.

سعودی عرب: ساقیٔ شراب کی نوکری کا اشتہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں شراب کی فروخت اور پینے پر سرکاری طور پر پابندی عاید ہے لیکن اس کے باوجود دارالحکومت الریاض میں واقع ایک لگژری ہوٹل نے ساقیٔ شراب کی ایک خالی اسامی کا اشتہار دیا ہے۔

اس ہوٹل نے ساقیٔ شراب کی نوکری کا اسی ہفتے آن لائن اشتہار جاری کیا تھا اور اس کے فرائض میں لکھا تھا کہ درخواست دہندہ منتخب ہونے کی صورت میں شراب بوتلوں میں گاہکوں کو پیش کرے گا، اس کو ہوٹل میں مہیا کرے گا اور اس کا ریکارڈ رکھے گا۔

اس ہوٹل نے بعد میں اس پوسٹ کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا تھا۔ ایک آن لائن سعودی اخبار "سبق" نے اس ملازمت سے متعلق ایک رپورٹ پوسٹ کی ہے۔ اس میں ہوٹل کے نام اور لوگو پر سیاہ روشنائی پھیر دی گئی ہے۔

درایں اثناء میزبانی کے شعبے میں ملازمتوں کے مواقع کی تشہیر کرنے والی ایک ویب سائٹ ہاسپیٹلٹی آن لائن نے رٹز کارلٹن ہوٹل کے کلب کانسریج میں ملازمت کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ درخواست گزار گرم، ٹھنڈے اور الکوحل والے مشروب پیش کرے گا۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اقسام کی شراب کو اسٹور بھی کرے گا۔

الریاض میں واقع رٹز کارلٹن ہوٹل کے تعلقات عامہ کے اسسٹینٹ ڈائریکٹر مرحان المصری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے ہوٹل کی جانب سے خالی اسامیوں کا اشتہار دیا گیا تھا لیکن اب اس پوسٹ کو ہٹا دیا گیا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ گلوبل سسٹم میں غلطی کی وجہ سے اسامیوں کی پوسٹ میں ان کے ہوٹل کا نام آ گیا تھا لیکن اس کا رٹز کارلٹن الریاض پر اطلاق نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ہوٹل سعودی عرب کے قوانین کا احترام کرتا ہے اور ان کی پاسداری کرتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں شراب پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پابندی عاید ہے اور اس کی تیاری، فروخت، کاروبار یا اسمگلنگ ممنوع ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کڑی سزائیں دی جاتی ہیں۔ سعودی قانون کے تحت مے نوشوں کو کوڑے مارے جاتے ہیں اور قید کی سزائیں بھی سنائی جاتی ہیں۔