سعودی خاتون ڈرائیوروں کے خلاف سخت اقدام کا انتباہ
سعودی عرب میں حکام نے خواتین کو کاریں چلانے کی صورت میں سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے اور انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔
سعودی عرب میں خواتین کو کار ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے حامی کارکنان اکتوبر کے اوائل سے سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں اور وہ خواتین کو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈرائیونگ کی ترغیب دے رہے ہیں لیکن سعودی حکام اس کی حوصلہ افزائی کے بجائے ترہیب سے کام لے رہے ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ نے جمعرات کو ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ ''جو کوئی بھی،کسی بھی صورت میں خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا اور معاشرتی یک جہتی کو پامال کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے''۔
خواتین کی ڈرائیونگ کے حامی کارکنان انھیں کَہ رہے ہیں کہ وہ کاریں چلاتے ہوئے اپنی تصاویر سماجی روابط کی ویب سائٹس ٹویٹر ،انسٹاگرام ،یوٹیوب اور وٹس اپ پر پوسٹ کریں۔اب تک اس آن لائن پٹیشن پر ستائیس سو افراد دستخط کرچکے ہیں۔
ان کارکنان کا کہنا ہے کہ ہر روز دو،تین خواتین ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنی تصاویر وٹس اپ پر شئیر کررہی ہیں۔ان کارکنان نے خواتین کو 26 اکتوبر کو بڑی تعداد میں کاروں پر سڑکوں پر آنے کی دعوت دی ہے لیکن ان کی اس دعوت پر قانونی کارروائی کے خوف سے خود خواتین کوئی زیادہ پُرجوش نظر نہیں آرہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کسی غیر قانونی مظاہرے سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کو کاریں چلانے کی اجازت نہیں ہے۔گذشتہ سال اکتوبر میں بھی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے حق میں مہم چلائی گئی تھی لیکن سعودی حکام نے خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنان کا یہ مطالبہ مسترد کردیا تھا۔
گذشتہ سال سولہ خواتین کو ڈرائیونگ پر عاید پابندی کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔انھیں متعلقہ پولیس تھانوں میں لے جایا گیا جہاں ان کے مرد رشتے داروں کو بھی طلب کیا گیا تھا اور ان سے یہ بیان حلفی لے کر ان خواتین کو چھوڑ دیا گیا تھا کہ وہ آیندہ انھیں سڑکوں پر آ کر ڈرائیونگ کی اجازت نہیں دیں گے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر قانونی یا شرعی اعتبار سے کوئی پابندی عاید نہیں ہے بلکہ انھیں صرف سخت اخلاقی ضوابط کے تحت ایسا کرنے سے روکا جاتا ہے اور بااثر علماء کرام بھی اس کی مخالفت کررہے ہیں۔