.

داعش کے مبینہ زخمی خلیفہ کی آڈیو کا اجراء

خلافت میں پڑوسی ممالک تک توسیع ہورہی ہے:ابوبکر البغدادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ ( داعش) نے جمعرات کو اپنے خودساختہ زخمی خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی ایک آڈیو جاری کی ہے۔گذشتہ ہفتے امریکا کے ایک فضائی حملے میں مبینہ طور پر شدید زخمی ہونے کے بعد سے ان کی کوئی خبر نہیں تھی۔

البغدادی نے سترہ منٹ کی اس آڈیو میں داعش کی قیادت کے خلاف امریکا کے فضائی حملے پر براہ راست تو کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔البتہ انھوں نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ داعش اب عراق اور شام سے باہر اور پوری دنیا میں اپنے قدم پھیلارہی ہے۔انھوں نے اپنے خود ساختہ جہاد کا آتش فشاں برپا کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ابوبکرالبغدادی صاحب نے مسلمانوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ''آپ کی ریاست اچھی ہے اور بہترین حالت میں ہے''۔ان کے آڈیو پیغام کا ایک انگریزی متن بھی ساتھ جاری کیا گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ شام اور عراق میں امریکا کی قیادت میں فوجی مہم ناکامی سے دوچار ہورہی ہے۔

العربیہ نیوز اپنے طور پر جہادیوں کی ویب سائٹس پر جاری کردہ اس تقریر کی تصدیق نہیں کرسکتا ہے۔ قبل ازیں اگست میں عراق اور شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں خلافت کے قیام کے بعد ایک آڈیو پیغام جاری کیا گیا تھا۔اس کے بعد سے یہ ان کا دوسرا پیغام ہے۔تب عراق کے شمالی شہر موصل میں وہ ایک مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے پائے گئے تھے۔انھوں نے کہا تھا کہ ''اللہ کے حکم سے مجاہدین کی پیش قدمی جاری رہے گی اور وہ روم جا کر ہی دم لیں گے''۔

عراق کے انٹیلی جنس حکام نے گذشتہ اتوار کو اپنے ذرائع کے حوالے سے امریکی حملے میں بغدادی کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی لیکن اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی تھی۔وہ ہفتے کو علی الصباح عراق کے شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے القائم میں امریکی جنگی طیارے کی بمباری میں مبینہ طور پر شدید زخمی ہوگئے تھے۔ امریکا کی سنٹرل کمان نے ایک بیان میں اس فضائی حملے کی تصدیق کی تھی۔البتہ اس نے حملے کی جگہ کوئی اور بتائی تھی۔بیان کے مطابق ''عراق کے شمالی شہر موصل کے نزدیک داعش کے لیڈروں کے گاڑیوں کے قافلے کو بمباری میں نشانہ بنایا گیا تھا''۔

العربیہ نیوز چینل نے گذشتہ ہفتے ایک نشریے میں مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی جنگی طیارے نے القائم کے نزدیک واقع ایک مکان پر بمباری کی تھی۔وہاں داعش کے سینیر عہدے داروں کا اجلاس ہورہا تھا۔حملے کے بعد متعدد مہلوکین اور زخمیوں کو القائم کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا۔