پزشکیان کے بیان پر ٹرمپ نے کہا کہ "انہیں محتاط رہنا چاہیے"۔

دریں اثنا اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا جس کا مقصد دونوں فریقوں کی طرف سے دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔ اس دوران تہران نے اسرائیل سے لبنان میں حملے روکنے کے اپنے مطالبے پر اصرار کیا ہے۔

قطر نے بورگن اشتوک میں ایران، امریکہ اور پاکستان کی شرکت کے ساتھ پہلے اجلاس کے آغاز کا اعلان کیا۔ قطر، جو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں حصہ لے رہا ہے، نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے پر بات چیت کے لیے تکنیکی اور فنی گروپ تشکیل دیے گئے ہیں۔ ساتھ امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے اجلاس ایک مستقل اور جامع معاہدے کا باعث بنیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں