حزب اللہ کے مقرب سرمایہ کار کا سعودی پرمٹ منسوخ

ریاض کی جانب سے لبنانی شیعہ ملیشیا پر پابندی کا پہلا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب نے لبنان کی شدت پسند شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق رکھنے والی ایک اہم کاروباری شخصیت کو جاری کردہ پرمٹ منسوخ کر دیا ہے۔

مملکت میں حزب اللہ کے کسی مقرب پر تجارتی اور اقتصادی پابندیوں کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ لبنانی نژاد غیر ملکی ٹھیکیدار نے کچھ عرصہ قبل سعودی عرب میں میڈیا کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے کامیاب بولی دی تھی، جس کے بعد اسے پرمٹ جاری کیا گیا تھا۔ تاہم سیکیورٹی اداروں کی جانب سے چھان بین کیے جانے کے بعد اس کا پرمٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اخبار "الشرق الاوسط" نے سعودی وزارت داخلہ کے ایک ذمہ دار ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت اندرون ملک غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ٹھیکے دینے سے قبل پوری طرح ان کی چھان بین کر رہی ہے۔ اگر کسی غیر ملکی کاروباری شخصیت کا کسی دشمن تنظیم سے تعلق ثابت ہو جائے تو اسے سرمایہ کاری کی اجازت نہیں ہو گی. نیز جاری شدہ ٹینڈربھی منسوخ کر دیا جائے گا۔

اسی ضمن میں سیکیورٹی حکام نے ایک لبنانی نژاد کاروباری شخصیت کی چھان بین کی تو معلوم ہوا اس کا تعلق لبنانی عسکریت پسند شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ ہے۔ شام میں حزب اللہ کی بے جا مداخلت اور صدر بشار الاسد کے ساتھ مل کر نہتے شہریوں کے قتل عام کے باعث خلیج تعاون کونسل نے تنظیم کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کو ختم کرنے کی منظوری دے چکی ہے۔

ریاض وزارت داخلہ نے سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہش مند ممالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی سرمایہ کار فرم کے لیے ٹینڈر حاصل کرنے سے قبل اس سے وابستہ اہم عہدیداروں کے کوائف کی چھان بین کرا لیں تاکہ بعد میں کوئی غیر ملکی سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چند ماہ پیشتر خلیج تعاون کونسل[جی سی سی] کے وزرائے خارجہ اجلاس میں حزب اللہ اور اس سے وابستگان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ختم کرنے پر غور کیا گیا تھا تاہم 'جی سی سی' کے بعض رکن ممالک حزب اللہ سے اقتصادی روابط ختم کرنے کے حامی نہیں تھے۔ حزب اللہ کے بارے میں نرم رویہ رکھنے والے ممالک کا کہنا تھا کہ شیعہ تنظیم کے بائیکاٹ کے خطے کی تجارتی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

گذشتہ برس نومبر میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ خلیجی وزراء داخلہ اجلاس میں حزب اللہ اور اس کے مقربین کو خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری کی اجازت نہ دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اسی اجلاس میں خلیجی ممالک میں حزب اللہ کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگادی گئی تھی اور اس سے تعاون کرنے والے افراد اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں